اور ہوس ہو تو جہاں سارے کا سارا کم ہے

البرٹ کامیو کا کہنا ہے کہ انسان کے دل سے بغض اور لالچ کا خاتمہ، ضروریات زندگی پر اکتفا اور عدم تحفظ کا احساس ختم ہوجائے تو زمین ‘جنت ارضی کا نمونہ بن سکتی ہے۔

کورونا سے لاکھوں افراد لقمہ اجل بن گئے، کروڑوں اربوں کا نقصان ہوا، ہم نے کیا سیکھا؟ چال بدلی نہ کچھ کھونے کا ملال پیدا ہوا۔ انسانیت کو کورونا کا جھٹکا لگا تو محسوس ہی نا ہوا کہ کیا ہوا؟

جیسے ایکسیڈنٹ کے وقت کسی قسم کا کوئی درد ہی نہیں ہوتا، خواہ ٹانگ ہی کیوں نا ٹوٹ جائے۔ زخم کا گھاؤ کتنا ہی شدید کیوں نا ہو، بعد میں پتہ چلتا ہے کہ کیا ہوا؟ کورونا کا زخم کچھ ایسا ہی نہیں ہے۔ ذاتی معیشت غریب کا کفن بن کر رہ گئی ہے، گھر کا کرایہ ہے تو خرچہ نہیں، خرچہ پورا کرو تومکان کا کرایہ نہیں۔

آدمی کو بھی میسر نہیں انسان ہونا!

اور تو کچھ نہیں کیا، انسان نے بس نیچر کے ساتھ تھوڑی سی چھیڑخوانی شروع کر رکھی تھی، صرف چھیڑخوانی پر ہی موقوف نہیں، نیچر کا سارانظام الٹ پلٹ کررکھ دیا۔ بے انتہا گند پھیلایا، اتنی آلودگی پھیلائی کہ اوزون کی تہہ چاک ہوگئی، ساری دنیا کو زہر سے بھر کے رکھ دیا، انسان نے انسان پر ظلم کے پہاڑ توڑڈالے تو نیچر کو جلال آ گیا، لیکن ہم نے کورونا سے کیا سیکھا؟

ایک بھوکے نے جوروٹی کا کہا ٹھیک کہا!

کروڑوں، اربوں ڈالر اسلحے کی تیاری، خرید وفروخت اوربناوٹ سجاوٹ پر پھونک ڈالے، غریب کے لقمے کی کسی نے فکر نا کی، غریب کی موت کا سامان تو ارزاں کیا، اس کی زندگی کے بارے میں کسی نے نا سوچا۔ سمندروں، پہاڑوں، انسانوں، حیوانوں اور جنگلوں بیابانوں پر کارپٹ بم باری کرکے انھیں سرما بنا ڈالا، فضا میں زہر اوزمین پر قہر پھیل گیا تو نیچر کو جلال آگیا، لیکن ہم نے کورونا سے کیا سیکھا؟

ہے کہاں تمنا کا دوسرا قدم یارب!

انسان جنگلوں، بیابانوں کو روندتے اور انسانوں، جانوروں کو تہ تیغ کرتے چلے گئے، کروڑوں کے مربعے اور بینک بیلنس بنائے، انسان نے شہر شہر میں کوٹھیاں، بنگلے اور کاروں کے بیڑے بنائے یکن حرص وہوس ختم نا ہونے پائے۔

سینکڑوں ایکڑ اراضی اور اربوں کا بینک بیلنس کوئی جیب میں ڈالے پھرتا ہے کیا؟ ایک احساس ہی تو ہے، غربت کا احساس، محرومی کا احساس، زبوں حالی، پامالی اور درماندگی کا احساس، لاکھوں ڈالر اکٹھے کرکے پھر بھی ختم نا ہو پایا، مریخ اور چاند پر پلاٹ بک ہونے لگے۔ پیاس بڑھتی چلی گئی۔ رفتار تیز تر ہے مگر سفر آہستہ آہستہ۔

صرف ایک احساس،ایک خیال اورایک تصور کی خاطر!

یہ مربعوں پر محیط زمین میری، یہ زمین میری، یہ اثاثہ تیرا، کا احساس پیدا کرنے کے لیے نسلوں کے درمیان مقدمہ بازی ہوتی رہتی ہے، ہزاروں لاکھوں انسان ایک خطہ ارض کے حصول کیلئے خون میں نہا جاتے ہیں، حال ایں جا رسید کہ مرنے اور مارنے والے قضیے سے قبل اور مابعد کیا حاصل کرپاتے ہیں؟ اس کا جواب گلے پیرے میں آپ کومل سکتا ہے دواوردو پانچ کا چکر!

