قدوس صہبائی کی مہارانی سے ڈاکٹر عاصم صہبائی کی مسیحائی تک

ڈاکٹر عاصم صہبائی ایک ایسا خوبصورت کردار ہے جس کی زندگی دُکھی انسانیت کے دُکھ درد بانٹنے میں گزر رہی ہے ۔ عاصم ، معروف صحافی شاہین صہبائی صاحب کے صاحبزادے ہیں اور اس وقت امریکا کے الابامہ کینسر کیئر میں ماہر امراض کینسر و خون ہیں۔ رہتے وہ امریکا میں ہیں لیکن دل ان کا پاکستانیوں کیلئے دھڑکتا ہے۔ ڈاکٹری کے پیشہ سے منسلک ہونے کے باوجود ڈالر کمانے کی بجائے بے آسرا لوگوں پر ڈالر خرچ کرنا ان کا محبوب مشغلہ ہے ۔ میری کبھی ان سے ملاقات نہیں رہی لیکن جو کچھ ان کے بارے میں پڑھا دل میں بہت عزت ہے ۔

ڈاکٹر صاحب کا ایک قرض میں آج بھی اپنے کندھوں پر محسوس کرتا ہوں جب انہوں نے میرے محسن، بھائی رﺅف کلاسرا صاحب کی اہلیہ، ہماری بھابھی کا علاج کر کے انہیں نئی زندگی کی رونقیں عطا کیں۔

اسی طرح اوکاڑہ کا عبدالرحمن جنہیں پاکستان میں ڈاکٹروں نے چند دن کا مہمان کہا ، وہ زندگی کی امید لیے عاصم صہبائی کے پاس پہنچا تو کھل اٹھا ، زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے لیکن عبدالرحمن کے علاج کیلئے جس طرح عاصم صہبائی نے فنڈ ز اکٹھے کیے ، امریکا میں اس کی رہائش کے لیے گھر لیا اور اس کا خیال رکھا یہ معمولی بات نہ تھی ، یہ اور بات کہ عبدالرحمن کو زندگی نے مزید مہلت نہ دی اور وہ آج اوکاڑہ میں آسودہ خاک ہے لیکن جو کچھ انہوں نے عبدالرحمن کی زندگی بچانے کیلئے کیا وہ مسیحائی کا خوبصورت روپ کہلا سکتا ہے۔

پاکستان سے کئی اور بھی ایسے مریض وہاں علاج کی غرض سے گئے جن کی مدد کیلئے ہر وقت ڈاکٹر صاحب کمر بستہ رہے ، میں نے فیس بک پر ان کی جانب سے مریضوں کے علاج کے لیے فنڈ ریزنگ کی کئی اپیلیں دیکھیں جس میں مخیر دوست احباب دل کھول کر عطیات دیتے ان میں میاں مشتاق احمد جاوید کا نام ہمیشہ نمایاں نظر آیا ۔

 ڈاکٹر صاحب کے بیٹے اپنی جیب خرچ اور عید کے پرمسرت موقع پر ملنے والی عیدی بھی مریضوں کی زندگی بچانے کیلئے عطیہ کر دیتے ، یہ ڈاکٹر صاحب کی اپنے بچوں کی خوبصورت تربیت کا ثبوت ہے کہ بچپن میں ان کے دل میں دُکھی لوگوں کا سہارا بننے کی جوت جگا دی۔

وہ اکثر جب اپنے کسی مریض کو سر توڑ کوششوں کے باوجود نہیں بچا پاتے تو بہت ڈپریس دکھائی دیتے ہیں ، خود کوبہت تکلیف میں محسوس کرتے ہیں، لیکن زندگی کے فیصلے اللہ رب العزت کی ذات کرتی ہے ، یہ انسان کے بس کی ہرگز بات نہیں ۔

