سپریم کورٹ نے بلین ٹری سونامی سمیت صوبائی حکومتوں کے منصوبوں پر سوالات اٹھا دیے

سپریم کورٹ نے ملک بھر کے دریاؤں اور نہروں کے کنارے درخت لگانے سے متعلق وفاق اور چاروں صوبوں سے 4 ہفتوں میں رپورٹس طلب کرلیں۔

عدالت نے حکم دیا ہے کہ دریاوں اور نہروں کے کنارے 6 فٹ سے بڑے درخت لگائے جائیں کیونکہ چھوٹے درختوں کو جانور کھا جاتے ہیں جبکہ 6 فٹ کے درخت لگانے سے دریا اور نہروں کے بند مضبوط رہیں گے۔

سپریم کورٹ نے زیر زمین پانی کے استعمال سے متعلق از خود نوٹس پر سماعت کے بعد مزید احکامات جاری کئے ہیں کہ اسلام آباد میں پانی کے ذخائر بارے رپورٹ بھی جمع کرائی جائے۔

عدالت نے آئندہ سماعت پر چاروں صوبوں اور وفاق کے فارسٹ اور اری گیشن سیکرٹریز کو بھی طلب کر لیا۔

کیس کی سماعت چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔

دوران سماعت جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ نئی گج ڈیم سے متعلق رپورٹ جمع نہیں کرائی گئی جس پر ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے بتایا کہ پنجاب میں دریاوں اور نہروں کے کنارے 2 لاکھ درخت لگا دیئے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ 2 لاکھ درخت بہت کم ہیں اور پنجاب میں 2 فٹ کے درخت لگائے گئے ہیں۔

جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیئے کہ چھوٹے درختوں کو تو بکریاں کھا جاتی ہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسارکیا کہ بلین ٹری سونامی کا کیا بنا؟

جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ جنگلات کی زمین نجی لوگوں کو الاٹ کر دی گئی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کمراٹ، نتھیا گلی اور مری میں درخت ختم ہوگئے، ہمارے ملک میں آئندہ چند برسوں بعد سیاحت بالکل ختم ہوجائے گی، 5 سال بعد ہمارا ملک بحر مردار بن جائے گا، درخت نہ ہونے سے موسم گرم ہوجائے گا اور برف پڑنا بند ہوجائے گی۔

کیس کے دوران ایک وکیل نے عدالت کو بتایا کہ وائس آف امریکہ نے پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی سے متعلق  پر رپورٹ چلائی ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ وائس آف امریکہ سے ہمارا کیا تعلق ہے؟  ہم امریکہ کیوں جائیں درخت ہمارے سامنے کٹ رہے ہیں، سندھ میں کچے کا علاقے میں جنگل ہونا چاہئے۔

محکمہ آبپاشی کے حکام نے عدالت کو بتایا کہ سندھ میں نہروں اور دریاوں کے ساتھ درخت لگائے ہیں جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کہاں لگے ہیں درخت ابھی مجسٹریٹ بھیج کر رپورٹ منگوا لیتے ہیں، سندھ میں کوئی درخت نہیں لگا غلط بیانی نہ کریں، پہلے سندھ میں نہروں اور ہائی ویز کے کنارے گھنے درختوں کی چھت بنی ہوتی تھی۔

ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل بلوچستان نے عدالت کو بتایا کہ بلوچستان میں 40 ہزار درخت لگا چکے رپورٹ جمع کرانی ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ کاغذوں پر درخت نہ لگائیں اور رپورٹ پیش کریں۔ بعدازاں کیس کی سماعت 4 ہفتوں کیلئے ملتوی کردی گئی۔

ٹیگ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site