پی سی بی میں مالی بے قاعدگیوں کا انکشاف، پی اے سی میں احسان مانی سے سخت سوالات

تین فرنچائزز پر پی سی بی کی نوازشیں

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان کرکٹ بورڈ اور پاکستان سپر لیگ کی اسپیشل آڈٹ رپورٹ کا جائزہ ایجنڈے میں شامل تھا۔

کمیٹی اجلاس شروع ہوا تو چیئرمین کمیٹی رانا تنویر حسین نے کہا کہ ابھی پاکستان سپر لیگ کے آڈٹ پیروں کی رپورٹ پیش ہوئی ہے جبکہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی رپورٹ رہتی ہے۔ آڈیٹر جنرل پاکستان نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ابھی پاکستان کرکٹ بورڈ کی آڈٹ رپورٹ پر کام کر رہے ہیں۔

رکن کمیٹی سید نوید قمر نے کہا کہ پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسر نہیں چاہتے کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو کچھ سمجھ آئے۔ جنہوں نے غلطیاں کی ہوتی ہیں وہ کیوں چاہیں گے کہ ان کی غلطیوں کو پکڑ اجائے۔

چیئرمین پی اے سی سے اجازت لے کر جب شیخ روحیل اصغر بات کرنے لگے تو رکن کمیٹی اقبال علی خان نے بھی بات کرنا چاہی جس پر شیخ روحیل اصغر نے انہیں ازراہ مذاق کہا کہ اگر اجازت ہو تو بات کر لوں ویسے آپ سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔

رکن کمیٹی اقبال علی خان نے کہا کہ پی سی بی سے کئی منسلکہ معاملات ایسے ہیں جن کا آڈٹ ہی نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فرنچائز والوں کو رائٹس دیے ہوئے ہیں اور اب فرنچائز والوں نے ان پر کیس کیا ہوا ہے۔ یہ لوگ اسٹینڈنگ کمیٹیوں کو اہمیت ہی نہیں دیتے ہیں۔

آڈیٹر جنرل کی شکایت

جاوید جہانگیر آڈیٹر جنرل پاکستان نے پی سی بی کی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ریکارڈ نہیں دیا گیا۔ ہمیں آڈٹ کے دوران بھی ریکارڈ فراہم نہیں کیا گیا تھا۔ ہم نے کسی طرح ریکارڈ حاصل کر کے یہ 2 رپورٹس تیار کی ہیں۔

رکن کمیٹی اقبال علی خان نے کہا کہ ابھی پی ایس ایل 5 ہوا ہے۔ میں نے لیٹر بھیجا ہے کہ پی ایس ایل 5 میں مکمل جوا ہوا ہے۔

سیکرٹری آئی پی سی نے بتایا کہ انہیں اس وزارت میں آئے ہوئے ایک ماہ ہوئے ہیں۔ مجھے بھی ورکنگ پیپر فراہم نہیں کیے گئے۔ رات گئے تک تیاری کی گئی ہے۔

چیئرمین کمیٹی رانا تنویر نے نے کہا کہ آپ ان کو یہاں لے کر آئے ہیں مگر انہوں نے آپ کو ورکنگ پیپر نہیں دیے جس پر سیکرٹری آئی پی سی نے کہا کہ ان کے ورکنگ پیپر تیار نہیں تھے۔ سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ سیکرٹری صاحب کہہ رہے ہیں کہ رات ہو گئی تھی کیا آپ کو معلوم نہیں تھا کہ کمیٹی میں سوالات کیے جائیں گے۔

چیئرمین پی سی بی احسان مانی پر برہمی کا اظہار

چیئرمین پی سی بی احسان مانی کی کمیٹی نے اس وقت کلاس لی جب انہوں نے کہا کہ وہ ذاتی حیثیت میں ذمہ دار نہیں ہیں، اس پر سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ آپ کیسے یہ بات کہہ سکتے ہیں۔

