پولیس میں کون سی اصلاحات ضروری ہیں؟

پاکستان میں پولیس ریفارمز پر ماضی میں بہت گفتگو ہوئی ہے، 2002 کے پولیس آرڈر میں اس حوالے سے ایک اہم کوشش کی گئی تھی مگر یہ بھی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئی۔ پولیس اور عوام کے درمیان موجود اجنبیت اور عدم اعتماد کی خلیج برقرار رہی، عوام کو ہمیشہ سے پولیس سے احساس تحفظ کے بجائے خوف محسوس ہوتا تھا، یہ مسئلہ آج بھی موجود ہے جسے حل کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔

پولیس میں اصلاحات لانے کے حوالے سے کمیونٹی پولیسنگ کے تصور کو کبھی بروئے کار نہیں لایا گیا، عوام اور پولیس دو مختلف جزیرے ہیں جو ایک دوسرے سے فاصلے پر موجود ہیں، ان کے درمیان مستقل رابطہ قائم کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔ اس کے برعکس دنیا میں کمیونٹی پولیسنگ کا تصور کامیابی سے چل رہا ہے جس میں پولیس اور عوام ایک دوسرے سے اس طرح جڑے ہوتے ہیں کہ جرائم پیشہ طبقے کو اس میں اپنا وجود برقرار رکھنا دشوار ہو جاتا ہے۔

اصلاحات کے حوالے سے یہ پہلا نکتہ پر جس پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے، جرائم کے خلاف جب تک پولیس اور عوام کے درمیان باہمی تعاون شروع نہیں ہوتا، نہ ہی اس بنیادی ادارے کی کارکردگی بہتر ہو گی اور نہ ہی عوام کا عدم اعتماد ختم ہو پائے گا، ایسی صورتحال ہمیشہ جرائم پیشہ افراد کے لیے مثالی ہوتی ہے۔

ایسا نہیں ہے کہ تمام تر خرابی کی ذمہ داری پولیس پر عائد ہوتی ہے، اس مسئلے کے بہت سے پہلو ایسے ہیں جہاں حکومتیں اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہیں۔ پولیس میں عملے کی بہت کمی ہے جس کی وجہ سے وہ چوبیس گھنٹے ڈیوٹی پر ہوتے ہیں، انسانی استطاعت سے بڑھ کر کام کرنے کے باعث اہلکار چڑچڑے پن کا شکار رہتے ہیں اور وہ اپنے فرائض پوری تندہی کے ساتھ سرانجام نہیں دے سکتے۔ اگر عملے کی تعداد بڑھا کر شفٹوں میں کام شروع کر دیا جائے تو ماحول بہت بہتر ہو سکتا ہے۔

اسی طرح پولیس کے پاس گاڑیوں اور جدید اسلحہ کی کمی ہے جو ان کی کارکردگی کو محدود کر  دیتی ہے۔ ان کے مقابلے پر موجود جرائم پیشہ افراد ہر قسم کے ہتھیاروں سے مسلح اور نقل و حرکت کے لیے جدید گاڑیاں استعمال کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ پولیس کی برتری کا تصور ایک سوالیہ نشان بنا رہتا ہے۔ حالت یہ ہے کہ زیادہ تر تھانوں میں پولیس کو سٹیشنری کے اخراجات یا تو اپنی جیب سے ادا کرنے پڑتے ہیں یا پھر وہ اس کی رقم شکایت درج کرانے والوں کے ذمہ لگا دیتی ہے۔ پولیس میں اصلاحات کے حوالے سے یہ بظاہر معمولی باتیں نظر آتی ہیں مگر سماج کی وسیع سطح پر دیکھا جائے تو ان کی اہمیت درست پیرائے میں سمجھی جا سکتی ہے۔

اسی طرح دور جدید میں تفتیش کے بہت سے ذرائع ایسے ہیں جن سے پاکستان کی پولیس محروم ہے۔ انہیں جیو فنسنگ کی سہولت میسر نہیں ہے، کیس کی تفتیش کے دوران بہت بار انہیں سیلولر کمپنیوں کے ڈیٹا تک رسائی حاصل نہیں ہو پاتی، اسی طرح تھانوں میں آئی ٹی کے ماہرین کی شدید قلت ہے اور جرائم کے خلاف لڑائی کے لیے اس لازمی شعبے سے پولیس محروم ہے۔ وہ نہ ہی موبائل لوکیشن معلوم کر سکتی ہے اور نہ ہی سوشل میڈیا پر نظر رکھتی ہے جو جرائم کی تفتیش کے معاملے میں جدید دور میں بہت اہمیت حاصل کر چکے ہیں۔

