اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کا المیہ

قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کے شعبہ مائیکرو بیالوجی کو ٹیچنگ اسٹنٹ کی ضرورت ہے۔ اس پوسٹ پر منتخب ہونے والے امیدواروں کو ایم فل یا پی ایچ ڈی کی ڈگری کا حامل ہونا چاہیے مگر تنخواہ صرف 15 ہزار روپے ماہانہ بتائی گئی ہے۔

پاکستان کی حکومت نے مزدور کی کم ازکم اجرت تنخواہ 17 ہزار روپے مقرر کی ہے۔ ایک غیر ہنر مند دہاڑی دار مزدور بھی 8 سو روپے روزانہ اجرت حاصل کرتا ہے۔

ایک قائد اعظم یونیورسٹی ہی نہیں سب یونیورسٹیوں کا یہی حال ہے۔

پرائیویٹ سکولوں میں بھی یہ رواج عام ہے، ایک مشہور زمانہ اسکول چین کے طالب علم نے بتایا کہ 2 ماہ کی فیس 70 ہزار روپے ہے جبکہ سکول ٹیچر کی ماہانہ تنخواہ 20 ہزار روپے ہے۔ جس معاشرے میں اسکول ٹیچر اور اسکول کے باہر تعینات سیکورٹی گارڈ کی تنخواہ برابر ہو وہاں تعلیمی معیار کی ترجیحات کیا ہوں گی؟ اسی اسکول کے مالک کی وزیراعظم عمران خان کو کروڑوں روپے کورونا امدادی فنڈ میں عطیہ کرنے کی تصویر بھی ملاحظہ کی ہوئی ہے۔

جبکہ کورونا کے دوران یہ اسکول طلبہ فیسوں میں رعایت نہ دینے کی غرض سے عدالت رجوع کرتے بھی دکھائی دیے۔

پبلک سیکٹر یونیورسٹیاں طلبہ سے لاکھوں روپے فیس وصول کرتی ہیں۔ لیکن وزیٹنگ اور کنٹریکٹ پر ٹیچرز بھرتی کرکے ان کا معاشی استحصال کرتی ہیں۔ آخر اس معاشی استحصال کی وجہ کیا ہے اور وجوان اسے قبول کرنے پر کیوں مجبور ہوتے ہیں۔؟

اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ عملی زندگی میں قدم رکھتے ہوئے ان نوجوانوں کی پہلی ترجیح گھر والوں پر مزید بوجھ لادنے سے گریز کرنا ہوتا ہے۔

والدین پہلے ہی ان کو اعلیٰ تعلیم دلوانے کی دوڑ میں مقروض ہوچکے ہوتے ہیں۔ بیروزگاری کاٹنے کے دوران عمر میں اضافہ ہو رہا ہوتا ہے اور معقول ملازمت کا امکان بھی مسدود نظر آتا ہے۔

کم قابلیت، مطلوبہ تجربے اور اہلیت سے محروم ریٹائرڈ سول اور عسکری بیوروکریسی کے بااثر لوگ بغیر کسی میرٹ اور شفاف عمل کے آسانی سے اہم عہدوں پر فائز دکھائی دیتے ہیں۔

ویسے تو یہ روش ہر حکومت کے دور میں برقرار دکھائی دیتی ہے۔ لیکن نوجوانوں کو نئے پاکستان کے خواب دکھا کر اور ان کی حمایت سے برسر اقتدار آنے والی جماعت تحریک انصاف کی حکومت کا عزم یہی دکھائی دیتا ہے کہ  ریٹائرمنٹ کے بعد کوئی بیروزگار نہ رہے۔ نوجوان جائیں بھاڑ میں۔ رہے نوجوان تو وہ سوشل میڈیا پر عمران خان، مریم نواز اور بلاول کے جان نثار متوالے اور جیالے بن کر اپنی اپنی سیاسی قیادت کا دفاع کر رہے ہیں اور اپنے مسائل کو اجاگر کرنے میں دلچسپی ہی نہیں رکھتے۔

کمنٹ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site