شیخ روحیل اصغر نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین پی سی بی صاحب آپ جن چیزوں کو دیکھتے ہیں وہ بتا دیں تاکہ آپ سے وہی سوال کر سکیں۔

حنا ربانی کھر نے کہا کہ سیکرٹری صاحب نے آتے ہی اپنی بے بسی ظاہر کر دی ہے انہوں نے مزید کہا کہ کمیٹی میں آنے سے پہلے مکمل بریف ہو کر آنا چاہئے۔ صرف ڈی اے سی کام یہاں نہیں ہو رہا ہے بلکہ اپنے آفس کا کام بھی یہاں کر رہے ہیں۔

رکن کمیٹی نور عالم خان نے کہا کہ یہاں آئے ہیں تو سنجیدہ جواب دیں۔ یہاں آکر کہتے ہیں چیف فنانشل آفیسر جواب دیں گے۔ جب سی ایف او جواب دیں گے تو پھر آپ یہاں کیوں بیٹھے ہیں؟

چیئرمین کمیٹی رانا تنویر نے کہا کہ پرنسپل اکاؤنٹنگ افسر میٹنگ بلوا کر ان کو بریف کرے اور ان کو بتائے کہ چیئرمین پی سی بی ہر بات کا جواب دینے کے ذمہ دار ہیں۔

چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ احسان مانی نے کہا کہ ہمیں ایجنڈا نہیں ملا تھا جس میں پی سی بی کی بریفنگ کا ذکر ہو۔ کمیٹی سیکرٹری نے ایجنڈا پڑھ کر سنای اکہ پہلا ایجنڈا ہی پاکستان کرکٹ بورڈ کی اسپیشل رپورٹ سے متعلق ہے۔

رکن کمیٹی نور عالم خان نے کہا کہ آپ یہاں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں آئے ہیں تو مکمل تیاری کے ساتھ آیا کریں۔ ابھی تک آپ سے یہ نہیں پوچھا ہے کہ جب آپ کرکٹر نہیں ہیں تو پھر پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کیسے بنے ہیں اور آپ سے پہلے جو چیئرمین تھے وہ کیسے بنے تھے۔ آپ کتنی تنخواہ اور کیا کیا مراعات لے رہے ہیں۔

کمیٹی میں پہلے پیرے کو زیر بحث لایا گیا جس میں آڈٹ حکام کی طرف سے بتایا گیا کہ پی سی بی نے پیپرا رولز اور یو این رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فرنچائزوں کی بولی کے بجائے مذاکرات کیے اور 10 برسوں کا معاہدہ کیا جس کی وجہ سے ایک کروڑ 10 لاکھ ڈالرز کا نقصان ہوا۔

اسلام آباد یونائیٹڈ، پشاور زلمی اور کوئٹہ قلندر کی فرنچائز کم قیمت پر نیلام کی گئیں۔ اسلام آباد یونائیٹڈ کے لیے مخصوص کی گئی کم سے کم قیمت 18 لاکھ ڈالرز سالانہ مختص کی گئی تھی جبکہ 15 لاکھ ڈالرز سالانہ پر فرنچائز کو فروخت کی گئی جس کی وجہ سے 3لاکھ ڈالرز سالانہ کا نقصان ہوا۔

پشاور زلمی کے لیے مخصوص کی گئی کم سے کم قیمت 20 لاکھ ڈالرز سالانہ مختص کی گئی تھی جبکہ 16 لاکھ ڈالرز سالانہ پر فرنچائز فروخت کی گئی جس کی وجہ سے 4 لاکھ ڈالرز سالانہ کا نقصان ہوا۔

اسی طرح کوئٹہ گلیدی ایٹرز کے لیے مخصوص کی گئی کم سے کم قیمت 15 لاکھ ڈالرز سالانہ مختص کی گئی تھی جبکہ 11 لاکھ ڈالرز سالانہ پر فرنچائز فروخت کی گئی جس کی وجہ سے 4 لاکھ ڈالرز سالانہ کا نقصان ہوا۔

