پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں پیش ہونے والی رپورٹس پر اراکین کا عدم اطمینان

ڈپٹی کمشنر کی عدم شرکت پراظہار برہمی

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین کمیٹی رانا تنویر کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس شروع ہوتے ہی رکن کمیٹی منزہ حسن نے کہا کہ کمیٹی کو پیش کی گئی رپورٹس کے اندر تین تین لائنیں لکھی ہوئی ہیں۔ تفصیلی بریف میں بھی چار لائنیں لکھی ہوئی ہیں۔ میں نے گزارش کر کے آڈٹ والوں سے بریف منگوائی تھی۔ ہائی لائٹ پیرا گراف میں بھی وضاحت نہیں ہے۔

کمیٹی اجلاس میں ایف بی آر کے مالی سال 2012-13 کے آڈٹ اعتراض کا جائزہ لیا گیا۔ پہلے پیرے پر ہی ممبر اکاؤنٹنگ ایف بی آر فہیم الحق نے سپریم کورٹ کے حکم کا حوالہ دیا جس پر حنا ربانی کھر نے سوال اٹھایا کہ آپ نے یہ وضاحت ڈی اے سی میں کیوں نہیں دی تھی؟

انہوں نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کا حکم کب آیا تھا؟ کمیٹی کو بتایا گیا کہ سپریم کورٹ کا حکم  2016ء کا ہے۔ حنا ربانی کھر نے کہا کہ سپریم کورٹ کا حکم 2016ء میں آیا تھا، اب تک کتنی ڈی اے سی ہو چکی ہیں؟ پی اے سی کا وقت کیوں ضائع کیا جا رہا ہے؟

انہوں نے کہا کہ تمام میٹنگز اور ڈی اے سی کے بعد آڈٹ بریف ہمارے سامنے ہے۔

راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ اس طرح کے سارے معاملات ڈی اے سی لیول پر حل ہونے چاہیں۔ ڈی اے سی کے ریمارکس پڑھیں۔ ہر پیرے کے آخر میں ایک جیسے ریمارکس دیے ہوئے ہیں۔

خواجہ آصف نے آڈیٹر جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ڈی اے سی کے ادارے کو فعال کریں۔ سارا بوجھ اسی کمیٹی پر ڈالا جا رہا ہے، ڈی اے سی کیا کر رہی ہے؟

انہوں نے کہا کہ بیورو کریسی نے ہمیں بتی کے پیچھے لگایا ہوا ہے۔ بیورو کریسی کو معلوم ہے کہ 2 سال کے بعد حکومت کی مدت پوری ہو جائے گی، چھ ماہ الیکشن میں گزر جائیں گے، بیورو کریسی سوچتی ہے کہ جب نئی حکومت آئے گی تو نئی کمیٹی اور نئے ممبران آئیں گے، تب کی تب ہی دیکھی جائے گی۔

راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ جو کام ڈی اے سی لیول پر ہونے والا ہے وہ ہمارے سامنے لے کر کیوں آ جاتے ہیں؟

نور عالم خان نے کہا کہ ذیلی کمیٹیوں کی میٹنگ سے پہلے پرنسپل اکاؤنٹنگ افسر لکھ دیتا ہے کہ میں نہیں آ سکتا، اداروں کے سربراہ کمیٹی میں نہیں آتے، جونیئر افسران کو بھیج دیتے ہیں۔

رکن کمیٹی راجہ ریاض نے کہا کہ ڈی جی رینجرز بھی کمیٹی میں نہیں آئے تھے۔ رکن کمیٹی نور عالم خان نے کہا کہ آج بھی کمیٹی میں سیکرٹری نہیں آئے ہیں۔

ن لیگی رکن کمیٹی شیخ روحیل اصغر نے کہا کہ ممبران کے ساتھ ایک خصوصی میٹنگ رکھ لیں۔

حکومتی رکن کمیٹی عامر ڈوگر نے کہا کہ موجودہ پی اے سی نے کافی سارا بیک لاک بھی نکالا ہے۔ 20 برسوں کے پیرے تھے جو کم ہو کر 8 برسوں تک آ گئے ہیں۔

