ایک اور بڑی چینی کمپنی امریکہ کی تجارتی جنگ کا ایندھن بن گئی

امریکہ نے چین کی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے خلاف جاری جنگ میں ایک اور معروف کمپنی کو ہدف بنا لیا ہے۔

معروف ٹیکنالوجی کمپنی آنٹ گروپ امریکہ کی جانب سے چین پر لگائی پابندیوں کا شکار بننے جا رہی ہے۔

اس سے قبل چین کی کئی ٹیکنالوجی کمپنیاں امریکہ کی طرف سے لگائی پابندیوں کے سبب اپنا کام سمیٹ رہی ہیں، لیکن آنٹ گروپ امریکہ میں کاروبار کرنے والی معروف چینی کمپنی ہے۔ 

نیوز ایجنسی بلوم برگ کے مطابق گزشتہ ہفتے سے ٹرمپ انتظامیہ آنٹ گروپ پر پابندی لگانے پر غور کر رہی ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے ٹینسینٹ نامی ٹیکنالوجی کمپنی کی میسجنگ ایپ وی چیٹ پے کو بھی فہرست میں شامل کر رکھا ہے۔

معاملے پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ وی چیٹ پے کے ذریعے پیسے بھیجنا اور موصول کرنا آسان بنا دیا گیا تھا۔ امریکی حکومت کو خدشہ ہے کہ میسجنگ ایپ کے ذریعے پیسے بھیجنا ملکی سلامتی کے لیے خطرہ ہو سکتا ہے۔

وی چیٹ دو سال قبل ایک ارب ماہانہ صارفین کے ساتھ معروف میسجنگ ایپس کی فہرست میں اپنا نام درج کرا چکی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق وی چیٹ نامی میسجنگ ایپ کو امریکہ میں پہلے ہی پابندیوں کا سامنا تھا لیکن آنٹ گروپ اور اس کے ذریعے رقوم کی ترسیل پر پابندیاں امریکہ چین کی ٹیکنالوجی جنگ میں جلتی پر تیل کا کام کر سکتی ہیں۔

وی چیٹ پے اور آنٹ گروپ کا علی پے فیچر لاکھوں کی تعداد میں چینی عوام تاجروں کے زیراستعمال ہے، روزانہ ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں لوگ ان ایپس کے ذریعے پیسے بھیجتے اور موصول کرتے ہیں۔ 

ان فیچرز پر پابندیاں آن لائن کاروبار کرنے والی کمپنیوں کے لیے دھچکا ثابت ہو سکتی ہیں۔

شنگھائی میں یونیورسٹی آف نیویارک کے ایک ٹیکنالوجی ماہر کیمرون جانسن کا کہنا ہے کہ امریکی حکام آنٹ گروپ کے حوالے سے پریشانی کا شکار ہیں کیونکہ اس کمپنی نے رقوم کی ترسیل کے جدید طریقے متعارف کرائے ہیں۔ 

آںٹ گروپ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہمیں امریکی حکام کی جانب سے کسی قسم کی پابندیوں کی کوئی خبر موصول نہیں ہوئی۔

یاد رہے اس سے قبل سوشل میڈیا ایپ ٹک ٹاک اور معروف ٹیکنالوجی کمپنی ہواوے کو بھی امریکہ کی جانب سے پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

دوسری جانب ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں اورنج اور پروکسی مس نے بیلجیئم میں فائیو نیٹ ورک قائم کرنے کے لیے نوکیا کا انتخاب کیا تھا۔

رپورٹس کے مطابق امریکہ، چین  تنازعات کے باعث بیلجیئم میں چینی کمپنی ہواوے کو فائیو جی نیٹ ورک قائم کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، حکام کا کہنا ہے کہ ایسا امریکی دباؤ کے تحت کیا گیا تھا۔

ٹیگ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site