سینیٹ کمیٹی میں جعلی نوٹوں، کرپٹوکرنسی کی باز گشت، اصل ماجرا کیا ہے؟

اسلام آباد: سینیٹ خزانہ کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر محسن عزیز کے ایجنڈے کے حوالے سے معاملے کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک نے کمیٹی کو بتایا کہ ملک کے پانچ بڑے بینکوں کے سینئر حکام کو بلایا ہے تاکہ کمیٹی کو تفصیل سے آگاہ کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین سالوں کے دوران صوبہ بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں بہتری کیلئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں کچھ ٹیکنکل مسائل ضرور ہیں انڈسٹری کہیں لگی ہے اور ہیڈ آفس دیگر بڑے شہروں میں قائم ہیں جس سے مسائل پیدا ہوتے ہیں بینک کو مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔

کرپٹو کرنسی

کرپٹو کرنسی کے حوالے سے ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک نے کمیٹی کو بتایا کہ اسٹیٹ بینک پاکستان نے اس پر پابندی نہیں لگائی کچھ ایڈوائزریز جاری کی تھیں تاکہ عوام دھوکہ نہ کھائیں۔

انہوں نے کہا کہ اس میں دھوکے کا اندیشہ ہوتا ہے، یہ لیگل ٹینڈر نہیں ہے اور پاکستان میں تسلیم شدہ کرنسی بھی نہیں ہے۔ آس پاس کے ممالک میں بھی یہ موجود نہیں ہے، ترقی پذیر ممالک اسے تسلیم نہیں کرتے۔

جعلی نوٹ

 سینیٹر محسن عزیز نے ملک بھر میں گردش کرنے والے جعلی کرنسی نوٹوں کی بھر مار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اقدام اٹھانے پر زور دیا اور ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک کو کمیٹی اجلاس میں جعلی نوٹ بھی پیش کئے تاکہ جائزہ لیا جا سکے۔

چیئرمین کمیٹی سینیٹ فاروق ایچ نائیک نے جعلی نوٹ دیکھ کر کہا کہ بالکل معلوم ہی نہیں ہوتا کہ یہ جعلی نوٹ ہیں۔

سینیٹر محسن عزیز نے کہا اسٹیٹ بینک جعلی نوٹوں کے حوالے سے اشتہارات دے اور ایف آئی اے چھاپے مارے

کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاکستان میں پے پال اور ای بے کے حوالے سے اسٹیٹ بینک کی کوئی پابندی نہیں ہے۔

بینکوں کے حکام نے کیا بتایا؟

 ایم سی بینک کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ 4 سال پہلے اسٹیٹ بینک پاکستان نے مختلف بینکوں کو صوبہ بلوچستان اور کے پی کا دورہ کرایا اور ہدایات دیں کہ پانچ سالہ منصوبہ بنا کر بہتری کیلئے اقدامات اٹھائیں جائے۔

انہوں نے کہا کہ صوبہ بلوچستان میں ایم سی بی کی 57 برانچیں اور 40 اے ٹی ایم ہیں، ڈیپازٹ ریٹ 37 فیصد ہے اور کے پی کے میں 41 فیصد ہے۔ کمیونٹی بینکنگ کیلئے اقدامات لئے گئے ہیں میکرو فنانسنگ، اسلامی بینکنگ اور دیگر اقدام بھی لئے گئے ہیں۔

ایچ بی ایل حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ کے پی کے میں اور بلوچستان میں شاخیں قائم کی گئی ہیں اور پورے ملک میں سب سے زیادہ نیٹ ورک اس بینک کا ہے صارفین کو زیادہ سے زیادہ قرض دینے میں متحرک ہیں۔ اسلامک بینکنگ اگلے سال 5 گنا بڑھ جائے گا۔

بینک الفلاح حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ملک کے تمام بڑے شہروں میں نیٹ ورک موجود ہے، چھوٹے شہروں میں بھی کام کیا جاتا ہے اور تمام بینکنگ سروسز فراہم کی جا رہی ہیں، سندھ میں سب سے زیاد ہ اس بینک کی برانچیں ہیں۔

یو بی ایل حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ادارے کی ملک بھر میں 1400 شاخیں ہیں، کپیسٹی بلڈنگ پر خصوصی توجہ دی ہے اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے صوبہ بلوچستان اور کے پی میں اضافی شاخیں بھی قائم کی ہیں سب سے زیادہ زرمبادلہ اس بینک میں آتا ہے۔

نیشنل بینک حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ صوبہ بلوچستان اور کے پی کے میں بھی نیشنل بینک کی شاخیں کام کر رہی ہیں ایک گروپ بنایا ہے جو سمال انڈسٹری کی مانیٹرنگ کرے گا جس میں چھوٹے کارباری حضرات پر بھر پور توجہ دی جائے گی۔

اس پر سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ جو معلومات فراہم کی گئی ہیں وہ انتہائی خطرنا ک ہیں، صوبہ بلوچستان اور کے پی کے ساتھ ناانصافی ہے، یہ مسئلہ میری ذات کا نہیں صوبے کے عوام کیلئے اٹھایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان صوبوں کے قرض کا پورٹ فولیو کم ہوتا جا رہا ہے، صوبہ خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کے ڈیپازٹس کہیں اور جا رہے ہیں یہ صحیح نہیں۔

اس پر چیئرمین کمیٹی سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے سوال پوچھا کہ صوبہ بلوچستان اور کے پی کے ایڈوانسز کم کیوں ہوئے ہیں اور بہتری کیلئے کیا اقدامات اٹھائے گئے ہیں؟ اسٹیٹ بینک نے سپروائزری میں کیا کردار ادا کیا ہے اور ان کو ایڈوانسز نہ دینے کی وجوہات کمیٹی کو فراہم کی جائیں۔

سینیٹر انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ کمیٹی کو بتایا جائے کہ صوبہ سندھ و پنجاب اور صوبہ خیبر پختونخوا و بلوچستان میں قرض دینے کا طریق کار کیا ہے۔

سینیٹر مصدق مسعود ملک نے کہا کہ صوبوں کو ڈیپازٹ سے اُن کا حق نہیں دیا جا رہا، بینک پیسے لیتے ہیں مگر قرض دینے سے قاصر ہیں جس کو ضرورت ہے اُسے قرض نہیں دیا جاتا۔ کمیٹی کو 10 لاکھ، 2 کروڑ، 5 کروڑ اور 10 کروڑ کے دیئے گئے قرض کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔

چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ سسٹم کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے قرض اور ڈیپازٹ کی صوبہ وائز تفصیلات کمیٹی کو فراہم کی جائیں۔

انہوں نے کہا کہ خزانہ کمیٹی کو آگاہ کیا جائے کہ حکومت اور پرائیویٹ سیکٹر نے بینکوں سے کتنا ادھار لیا ہے۔ جوابات کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے گا۔

 کمیٹی نے معاملے کو آئندہ اجلاس تک موخر کر دیا۔

ٹیگ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site