پسند کی شادی پر بیٹی کی مارپیٹ، مسلمان خاندان کو فرانس سے نکال دیا گیا

پیرس: فرانس میں نوجوان لڑکی پر تشدد کرنے والے بوسنیا کے مسلمان خاندان کو ملک بدر کر دیا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بوسنیا سے تعلق رکھنے والے ایک خاندان نے اپنی بیٹی کو پسند کی شادی کی خواہش کرنے پر تشدد کا نشانہ بنایا۔

گھر کے افراد نے شامی لڑکے سے شادی کی خواہشمند لڑکی کے بال منڈوا کر اسے مار پیٹ کا نشانہ بنایا۔

فرانس کی وزارت داخلہ کی جانب سے بوسنین خاندان کو ڈی پورٹ کرنے کی تصدیق کی گئی۔

وزارت داخلہ کے مطابق فرانس کے مشرقی شہر بیسنکون میں ایک گھر کے پانچ افراد کو لڑکی پر تشدد کرنے کے جرم میں بوسنیا بھیج دیا گیا ہے۔

ہفتے کی صبح فرانس کی وزارت داخلہ کے ترجمان نے بتایا کہ گھر والوں نے لڑکی کو کسی دوسرے مذہب کے لڑکے سے پسند کی شادی کا اظہار کرنے پر مارا۔

وزارت داخلہ کے مطابق متاثرہ لڑکی کو سوشل سروس سینٹر منتقل کر دیا گیاہے کہ بالغ ہونے پر اسے فرانس کی شہریت دی جائے گی۔

واضح رہے کہ فرانسیسی میڈیا نے اگست میں بوسنین لڑکی پر تشدد کے واقعے کو رپورٹ کیا تھا۔ میڈیا کے مطابق متاثرہ لڑکی عیسائی لڑکے سے شادی کرنا چاہتی تھی۔

میڈیا پر خبر رپورٹ ہونے کے بعد وزارت داخلہ کی جانب سے فوری ایکشن لیتے ہوئے گھر کے پانچ افراد کے خلاف کیس درج کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ یورپ جانے والے مسلمان تارکین وطن کے لیے اپنی نئی نسل کو مغربی ماحول سے بچائے رکھنا ایک بڑا چیلنج ہے۔

فرانس میں مسلمانوں کی تعداد کل آبادی کا 8.8 فیصد ہے جس کی وجہ سے دیگر یورپی ممالک کے برعکس فرانس سنجیدہ قسم کی اندرونی کشمکش کا شکار ہے، تہذیبی اقدار کا فرق مختلف شکلوں میں سامنے آتا رہتا ہے۔

مسلمان اکثر یہ شکایت کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ انہیں حجاب اور دیگر ثقافتی علامات کے اظہار سے جبراً روک دیا جاتا ہے جبکہ فرانسیسی شہری مسلمانوں کی بڑھتی تعداد کو اپنی اقدار کے لیے خطرہ محسوس کرتے ہیں۔

ٹیگ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site