پچھلے دنوں ڈاکٹر عاصم صہبائی کا فیس بک پر میسج تھا کہ اپنا ایڈریس بھیجیں ایک کتاب بھجوانی ہے، میں سمجھا شاید انہوں نے ڈاکٹری پیشہ سے متعلق اپنی تصنیف بھیجنی ہوگی۔ چند دن بعد ایک پیکٹ ٹی سی ایس سے ملا ، کھول کر دیکھا سامنے ” میری رانی ، میری کہانی “ تھی ۔ یہ کہانی قدوس صہبائی صاحب نے لکھی تھی جو شاہین صہبائی صاحب کے والد اور عاصم صہبائی کے دادا تھے ، پڑھنے میں دلچسپی اور بھی بڑھ گئی جب کتاب کے سرورق پر تحریر تھا ’سعادت حسن منٹو کے اصرار پر لکھی گئی سرگزشت‘۔

یہ کہانی کوئی معمولی کہانی نہیں۔ یہ کہانی ہے چھتیس گڑھ کی ہندو مہارانی وجے روپ کی جس کے مہاراجہ چند ماہ کی رفاقت کے بعد ایک دردناک حادثہ میں یہ جہاں چھوڑ گئے اور اس گھاﺅ سے مہارانی کا رنگ و روپ ماند پڑگیا ۔ جب کتاب کھول کر پڑھنی شروع کی تو 294 صفحات کی یہ خوبصورت کتاب مکمل کر کے چھوڑی۔ ایک ایک باب کمال خوبصورتی سے لکھا گیا، پڑھتے پڑھتے کہیں چہرے پر خوشی کے آثار تو کہیں دُکھ نمایاں ہوجاتا ہے۔

انداز تحریر کمال ہے ، ایسے محسوس ہوتا ہے کہ آپ کتاب کے کرداروں کے ساتھ ساتھ گھوم رہے ہیں ۔ قدوس صہبائی قیام پاکستان سے قبل کئی اہم اخبارات کے ایڈیٹرز رہے ، زندگی کو اپنے انداز سے بسر کیا، بنیادی طور پر آزا د اور انقلابی روح تھے ۔

ایک موقع پر بیمار ہو کر صحت یابی کے لیے سیاحتی مقام پر گئے تو اسی مہارانی کے دیوانے بن گئے جو مہاراجہ کے دنیا سے چلے جانے کے بعد اپنی ریاست میں ایک اوتار کا روپ دھار چکی تھی، وہ وہاں کتنا عرصہ رہے اور کیا کچھ ان پر گزری سب پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے۔

اس کہانی میں ذکر ہے کوڑیا کی پہاڑیوں کا جہاں رانی جھولا کے پوائنٹ سے دو تین سو گز کے فاصلے پر مہابن کا وہی پیارا پیارا ، وہی حسین، وہ خوفناک اور تاریک جنگل ہے جہاں مہارانی وجے روپ ، قدوس صہبائی کو شکار کیخلاف لیکچر دینے کیلئے لے جاتی ہے ، یہ قربت آہستہ آہستہ پیار میں بدلتی ہے اور یہ پیار دیوانگی کی حد تک جا پہنچتا ہے ۔

ریاست کی مہارانی اور بے مقام اخبار نویس کی محبت پوری ریاست کے لیے امتحان بن جاتی ہے ۔ اس کہانی میں وجے روپ ایک مقام پر قدوس صہبائی کی بات بہت غور سے سننے کے بعد کہتی ہیں ”زندگی کے اتنے بڑے بڑے واقعات کوئی نہیں بھول سکتا لیکن واپس جانے کی بات ضروری ہوگئی ہے ۔ یہ واپسی ہمیشہ کے لیے نہیں۔ میں واپس آﺅں گی ضرور۔ تمہارے پاس واپس آﺅں گی ۔ کہاں ، یہ نہیں معلوم ۔ جہاں بھی تم مل سکو گے ۔۔۔ تم نے میرے لیے بہتر مستقبل ،عیش و آرام ،ایک خوبصورت بیوی اور اب اپنے وجود کا حسن بھی کھودیا ہے۔ میں یہ سب کچھ نہیں بھول سکتی ۔تم ضرور اچھے ہوجاﺅ گے ۔اس کے بعد پھر تم میرا انتظار کرنا ۔۔۔“۔