عوام کی سطح پر دیکھا جائے تو ان کے لیے ایک اہم مسئلہ ایف آئی آر کا اندراج ہے۔ حکومت سیاسی وجوہات کی بنا پر جرائم کی شرح میں کمی دکھانا چاہتی ہے اس لیے پولیس سے ایف آئی آر درج کرانے کی حوصلہ شکنی کرنے کا کہا جاتا ہے۔ عوام کو زیادہ تر ایف آئی آر درج کرانے جیسے معمولی کام کے لیے بھی عدالتوں کا رخ کرنا پڑتا ہے جس میں وقت بھی ضائع ہوتا ہے اور وکلا کی فیسوں کی صورت میں بلاوجہ کی رقم بھی خرچ کرنا پڑتی ہے۔

پولیس میں اصلاحات کا ایک اہم شعبہ خواتین اہلکاروں کی عدم موجودگی ہے۔ پاکستان میں خواتین کے مسائل جب تھانے پہنچتے ہیں تو انہیں مرد اہلکاروں کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پولیس کے محکمے میں خواتین کو زیادہ سے زیادہ ملازمتیں دی جائیں تاکہ پاکستان کی آدھی آبادی کو اپنے مسائل کے لیے پولیس کے مرد اہلکاروں کا غیرضروری سامنا نہ کرنا پڑے۔ عوام بھی اسی وجہ سے خواتین کے معاملات میں پولیس سے رابطہ کرنے سے گریز کرتے ہیں اور پاکستان کا ایک مظلوم طبقہ داد رسی سے محروم رہ جاتا ہے۔

ایک اور اہم مسئلہ یہ ہے کہ پولیس کو تفتیش کے جدید طریقوں سے آگاہی نہیں ہے اور انہیں اس حوالے سے ضروری تربیت بھی نہی دی گئی جس کی وجہ سے وہ جسمانی تشدد کے آسان مگر غیرآئینی طریقہ کار کو اختیار کرتی ہے۔ پولیس تشدد پاکستانی معاشرے کی ایک بھیانک حقیقت ہے اور ایک ایسا جرم ہے جسے معاشرے نے خاموشی سے قبول کر لیا ہے۔ پولیس کی حراست میں دیے گئے اعترافی بیان کی عدالت میں زیادہ اہمیت نہیں ہوتی، اسی لیے پاکستان میں جرائم پر سزاؤں کی شرح انتہائی کم ہے۔

کچھ عرصہ قبل ایک مجہول شخص صلاح الدین کا یہ فقرہ کہ “مارو گے تو نہیں” حساس دلوں کو ججنجھوڑ گیا تھا، ان چار الفاظ میں پولیس میں موجود خرابیاں، عوام کا عدم اعتماد، تشدد کا مسئلہ اور تفتیش کے فرسودہ طریقے، سب جمع ہو گئے ہیں۔ اس موقع پر بھی اصلاحات کے لیے بہت شور مچا اور حکومت نے کئی وعدے کیے مگر وہ سب بھلا دیے گئے۔

ایک اور اہم شعبہ جو مسلسل نظرانداز ہو رہا ہے وہ کمانڈو پولیس اور میٹروپولیٹن پولیس کے دو مختلف شعبوں کا قیام ہے، کمانڈو پولیس کا کام مجرموں کے خلاف ایکشن لینا جبکہ میٹروپولیٹن پولیس کے فرائض میں عوام کے ساتھ رابطہ رکھنا اور جرائم کی تفتیش کرنا ہے۔ ان دونوں شعبوں میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کی شمولیت بہت ضروری ہے۔

اسی طرح تھانے کا ماحول اور اس کی اندرونی شکل و صورت تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، تھانے میں پینے کا پانی، کینٹین، فٹنس جم اور لائبریری جیسی بنیادی ضروریات موجود ہونی چاہئیں جن سے پولیس اور عوام دونوں استفادہ حاصل کر سکیں۔ اس سے عوام کے دل سے پولیس کا خوف دور ہو گا اور وہ اپنے مسائل کے حل کے لیے تھانے میں قدم رکھتے ہوئے ہچکچائیں گے نہیں۔

اس کے علاوہ پولیس اصلاحات کے لیے اہلکاروں کی اخلاقی تربیت، قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں احتساب اور سزائیں یقینی بنانا، بین الاقوامی معیارات کے مطابق پولیس کو جدید تعلیم مہیا کرنا، تفتیش کے فرسودہ طریقوں کی جگہ جدید ذرائع کے استعمال اور عوام کو پولیس کی خدمات حاصل کرنے کا کلچر آسان بنانے جیسے پہلوؤں کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

اس حوالے سے ایک آن لائن پیٹیشن پر دستخط کی مہم بھی جاری ہے جس میں بڑی تعداد میں لوگ حصہ لے رہے ہیں۔

ٹیگ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site