ماضی کی وبائیں اور کورونا کی دوسری لہر کا خدشہ

کبھی آپ نے ایسی کیفیت کو تصور میں لانے کی کوشش کی ہے جہاں جان بچانے کی بنیادی جبلت دیگر تمام جبلتوں پر یوں حاوی ہو جائے جیسے کوئی عفریت ایک ہی لقمے میں باقی تمام مخلوقات کو ہڑپ کر لے؟ تاریخ کے صفحات میں ایسے واقعات کے انبار لگے ہوئے ہیں جب کسی معاشرے میں موت کا خوف اسقدر حاوی ہو گیا کہ والدین اور اولاد کی محبت جیسی طاقتور جبلت بھی اس افراتفری میں کھو گئی۔

کہتے ہیں کہ ہر صدی میں ایک عالمی سطح کی وبا ضرور پھیلتی ہے جو اپنے پیچھے مردہ اجسام اور رشتوں کے انبار چھوڑ جاتی ہے۔ اگر کورونا کی فیملی سے تعلق رکھنے والی وباؤں کی تاریخ دیکھیں تو 1889 میں فلو یا انفلوئنزا کی وبا پھیلی تھی جس نے دنیا کے مختلف خطوں میں تباہی پھیلائی تھی۔

اس سے اگلی وبا 1918 میں آنے والی مشہور سپینس فلو تھی جس نے ایک اندازے کے مطابق صرف برصغیر میں دو کروڑ افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ اس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اموات کے انبار نے اسقدر دہشت پھیلا دی تھی کہ والدین خوف کے مارے اپنے بیمار بچوں کے قریب نہیں جاتے تھے۔

1889 میں پھیلنے والی وبا ہو یا 1918 کا سپینش فلو ہو۔۔ ان دونوں میں چند خصوصیات مشترک تھیں جن کی روشنی میں کورونا وبا کا بہتر تجزیہ کیا جا سکتا ہے۔ پہلی خصوصیت یہ تھی کہ دونوں وبائیں لہروں کی صورت میں آئیں۔ پہلی لہر سردیوں کے آغاز میں شروع ہوئی اور سردیاں ختم ہونے پر کمزور پڑ گئی۔ اس میں انسانی جانوں کا نقصان تو ہوا مگر وہ اسقدر شدید نہیں تھا کہ لوگ رشتے ناطے ہی بھول گئے تھے۔

اگلے سال گرمیوں کے اختتامی دنوں میں دوسری لہر شروع ہوئی جو سب سے خطرناک ثابت ہوئی کیونکہ وائرس جینیاتی تبدیلیوں کے ذریعے ایک نئی مگر زیادہ مہلک شکل اختیار کر کے لوٹا۔ یہ لہر نومبر سے فروری کے درمیان جاری رہی۔ اس تبدیل شدہ وائرس نے پہلی لہر کے دوران حاصل کی گئی ہرڈ ایمیونٹی کو بے اثر کر دیا۔ انسانی جسم کے لیے یہ نیا دشمن تھا۔ اس لہر نے حقیقی تباہی پھیلائی اور کروڑوں جانیں لے کر رخصت ہوئی۔ اگلے برس تیسری لہر آئی مگر اس وقت تک وائرس کے خلاف ہرڈ ایمیونٹی بڑے پیمانے پر پیدا ہو چکی تھی اور وائرس بھی اپنا مہلک پن کھو چکا تھا۔

دوسری لہر کے مہلک ہونے کی ایک اور وجہ یہ تھی کہ پہلی لہر کے ختم ہونے کے بعد یہی سمجھا رہا تھا کہ وبا کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ اس لیے نئی لہر کو شروع میں معمولی نزلہ زکام سمجھا گیا۔ جب تک اس کی سنگینی کا علم ہوا اس وقت تک یہ اس سطح پر پہنچ چکی تھی جس کے بعد اسے روکنا ناممکن ہو چکا تھا۔

