بہاولپور سے جڑی کچھ یادیں کچھ باتیں

بہاولپور سے اسلام آباد آئے ایک سال سے زیادہ عرصہ ہونے کو آ رہا ہے، اس دوران چاہتے ہوئے بھی قلم اور قرطاس سے ٹوٹا ہوا رشتہ استوار نہ ہو سکا۔ بہاولپور سے جڑی یادوں نے آج قلم اٹھانے پر مجبور کر ہی دیا۔ سو کسی مزید تمہید کے بات شروع کرتا ہوں۔

اس میں شک نہیں ہے کہ بہاولپور ایک مردم خیز خطہ ہے، اس سے تعلق رکھنے والے جن افراد کی مقدر نے یاوری کی وہ ملکی سطح پر جانے مانے گئے لیکن ایسی بہت سی نابغہ روزگار شخصیات ہیں جو بہاولپور کی ہی سطح تک معروف ہوئیں اور اپنا نام بنایا۔ ویسے تو پورا سرائیکی وسیب ہی آم اور کجھور سے زیادہ مٹھاس رکھتا ہے لیکن خطہ بہاولپور اپنی حلاوت کے لحاظ سے ممتاز ہے۔

اس کی بڑی وجہ یہاں کے لوگوں کی اپنی دھرتی سے محبت اور ثقافت سے پیار ہے، بہاولپور کے لوگ اپنی دھرتی کو چھوڑنا نہیں چاہتے۔ بہاولپور میں ایک یہ بات اب بھی مشہور ہے کہ جو بھی دریائے ستلج کا پل عبور کرتا ہے وہ خود کو پردیسی تصور کرنے لگتا ہے۔

ایک بات نسل در نسل بیان کی جاتی ہے کہ حضرت ملوک شاہ نے بہاولپور کی دھرتی کو اپنا مسکن بنایا تو اپنے مریدوں کو پانی دم کرکے دیا اور حکم دیا کہ اسے شہر کے کنوؤں میں ڈال دو جو بھی اس پانی کو پیئے گا اسی دھرتی کا ہو رہے گا، حضرت ملوک شاہ تو چلے گئے لیکن یہ حقیقت اب بھی موجود ہے کہ بہاولپور کے لوگ بہاولپور کی دھرتی پر ہی رہنا چاہتے ہیں۔

اگر بہاولپور ریاست کے دور کی بات کریں تو یہ شہر پانچ دروازوں کے اندر تک محدود تھا، یہ دروازے رات کو بند کر دیئے جاتے لیکن شہر کے سب سے بڑے دروازے (بیکانیری گیٹ) موجود فرید گیٹ کے ساتھ ریاست کی جانب سے ایک بڑی سرائے تعمیر کرائی گئی تھی جہاں رات کے وقت آنے والے مسافروں کو قیام وطعام کی سہولت بلا معاوضہ فراہم کی جاتی تھی۔ یہاں پر آنے والے مسافروں پر بہاولپور کی مہمان نوازی گہرے نقوش چھوڑتی تھی۔

ریاست ختم ہوئے عرصہ بیت گیا لیکن بہاولپور کے لوگوں نے مہمان نوازی نہیں چھوڑی، شاید یہ اور اس طرح کی دیگر اچھی اقدار بہاولپور کے لوگوں کے خون میں شامل ہیں! ایک زمانہ تھا جب اندرون محلہ جات کے مکین ایک بڑی فیملی کی طرح سے رہتے تھے ان کے سکھ ہی نہیں دکھ بھی سانجھے ہوا کرتے تھے۔ اپنائیت کا یہ عالم تھا کہ ایک گھر میں دال کو بگھار لگتی تو ہوا کے دوش پر پورے محلے کو خبر ہوجاتی، کچھ تو بےتکلفی سے خود ہی برتن لیکر پہنچ جاتے جبکہ باقیوں کے گھر دال چکھنے کے لیے خود ہی بھیج دی جاتی۔ یوں ہر گھر میں پکنے والا سالن سب کا سانجھا ہوا کرتا تھا۔

اب بھی محلہ جات کا رنگ بہاولپور کے دیگر علاقوں سے الگ ہے لیکن وقت نے جہاں بہت کچھ بدلا وہاں یہ روایات بھی معدوم ہوتی نظر آتی ہیں۔ میل ملاپ کا یہ عالم تھا کہ شام پڑتے ہی بزرگ اور جوان الگ الگ بیٹھکیں سجا لیتے اور دیر تک مختلف موضوعات زیر بحث رہتے۔ ان بیٹھکوں میں کسی کی غیبت کو معیوب سمجھا جاتا تھا، اگر کوئی ایسا کرتا تو بزرگ اسے ٹوک دیتے۔

یادش بخیر محلے میں نبلے کی ایک چوٹی سی ہٹی ہوا کرتی تھی، نبلا چٹا ان پڑھ تھا لیکن اسے ملکی حالات واقعات میں گہری دلچسپی تھی۔ ملکی حالات سے باخبر رکھنے کے لیے محلے کے پڑھے لکھے نوجوان اسے اخبار باآواز بلند سنایا کرتے، یوں وہ گاہکوں کو  سودا سلف دینے ساتھ ساتھ باخبر بھی ہوجاتا۔ رات کو ہٹی بند کرکے ملکی حالات پر سیر حاصل گفتگو ہوتی۔

