‘پی آئی اے میں فی جہاز ملازمین کی تعداد دیگر ایئرلائنز سے کہیں زیادہ’

پی آئی اے ملازمین کے لیے اچھی خبر

 سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ایوی ایشن کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر مشاہد اللہ خان کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی نے چیئرمین سینیٹ کی طرف سے سی ای او کے اسپیشل اسسٹنٹ کے خلاف ہراسگی کے معاملے کا ان کیمرہ تفصیلی جائزہ  لیا گیا۔

سینیٹر بہرا مند خان تنگی نے 13 نومبر 2018 کو منعقد ہونے والے سینیٹ اجلاس میں نیو اسلام آباد انٹر نیشنل ایئر پورٹ کے منصوبے میں کرپشن کے معاملات اور اس حوالے سے جے آئی ٹی بنانے کے متعلق معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا۔

قائمہ کمیٹی کو  بتایا گیا کہ یہ ایک منصوبہ نہیں تھا بلکہ اس میں بے شمار پیکجز تھے جن پر مختلف ٹھیکیداروں نے کام کیا ہے۔

سیکرٹری سول ایوی ایشن نے کمیٹی کو بتایا کہ نیو انٹرنیشنل اسلام آباد ایئر پورٹ کے منصوبے پر 94 ارب کی ادائیگی کر دی گئی ہے جس میں سے 81 ارب کے پیکجز پر انکوائریاں ہو رہی ہیں۔

سینیٹر بہرا مند خان تنگی نے کہا کہ میں نے یہ مسئلہ ایوان بالاء میں بھی اٹھایا تھا اور اس کمیٹی اجلاس میں مطالبہ کیا تھا کہ جے آئی ٹی بنائی جائے۔ 2 سال ہونے والے ہیں مگر میرے سوال کا جواب نہیں دیا گیا۔

سینیٹر نعمان وزیر خٹک نے کہا کہ ثالثی میں اس طرح کے کیسز نہیں دیکھے جاتے۔ کیبنٹ کمیٹی کی رپورٹ آ جائے تو جائزہ لیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ کمیٹی کے شروع کے اجلاسوں میں ایک مسئلہ اٹھایا تھا کہ ٹیکسی ٹریک کو رن وے بنایا گیا ہے۔ دو رن ویز کے درمیان قانون کے مطابق 4 سے ساڑھے چار کلومیٹر کا فاصلہ ہونا چاہیے مگر نیو انٹرنیشنل ایئر پورٹ کے رن ویز کے درمیان 400 میٹر کا فاصلہ بھی نہیں ہے جو نہ صرف خطرناک ہے بلکہ اس سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا ہے۔

قائمہ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ اراکین کمیٹی کی جانب سے جے آئی ٹی کی تشکیل کا معاملہ وزیراعظم کے سامنے رکھا جائے۔ اراکین کمیٹی نے کہا کہ نیو انٹرنیشنل ایئرپورٹ اسلام آباد کے حوالے سے مختلف انکوائریوں کی رپورٹس سے ملوث لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پی آئی اے کے ملازمین کیلئے رضاکارانہ علیحدگی اسکیم(Voluntary Separation Scheme)  کے معاملے کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔

قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ادارے میں اضافی سٹاف ہونے کی وجہ سے یہ اسکیم متعارف کرائی گئی ہے۔ یہ ایک ایسی اسکیم ہے جس سے ملازمین رضاکارانہ طور پر فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔

چیئرمین کمیٹی مشاہد اللہ خان نے کہا کہ پی آئی اے کی جو صورتحال اس وقت ہے اس وجہ سے ملازمین اس اسکیم کی طرف جا سکتے ہیں۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ پی آئی اے میں کل ساڑھے 14 ہزار ملازمین ہیں۔ قطر ایئر لائن کے 240 جہاز،32 ہزار ملازمین اور فی اوسط جہاز 133 ملازمین بنتے ہیں۔

اسی طرح ایمریٹس کے 269 جہاز، 62 ہزار ملازمین اور فی اوسط جہاز 231 ملازمین، ترکش ایئر لائن کے 329 جہاز، 31 ہزار ملازمین اور فی اوسط جہاز94 ملازمین، اتحاد ایئرلائن 102 جہاز، 21530 ملازمین اور فی اوسط جہاز 211 ملازمین بنتے ہیں۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ اس کے مقابلے میں پی آئی اے میں 29 جہاز،14500 ملازمین اور فی اوسط جہازملازمین 500 بنتے ہیں جو ادارے کے خسارے کی ایک بڑی وجہ ہیں، اگر بیلنس شیٹ سے 500 ارب کے قرضہ جات نکال دیے جائیں تو فرق سامنے آ سکتا ہے۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ رضاکارانہ اسکیم سے 3200 ملازمین کیلئے 12.87 ارب روپے کا خرچ آئے گا اور سالانہ تنخواہوں پر 4.2 ارب روپے کا فرق پڑے گا۔

سینیٹر نعمان وزیر خٹک نے کہا کہ گزشتہ دو برس سے کہہ رہا ہوں کہ کمیٹی کو ایک موازنہ رپورٹ پیش کی جائے کہ وہ کمپنیاں جو منافع میں جا رہی ہیں ان کی ویلیو چین انیلیسز رپورٹ پیش کی جائے۔

قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ادارے کے خسارے کو کم کرنے کیلئے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ادارے کا آڈٹ مکمل ہوگیا ہے۔97 فیصد کمپلائنس رپورٹ آ گئی ہے۔ ایس ایم ایس نہیں تھا وہ بھی بن گیا ہے۔ آیوسا کمپنی کے پاس جا رہے ہیں۔ لائسنس والے ایشو بھی جلد حل جائیں گے۔

اس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ بہتر یہی ہے کہ ان کمپنیوں کے نمائندوں کو یہاں شامل کر کے ایس او پیز تیار کیے جائیں اور ایسا طریقہ کار بنایا جائے کہ مشکوک لائسنسوں کو چیک کر کے  حل کیا جائے۔

ٹیگ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site
\'پی آئی اے میں فی جہاز ملازمین کی تعداد دیگر ایئرلائنز سے کہیں زیادہ\' is highly popular post having 1 Twitter shares
Share with your friends
Powered by ESSB