آپ ایک سال میں کتنے سوٹ پہن لیں گے؟ پچاس سال میں لباس پر کتنا خرچ آجائے گا؟ سال بھر میں کتنی روٹی کھا جائیں گے آپ؟ پچاس برس میں کتنا کچھ کھا جائیں گے؟ سب ٹھاٹھ پڑا رہ جائے گا، بس آپ نہیں رہیں گے۔ جب زمین، زمین پر اور جائے داد اور بینک بیلنس اپنی جگہ پر پڑے رہ جائیں گے تو انسانیت کو خون میں نہلانا، خود لاعلاج مرجانا اور بھوک سے کسی پر زندگی ارزاں کرنا چہ معنی دارد؟ گوتم بدھ کا نام قائم ہے، جاگیر اور جاگیردار دونوں کا انتقال ہوگیا، اناللہ وانا الیہ راجعون

ہم نے دشت امکاں کو ایک نقشِ پا پایا!

دنیا کا کوئی بڑے سے بڑا حکمران، زرداری اورنوازشریف تو کجا خواہ ماضی کا ہٹلر ہو، مسولینی یا نیپولین، دھن دولت جیب میں ڈال کر نہیں لے گیا، سکندرجب دنیا سے گیا، دونوں ہاتھ خالی تھا۔

ہیں خواب میں ہنوز جوجاگے ہیں خواب میں!

یہ ہماری چوتھی نسل ہے جو روٹی کپڑا مکان کو ترس رہی ہے،پہلے ایک پلیٹ سالن کو صرف ایک آدمی کھاتا تھا،اب پلیٹ کے گرد دوآدمی بیٹھے ہیں،ایک پلیٹ ایک آدمی والی عیاشی ماضی کا قصہ ٹھہری،کبھی کبھی ایک پلیٹ سالن تین افراد بھی کھاتے دیکھے گئے ہیں۔

عمران خان! پلیٹ کے گرد افراد کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔عوام کب تک آپ اور آپ کے ہم نواؤں کی بیان کردہ کرپشن کی کہانیوں پر تالیاں پیٹتے رہیں؟ بھلا کہانیاں سننے سے کبھی پیٹ بھرتا ہے کیا؟ اقتدار کی میوزیکل چیئر کا جادوگر اپنی چھڑی ہلاکر کبھی آئی جی اور کبھی کبھی وزیراعظم تک غائب کردیتاہے۔

میوزیکل چئیر میں واحد جادوگر ہی نظر آتا رہتاہے۔ باقی کا پورا پاکستان محو خواب ہوجاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ جاگ رہا ہے۔

فرمودات عمرانیہ اور اپوزیشن کا بیانیہ:

عمران خان نے پھر وہی کہہ ڈالا ٗجو وہ گزشتہ پچیس سال سے فرماتے چلے آرہے ہیں اور اپوزیشن یہی کام پچھلے 73  برس سے کرتی چلی آرہی ہے۔ کیا فرماتے ہیں؟ آپ بھی سنیے اور سر دھنئے۔مہنگائی ایک ہفتے بعد ختم ہوجائے گی۔

بینک پانچ فی صد سود پر گھر بنانے کا قرضہ دے گا، میں انہیں نہیں چھوڑوں گا، خواہ اقتدار میں نہ رہوں۔عوام کو ان کے خلاف سڑکوں پر لاؤں گا۔

عوام بجاطورپر سوچتے ہیں کہ جب کھانے کو روٹی اور کمانے کو روزگار نہیں، تو مکان کہاں سے بنے گا؟ قسطیں کون ادا کرے گا؟ ہمیں مکان سے پہلے کھانے کو روٹی چاہییے۔

خالی پیٹ رہ کر آسودہ حال رہنے کا احساس کوئی ولی اللہ توشاید کرسکتا ہو، بندہ بشر کے بس کا روگ نہیں۔حکومت عوام کو خالی پیٹ رکھ کر اپنی حمایت میں سڑکوں پر لانا چاہیے۔کس لیے اور کیوں؟ روٹی اور چھت تو آپ نے چھین چکے۔حکومت میں رہ کر ٗ نا رہ کر اور پھر واپس آکر  آپ کرنا کیا چاہتے ہیں؟

سلیم گورمانی کا شعر ہے۔

اپنے رہنے کو تو اپنا بدن ہے کافی

اور ہوس ہو تو جہاں سارے کا سارا کم ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site