دنیا اس وقت کورونا کی پہلی لہر کا سامنا کر رہی ہے۔ اگرچہ مجموعی طور پر اس کا زور ٹوٹ چکا ہے مگر سابقہ تجربات کے پیش نظر اکتوبر سے دوسری لہر شروع ہونے اور نومبر میں اس کے عروج پر پہنچ جانے کے خدشات موجود ہیں۔ یہ بات اب ثابت ہو چکی ہے کہ کورونا وائرس اپنی ہیئت تبدیل کر چکا ہے اور اپنی ابتدائی شکل سے مختلف صورت اختیار کر چکا ہے۔ ایک ہی شخص کو دو بار کورونا ہونے کے ثبوت بھی مل چکے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کورونا کے خلاف حاصل کی گئی قوت مدافعت وائرس میں آنے والی جینیاتی تبدیلیوں کے خلاف بے اثر ہو چکی ہے۔

پاکستان کی صورتحال دیکھی جائے تو گزشتہ کئی روز سے جتنے لوگ کورونا سے صحتیاب ہو رہے ہیں اس کے قریب قریب نئے مریض بھی سامنے آ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایکٹو مریضوں کی تعداد آٹھ ہزار سے نو ہزار کے درمیان رکی ہوئی ہے، اس سے کم نہیں ہو رہی۔

اگر خدا نخواستہ کورونا کی دوسری لہر اکتوبر سے شروع ہوئی تو ہمارے پاس کورونا کو پوری طرح ختم کرنے کے لیے صرف ستمبر کا مہینہ موجود ہے۔ اس دوران مقامی طور پر پھیلنے والے کیسز کا مکمل خاتمہ کرنا ضروری ہے تاکہ جب دنیا کے کسی خطے سے دوسری لہر کا آغاز ہو تو پاکستان اپنی سرحدوں پر سختی کر کے اسے ملک میں آنے سے روک سکے۔

یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ کورونا کیسز ایک خاص حد سے نیچے رہیں تو اسے کنٹرول کرنا ممکن ہوتا ہے۔ اگر وہ اس سے اوپر چلے گئے تو اس کا سیلاب احتیاطی تدابیر کے تمام بند توڑ دیتا ہے۔

اس لیے عوام کی سطح پر میل جول میں احتیاط، رش والی جگہ پر ماسک کا استعمال اور ہاتھوں کو بار بار دھونا ضروری ہے۔ حکومتی سطح پر ایک طرف کورونا کے ہاٹ سپاٹ پر نظر رکھنا ضروری ہے تاکہ مقامی طور پر وائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکے۔ دوسرے جن ممالک میں اب بھی کورونا بڑی حد تک موجود ہے، وہاں سے آنے والوں پر یہ پابندی عائد کرنی چاہیے کہ وہ اپنے ملک سے تازہ ٹیسٹ ریزلٹ لے کر ہی پاکستان میں داخل ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ بیرون ملک سے آنے والے ہر مسافر کا ایئرپورٹ یا بندرگاہ وغیرہ پر ٹیسٹ لینا لازمی لازمی قرار دے دینا ضروری ہے تاکہ اگر ایک دو روز بعد ریزلٹ مثبت آئے تو اسے قرنطینہ کیا جا سکے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ماضی کے مقابلے میں سائنس بہت ترقی کر چکی ہے، میڈیا کی وجہ سے آگاہی کی سطح بھی کافی بلند ہے اور عالمی سطح پر ایسے ادارے موجود ہیں جن کے ذریعے مختلف ممالک اپنے تجربات ایک دوسرے کے ساتھ شیئر کر سکتے ہیں۔ دنیا کورونا کی دوسری لہر کا مقابلہ کرنے کے لیے ماضی کی نسبت زیادہ تیار ہے لیکن احتیاطی تدابیر ابھی سے شروع کر دینی چاہیئں۔

یاد رکھیں کہ کورونا کی ویکسین پاکستان تک اگلے سال ہی پہنچ پائے گی اور اس دوران اگر کورونا کی دوسری لہر آ جاتی ہے تو ہمارے پاس اس سے بچنے کا کوئی رستہ نہیں ہو گا۔

ٹیگ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site