‏نیا پاکستان، خواب اور تعبیر

2014 میں 30 اور 31  اگست  کی درمیانی رات طاہر القادری اور پاکستان  تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا نواز شریف کی حکومت کے خلاف دھرنا ڈی چوک داخل ہو گیا۔ اہم حکومتی دفاتر بند ھوگئے، ملازمین دفاتر نہ پہنچ سکے۔ پارلیمنٹ ہاؤس میں داخلے کے راستے مسدود ہو گئے، اس دوران پی ٹی وی پر قبضہ بھی ہوا۔ تب مجھے فرانس میں ایک کانفرنس میں شرکت کی دعوت موصول ہوئی، چنانچہ فرانس کے سفارت خانے میں ویزا کے لیے وقت لیا، کاغذات تیار کئے اور ویزا فیس جمع کی لیکن جس دن ایمبیسی سے رجوع کرنا تھا اس روز دھرنے کی وجہ سے سفارتخانے ایک ہفتہ کے لیے بند کر دیے گئے جس سے بہت سے صنعتکاروں، کاروباری شخصیات، طالب علموں اور دیگر اغراض سے بیرون ملک جانے والوں کا بہت نقصان ہو گیا۔

سی پیک منصوبہ کی پیش رفت کے لیے چین کے صدر نے پاکستان کا طے شدہ دورہ بھی منسوخ کیا۔

اس تمام تر تگ و تاز سے بالآخر کیا حاصل ہوا؟ تبدیلی کے علمبرداروں اور نئے پاکستان کے معماروں نے کنٹینر پر کھڑے ہو کر قوم کو سہانے خواب دکھاتے ہوئے انقلابی ترانے سنائے۔

پولیس ریفارمز سے لے کر عدالتی اصلاحات کا وعدہ کیا گیا، آزاد و خودمختار خارجہ پالیسی کی نوید سنائی گئی، قانون کی حکمرانی، دو نہیں ایک پاکستان کا خوشنما نعرہ دیا گیا، کڑے احتساب اور اشرافیہ کی لوٹ مار کا سلسلہ ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کا عندیہ دیا۔ پروٹوکول کلچر کو ختم کرنے کے وعدے کئے گئے۔

اسی طرح اقتدار میں آنے کے بعد پہلے ہی ہفتے گورنر ہاؤس کی دیواروں کو گرانے کا عزم دہرایا گیا۔ روائتی سیاستدانوں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نجات کی خوشخبری سنائی گئی۔

اشرافیہ اور مافیا کے معاشرے پر منفی کردار پر عوام کو لیکچر سننے کو ملے، انتخابی اصلاحات کے پلان بتائے گئے کہ جن کے ذریعے عام اور درمیانے طبقے کی عوام کی سیاست میں شمولیت کو ممکن بنایا جائے گا۔

مہنگائی اور کرپشن کیوں ھوتی ھے؟ اس کا سوال یہ بتایا گیا کہ جب حکمران کرپٹ ہوں تو ملک میں مہنگائی میں اضافہ ھوتا ھے، عالمی مالیاتی اداروں سے قرض نہ لینے کی قسمیں کھائی گئں۔ قرض لینے کے بجائے خودکشی کو ترجیح دینے کا عزم دہرایا گیا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ عوام تبدیلی کے خوشنما نعرے بڑے غور سے سنتے تھے، فیملیز شام کو دھرنے میں شرکت کرتی تھی لیکن چند سوالات ایسے ہیں جن کے جواب بلند آہنگ نعروں کی دھول میں نظروں سے اوجھل ہو گئے۔

سوال یہ ہے کہ کیا سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین کو انصاف مل سکا؟ جن معاشی سیاسی اصلاحات کا وعدہ کیا گیا، کیا ان پر عمل کیا گیا؟

عوامی تحریک کے ڈاکٹر طاہر القادری تو پیا گھر سدھار گئے۔ البتہ سٹیج پر کھڑے لوگ ضرور صدر،  وزیراعظم،  وزیر اعلیٰ، گورنر اور وزیر بن گئے۔ پاکستان کی ماضی کی سیاسی تحریک کی طرح اس تحریک نے بھی عوام کو دھوکہ دیا اور انہیں استعمال کیا۔ جن غیرسیاسی لوگوں نے سیاست میں کبھی دلچسپی نہیں لی انہوں نے بھی ملکی معاملات اور سیاسی عمل میں دلچسپی ظاہر کی لیکن اب ان کی تبدیلی سے مایوسی ہمارے سیاسی کلچر کے لیے نیک شگون نہیں ہوگی اور وہ لا تعلقی اختیار کرکے گھروں میں بیٹھ جائیں گے۔

اس تبدیلی کا نتیجہ فقط یہی نکلا ہے کہ جمہوریت، میڈیا اور عدلیہ کمزور ہوئے جبکہ مقتدرہ مزید طاقتور ھوئی۔

ٹیگ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site