 کمیٹی کو بتایا گیا کہ پی سی بی نے جب بھی کوئی ٹینڈرڈ کرنا ہو تو وہ ایڈورٹائز کریں گے کسی قسم کی بات چیت کے ذریعے معاملات طے نہیں کریں گے۔ اپنے طور پر یہ فرض نہ کر لیں کہ دوبارہ بولی کی تو کم ریٹ آئے گا۔ پی سی بی نے بھی مذاکرات کیے ہیں۔ جس کی نہ پیپرا اور نہ ہی یو این رولز اجازت دیتے ہیں۔ مخصوص قیمت سے کم کی بولی آنے پر دوبارہ ٹینڈرڈ کرنا ہوتا ہے۔

چیئرمین پی سی بی احسان مانی نے کہا کہ پی سی بی خود مختار ادارہ ہے۔ 4 سال پہلے یہ آڈٹ ہوا تھا۔ تب رولز موجود نہیں تھے اب رولز موجود ہیں۔

سید نوید قمر نے سوال اٹھایا کہ آپ کی تعیناتی کس نے کی؟ پیپرا رولز سے استثنیٰ دکھائیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کوئی پرائیویٹ سیکٹر نہیں جس میں کوئی سیٹھ بیٹھ کر ذاتی فیصلے کر رہا ہوتا ہے۔

جب سیکرٹری سے پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ پیپرا رولز لاگو ہوتے ہیں۔ سیکرٹری بین الصوبائی رابط کمیٹی نے بتایا کہ یہ کہتے ہیں ہم حکومت سے کچھ نہیں لیتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میں اور آڈٹ حکام ایک ہی پیج پر ہیں۔

آڈٹ حکام نے بتایا کہ پی سی بی کے اپنے آئین میں لیز کے رولز نہیں تھے۔ آپ 10 برسوں کے لیے ٹیم لیز پر دے رہے ہیں۔ احسان مانی نے جواب دیا کہ اب ہمارے رولز ہیں مگر یہ آڈٹ 4 سال پہلے ہوا تھا۔ سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ اگر کچھ فروخت کر رہے ہیں تو پھرٹینڈرنگ کرنا ضروری ہے۔

رکن کمیٹی ثناء اللہ مستی خیل نے کہا کہ پرانا پیرا ہے۔ اس وقت کے چیئرمین کو بلوایا جائے اور ان سے پوچھا جائے کہ قوانین پر عمل در آمد کیوں نہیں کیا؟ کیااس وقت جنگل کا قانون تھا۔ کوئی حکومت نہیں تھی؟

رکن کمیٹی نور عالم خان نے کہا کہ اس وقت یہ چیئرمین کی کرسی پر بیٹھے ہیں، یہ جوابدہ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اوگرا، نادرا یا اسلام آباد کلب سب پر ہی پیپرا رولز لاگو ہوتے ہیں۔ صرف چیئرمین اور سیکرٹری جواب دے سکتے ہیں۔

نورعالم خان نے کہا کہ ہم ریکوری کے لیے نہیں بیٹھے ہیں۔ جو قانو ن کو فالو نہیں کرتا اس کو دیکھنے کے لیے بیٹھے ہیں، ان کو پکڑنا چاہئے چاہے وہ کوئی جنرل ہو، وزیراعظم، صدر یا پھر بیورو کریٹ ہو۔

سید نوید قمر نے کہا کہ ہم پرانے پیرے بھی دیکھتے ہیں، پی اے او تمام سوالوں کا جواب دینے کے ذمہ دار ہیں۔ اس پیرے میں ذمہ داری فکس کی جائے کہ کس نے فیصلہ کیا تھا۔

چیئرمین کمیٹی رانا تنویر نے کہا کہ پرنسپل اکاؤنٹنگ افسر انکوائری کر کے 30دنوں میں رپورٹ پیش کریں۔ نور عالم خان نے کہا کہ پی سی بی کے بورڈ ممبران کی تنخواہوں اور مراعات کی تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔

ٹیگ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site