چیئرمین کمیٹی رانا تنویر نے کہا کہ اتنے پرانے پیرے ہیں ان کو کسی نہ کسی طرح نمٹانا پڑے گا۔ اگر گزشتہ 5 برسوں کے پیروں پر پہنچ جائیں تو زیادہ موثر کام ہو سکے گا۔

رکن کمیٹی عامر ڈوگر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر تواتر کے ساتھ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی میٹنگز ہوں گی تو کرنٹ پیروں پر بھی آ جائیں گے۔

نور عالم خان نے کہا کہ افسران بھی نہیں ہیں، سیکرٹری صاحب بھی چلے گئے ہیں۔ چیئرمین کمیٹی رانا تنویر نے کہا کہ انہوں نے میٹنگ میں جانا تھا مجھ سے اجازت لے کر گئے ہیں۔

چیئرمین کمیٹی سے اجازت اور اپنی باری کا انتظار کیے بغیر تمام ممبران بولنے لگے تو چیئرمین کمیٹی نے ارکان کمیٹی کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ ایک ایک کر کے بات کر لیں تاکہ کوئی بات سمجھ میں بھی آئے۔

سردار نصراللہ خان دریشک نے کہا کہ وہ 2002 سے2007 تک استحقاق کمیٹی کے چیئرمین رہے ہیں اور زیادہ تر ممبران کی شکایات افسران کے خلاف ہی ہوتی تھیں۔ کچھ افسران ممبران کو پہلے مل لیتے تھے اور کچھ ممبران آپس میں مل جاتے تھے جس کی وجہ سے کمیٹی میں اچھا خاصا جھگڑا ہوتا تھا۔

انہوں نے کہا کہ پھر میں نے ارکان کمیٹی کو اپنے آفس میں بلوایا اور ہر میٹنگ سے پہلے دفتر میں بیٹھ کر چائے کافی پیتے تھے اور معاملات بھی زیر بحث لے آتے تھے جس کی وجہ سے کمیٹی کا ماحول ٹھیک ہو گیا تھا۔

چیئرمین کمیٹی رانا تنویر نے کہا کہ تمام ممبران اپنے پوائنٹس بنا لیں۔ ہم ان پوائنٹس کو اپنی الگ میٹنگ میں زیر بحث لائیں گے اوراس کا حل نکالیں گے۔ یہ ٹیکنیکل معاملہ ہے۔ میرے آفس میں ایک گھنٹہ بیٹھنے سے بھی معاملہ حل نہیں ہو گا۔

رانا تنویر نے کہا کہ ہم مکھی کو مارنے کے لیے توپ کا استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جن افسران کے خلاف پیرے بنتے ہیں وہ تو چلے جاتے ہیں اور ان کی جگہ پر آنے والے نئے افسران ان کا دفاع کرتے رہتے ہیں۔

راجہ ریاض نے کہا کہ آج سیکرٹری کے بغیر میٹنگ کی تو ایک نئی مثال قائم ہو جائے گی۔ اس طرح تو سب کو ہی پیغام چلا جائے گا۔ ارکان کمیٹی کی رائے سے چیئرمین کمیٹی نے ایف بی آر سے متعلق بریفنگ موخر کر دی۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے آج کے اجلاس میں سینیٹ سیکرٹریٹ ایمپلائزکو آپریٹوہاؤسنگ سوسائٹی اسلام آباد سے متعلق معاملہ بھی زیر غور آنا تھا تاہم ڈپٹی کمشنر کی اجلاس میں عدم شرکت پر کمیٹی نے ناراضگی کا اظہار کیا اور بریفنگ کے لیے آنے والے اٹھارویں گریڈ کے افسر کو سننے سے صاف انکار کر دیا۔

رکن کمیٹی نور عالم خان نے سوال کیا کہ ڈپٹی کمشنر کدھر ہیں؟ وہ خود کیوں نہیں آئے؟ رکن کمیٹی منزہ حسن نے کہا کہ سخت ناراضگی کا اظہار کیا جائے۔

ٹیگ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site