سنا ہے وہ بھٹو کا بہت شیدائی تھا، ایک بار کسی گاہک نے بھٹو کے خلاف بات کی تو اس نے خریدا ہوا سودا سلف واپس لیکر دکان پر اسکے داخلے پر پابندی عائد کر دی  تھی۔ محلہ کمیٹی کا اسے جب صدر بنایا گیا تو اس بہاولپور کے ایک مقامی اخبار کو کسی سے بیان لکھوا کر بھجوا دیا جب بیان اخبار میں چھپا تو کسی پڑھے لکھے نوجوان نے اخبار پر انگلی رکھ کر نشاندھی کی کہ یہ آپ کا بیان چھپا ہوا، اس سے خوش ہوکر نبلے نے اس نوجوان کی لال سوڈھے کی بوتل سے تواضع کی۔ بعد میں کچھ منچلوں نے نبلے سے بوتل پینے کے لیے جھوٹ موٹ بیان گھڑ کر سنانے شروع کر دئیے۔ اخبار پر انگلی رکھ کر صرف یہی بتانا ہی تو تھا یہ بیان چھپا ہے، آپ کا اللہ اللہ خیرسلا۔ بہرحال اب محلوں میں بھی ایسے سیدھے سادھے کرداروں سے ملنے کی خواہش تو کی جا سکتی ہے لیکن ملا نہیں جا سکتا ۔

بہاولپور کے فرید گیٹ میں ہی نگار ہوٹل بھی اپنی منفرد شناخت رکھتا ہے۔ یہ بہاولپور کا پاک ٹی ہاؤس تھا ۔ یہاں سینئر اور نوجوان ادیب اور شاعر شام کو سبھا جماتے۔ معروف شاعر المعروف ماما ظہور نظر کا شام ہوتے ہی نگار ہوٹل میں پڑاؤ ہوتا جو رات گئے تک رہتا تھا۔ بہاولپور کے پرانے لوگ بتاتے ہیں کہ نگار ہوٹل سے پہلے ڈان ہوٹل ہوا کرتا تھا یہ بھی ادیبوں اور شاعروں کا مستقل ٹھکانہ تھا۔ مالی مشکلات کے باعث ڈان ہوٹل بند ہواتو یار لوگوں نے نگار ہوٹل میں ڈیرے ڈال دیئے۔ آج بھی نگار ہوٹل تو موجود ہے لیکن اسکی پہلے جیسی حیثیت نہیں کیونکہ نہ وہ لوگ رہے جو اسے آباد کرتے تھے اور نہ پہلی جیسی فراغت ! گویا بقول غالب

دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن

بیٹھے رہیں تصور جاناں کیے ہوئے

والی بات اب خیال و خواب ہوئی! لگتا ہے وقت سب کچھ اپنے ساتھ بہا لے گیا اگر کچھ بچاہے تو بہاولپور کے لوگوں کی روایات جو آج بھی انہیں سب سے منفرد بناتی ہیں۔

بہاولپور کی ہمسائیگی میں موجود لق ودق صحرا جسے مقامی زبان سرائیکی میں روہی کہا جاتا ہے کی اپنی ہی ثقافت ہے۔ روہی جائیں تو ہر طرف خاموشی کا پہرہ محسوس ہوتا ہے لیکن اسکی چپ بھی بولتی ہزاروں برس پہلے کے قصے سناتی ہے، پھر اپنا اندر بھی گفتگو کرنے لگتا ہے، پھر خیال آتا ہے کہ خواجہ غلام فرید نے روہی سے عشق کیوں کیا۔

روہی کے لوگ جنہیں روہیلا کہتے ہیں موسم کی سختیاں نسل در نسل سے جھیل رہے ہیں لیکن مجال ہے انکے لہجوں اور رویوں تک موسم کی سختی در آئی ہوں۔ کئی سال پہلے میں ایک بار مہمان صحافی دوستوں کے ساتھ روہی کی سیر کو گیا تو ایک چھیڑو (سرائیکی میں بکریاں چرانے والے کو کہتے ہیں ) نے پوچھا آپ لوگ لسی پیئں گے؟ گرمی بہت تھی شدت پیاس سے حلق خشک ہورہا تھا سو میں نے جواب اثبات میں دیا۔ بس پھر کیا تھا ہماری پیاس کب کی دم توڑ چکی لیکن  لسی ختم نہ ہوئی۔ میں نے اسے کچھ پیسے دینے کی کوشش کی تو اس نے جواب دیا سر آپ روہی میں ہمارے مہمان ہیں اور مہمانوں سے پیسے نہیں لیتے۔ کاش ہمارے ملک کے رئیس اس غریب چھیڑو کی طرح سوچنا شروع کردیں تو شاید ہوس زر کی ریس تھم جائے۔

بہاولپور سے جڑی یادیں اور باتیں زلف یار کی طرح طویل ہیں! اور مجھے وہ کوزہ ہی نہیں ملا جس میں دریا کو بند کرتا۔ آئندہ کالموں میں ان کرداروں کو احاطہ تحریر میں لاؤں گا جنہوں نے مجھے واقعی متاثر کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site