چاند کی سطح پر پانی کے نئے ذخائر کی تصدیق، انسانی بستیاں بسانا آسان ہو گیا

امریکہ کے خلائی ادارے ناسا نے چاند کی سطح پر مالیکیولر(سالماتی) پانی کی موجودگی کے واضح ثبوت ملنے کا اعلان کیا ہے۔

اس حوالے سے معروف جریدے ‘نیچر آسٹرونومی’ میں ایک تحقیقی رپورٹ شائع کی گئی ہے جس کے مطابق سائنسدانوں کو چاند کی سطح کے اس حصے پر بھی پانی کے مالیکیول ملے ہیں جہاں سورج کی روشنی موجود ہوتی ہے۔

کرہ ارض کے باسیوں کی مریخ پر قبضے کی کوششوں کا اہم ترین مرحلہ آن پہنچا

امریکی بحریہ کا پراسرار اڑن طشتریوں سے آمنا سامنا، ویڈیوز جاری

اس سے قبل چاند کے اندرونی (سورج کی روشنی سے اوجھل) حصوں میں پانی کی موجودگی کا علم ہوا تھا۔

ناسا کے ایک عہدیدار جیکب بلیچر کا کہنا ہے کہ محقیقین کو ابھی چاند پر موجود پانی کی ذخائر کی نوعیت کو مزید سمجھنا ہے تاکہ جانا جا سکے کہ مستقبل میں چاند پر جانے والے محققین اس پانی تک کس طرح رسائی حاصل کر سکیں گے۔

واضح رہے چاند پر پانی کی موجودگی کی پہلے بھی علامات ملتی رہی ہیں تاہم حالیہ دریافت سے معلوم ہوتا ہے کہ چاند پر پانی کے ذخائر سابقہ تصور سے کہیں زیادہ ہیں۔

 برطانوی ماہر ڈاکٹر ہنا سارجنٹ کا کہنا ہے کہ چاند پر پانی کے ممکنہ ذخائر کے حوالے سے نئی دریافت نے مزید آپشنز فراہم کئے ہیں، چاند پر خلائی اڈا کہاں بنے گا، اس کا دارومدار بھی اس بات پر ہے کہ چاند پر پانی کے ذخائر کہاں پر موجود ہیں۔

یاد رہے گزشتہ ماہ ناسا نے اعلان کیا تھا کہ وہ 2024میں چاند پر تاریخ میں پہلی بار ایک خاتون اور اس کے ساتھ ایک مرد کو بھیجے گا تاکہ 2030 میں مریخ پر انسان کو بھیجنے کی تیاری کی جا سکے۔

ایک اور تحقیق میں سائنسدانوں کا خیال ہے کہ چاند کی سطح کے تقریباً40 ہزار مربع میٹر علاقے میں پانی موجود ہو سکتا ہے۔

برطانوی ماہر ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ چاند پر پانی کی نئی دریافت سے چاند پر موجود ایسی جگہوں کی فہرست میں اضافہ ہو جائے گا جہاں ہم خلائی اڈا بنا سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ چاند سے زمین کا سفر بھی پانی ملنے سے سستا ہو جائے گا کیونکہ زمین سے ایندھن بھیجنے کے بجائے آکسیجن اور ہائیڈروجن سے اسے چاند پر ہی تیار کیا جا سکے گا۔

ٹیگ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site