قدو س صہبائی لکھتے ہیں کہ ”میں اور وجے روپ اگر رفاقت ِ حیات میں ہمیشہ کے لیے نہ بندھ گئے تو اس محبت کی ناکامی میرے لیے بڑی الم ناک ہوگی ۔ مجھے یہ بھی یقین تھا کہ خود وجے روپ کے ذہن میں بھی محبت کا کوئی دوسرا تصور موجود نہیں اور رنگ روپ ، جوانی ، حسن اور بانکپن کی ادائیں جو آنکھوں کے راستے دل کو بھا جائیں وہی محبت کو والہانہ جنون میں بدل دیتی ہیں اور جنونِ محبت کا علاج وصل کے سوا دوسرا نہیں ۔

 اس کہانی میں کئی اہم موڑ آتے ہیں ۔ایک جگہ مہارانی وجے روپ کے والد قدوس صہبائی سے اپنی بیٹی کے زندگی کی طرف لوٹ آنے کی التجا کرتے نظر آتے ہیں۔ ایک اخبار کا ایڈیٹر ، انقلابی انسان ، وجے روپ سے بچھڑ کر کلکتہ کے ایک اخبار میں کیسی زندگی گزارتا ہے؟ قدوس صہبائی لکھتے ہیں کہ ”کلکتے میں مجھے پورا سال گزر گیا ، گردشِ حیات جاری تھی اور کروڑوں انسانوں کی طرح موت و حیات کے دریائے ذخار میں میں بھی ایک تنکے کی طرح بہے چلا جارہا تھا۔ دُنیا میں کبھی میں نے کلکتے سے زیادہ خود کو اکیلا بالکل تنہا محسوس نہیں کیا ۔

انہوں نے لکھا کہ انسانی زندگی کی شاید سب سے بڑی ٹریجڈی یہی ہے کہ اس کے دوست اسے چھوڑ جاتے ہیں اور وہ تنہا رہ جاتا ہے ۔ کلکتے میں صحافی مصروفیتوں کے سوا کسی دوسری مصروفیت کا مجھے تصور بھی نہ آتا تھا ۔ یہ کمرہ کیا تھا ، مکمل کباڑ خانہ ،جس کی کسی چیزمیں بھی ترتیب نہ تھی ۔میز پر اخباروں کے فائل بھی تھے ،کتابیں بھی ، ردی بھی ، تیل کا چولہا بھی اور کیروسین کی بوتل بھی ۔کھانے کے لیے ڈبل روٹی بھی ،میلے کپڑے بھی اور دیواروں پر کھٹملوں کے خون کے نشان بھی ۔کیلوں میں لٹکے ہوئے کپڑے اور اخباروں کی فائل زندہ کھٹملوں کی پناہ گاہیں تھیں ،ایک بید کی کرسی تھی ، ایک آہنی پلنگ ،ایک کتابوں کا شیلف ، کمرے میں دفترکے کسی نوکر کے سوا کبھی کوئی ملنے نہ آتا تھا ۔

 یہ احساس ہی نہ رہا تھا کہ زندگی میں ترتیب ، باقاعدگی اور نظم و ضبط بھی کوئی چیز ہے ۔ بغیر کوئی تکلیف محسوس کیے ، بغیر کسی سے کسی تکلیف کا اظہار کیے میں تیرہ مہینے اسی کباڑ خانے میں مقیم تھا “۔

میں اس کتاب بارے مزید لکھنا چاہوں تو شاید کئی صفحات کم پڑ جائیں لیکن تحریر کی درازی دیکھ کر خیال آ رہا ہے کہ قاری اُکتا کر اسے پڑھنا ہی نہ چھوڑ دے ۔۔ ہندو راجپوت عورت اور مسلمان مرد کی محبت کا بالآخر انجام کیا ہوا ؟ یہ اس کہانی پڑھنے والے ہر شخص کا سوال ہوتا ہے ۔

اب آپ بھی اس سوال کا جواب چاہتے ہیں تو یہ کہانی بڑے اہتمام کے ساتھ پڑھنی ہوگی جسے صرف پڑھنا نہیں محسوس بھی کرنا ہے۔ لہٰذا امید کرتا ہوں جو ادب دوست اس کتاب کو پڑھیں گے امید ہے وہ بڑی دیر تک اس کے سحر سے خود کو جدا نہ کر پائیں گے ۔

عمربھر درد کے شعلے ہی محبت سے ملے

ہم کو تیرے لب و رخسار کی جنت نہ ملی

ٹیگ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site