ایمازون کے نمائندوں کا بھارت کے پارلیمانی پینل کے سامنے پیش ہونے سے انکار

ایمازون کے نمائندوں  نے بھارت میں پرائیویسی بل پر نظرثانی کرنے والے پارلیمنٹری پینل کے سامنے پیش ہونے سے انکار کر دیا ہے۔

معروف امریکی کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ سب ایک غلط فہمی کا نتیجہ تھا۔

بھارتی حکومت کے پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن بل پر نظر ثانی کرنے والے  پینل کی سربراہ میناکشی لکھی کا کہنا ہے کہ اگر ایمازون کے نمائندے 28 اکتوبر سے پہلے پیش نہیں ہوئے تو ان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

حکام کے مطابق اس بل سے کچھ غیرملکی ٹیکنالوجی  کمپنیوں کو ممکنہ طور پر مسائل ہو سکتے ہیں، یہ بل ان کمپنیوں کے ڈیٹا کو محفوظ کرنے کے طریقہ کار کو تبدیل کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ 

پینل کی سربراہ میناکشی لکھی  کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ ایمازون کا بھارت میں وسیع کاروبار ہے، لیکن اگر اس کے نمائندے پینل کے سامنے پیش نہیں ہوتے تو ان کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔

میناکشی لکھی کی جانب سے اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ پینل کس قسم کی کارروائی کا مجاز ہے۔

پینل کے ریمارکس پر ایمازون کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم پینل کے ساتھ رابطے میں رہیں گے۔

ایمازون کا کہنا ہے کہ ہم اپنی کمپنی کی پوزیشن سے متعلق غلط فہمی کو دور کرنے کی کوشش کریں گے۔ 

ایمازون کے ترجمان کا کہنا تھا کہ کورونا کے دوران سفری پابندیوں کے باعث ہمارے ماہرین کی عدم موجودگی کی وجہ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہو سکے۔

یاد رہے گزشتہ روزسماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک کے نمائندے نے پینل کے سامنے پیش ہوئے تھے۔

مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی جانب سے ٹویٹر کے نمائندے کو 28 اکتوبر کو طلب کیا ہے۔

پینل کے ایک اور فرد نے بتایا ہے کہ ڈیجیٹل پے منٹ فرم پےتم اور گوگل کے نمائندے کو 29 اکتوبر کو بلایا گیا ہے۔

پینل کے رکن کا کہنا تھا کہ اگر کسی کمپنی کا نمائندہ طلب کی گئی تاریخ کو پیش نہیں ہوتا تو یہ پارلیمنٹ کے استحقاق کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس صورت میں نمائندوں کو جیل بھی بھیجا جا سکتا ہے۔

واضح رہے بھارتی حکومت ملک میں کاروبار کرنے والی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حوالے سے اصول و ضوابط وضح کر رہی ہے، اس حوالے سے ٹیکنالوجی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات کمپنیوں کے مفاد کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

ایسے وقت میں جبکہ بھارت میں روایتی میڈیا کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھی جبر کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے، پاکستان ان کمپنیوں کو سہولتیں اور آزادی فراہم کر کے اپنے ملک میں بھاری سرمایہ کاری لا سکتا ہے۔

ٹیگ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site