اٹلی: کورونا پر قابو پانے کے لیے حکومتی پابندیوں کے خلاف شدید مظاہرے شروع

پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں

روم: اٹلی میں کورونا وبا کی دوسری لہر پر قابو پانے کے لیے لگائی گئی پابندیوں کے خلاف شدید احتجاجی مظاہروں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت کی جانب سے لگائی گئی پابندیوں کے خلاف ملک کے تمام بڑے شہروں میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ تورین میں احتجاجی مظاہرین پر پیٹرول بم پھینکے گئے۔

رپورٹس کے مطابق میلان میں مشتعل مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس فائر کی گئی، دوسری جانب نیپل میں مظاہرین اور پولیس میں جھڑپوں کی بھی خبریں سامنے آئی ہیں۔

مقامی نیوز ایجنسیز کے مطابق حکومت کی جانب سے ریسٹورنٹ، سینما، بار اور جم بند کیے جانے کے اعلان کے بعد لوگ گھروں سے باہر نکل آئے اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

میڈیا کے مطابق اٹلی کے شمالی علاقے لومبارڈے اور تورین میں رات کے اوقات میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ روم، جینووا، پالرمو اور ٹیرسٹی سمیت درجنوں شہروں میں عوام گھروں سے باہر نکل آئے۔

چھوٹے کاروبار کرنے والے افراد کا کہنا تھا کہ ابھی انہوں نے حالیہ لاک ڈاؤن کا نقصان پورا نہیں کیا تھا کہ حکومت کی جانب سے دوسرے لاک ڈاؤن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

کاروباری افراد کا کہنا تھا کہ دوبارہ لاک ڈاون انہیں دیوالیہ کرنے کے لیے کافی ہوگا۔

رپورٹس کے مطابق حکومتی اعلان کے بعد مشتعل مظاہرین نے گوچی بوتیک سمیت کئی بڑے اسٹورز میں توڑ پھوڑ کی۔

میلان کے سٹی سینٹر میں مظاہرین اور پولیس کی جھڑپوں کے بعد عوام کی جانب سے شدید نعرے بازی کی گئی۔

واضح رہے لومبارڈے کے دارالحکومت میلان میں کورونا سے سب سے زیادہ تباہی مچائی تھی۔

حکومتی اقدامات

میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومتی احکامات کے بعد ریسٹورنٹس، بار اور چائے اور کافی کی دکانیں شام 6 بجے بند کر دی جائیں گی جب کہ رات دیر تک یہ ریسٹورنٹس ٹیک اوے سروس دے سکتے ہیں۔

24 نومبر تک لگائی گئی ان پابندیوں کے باعث اسکول، کالجز اور یونیورسٹیوں میں دوبارہ آن لائن کلاسز کا اجرا کیا جائے گا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مقامی حکومتوں نے سماجی فاصلے کے اصول کے تحت کلاسیں شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن وزیر تعلیم لوسیا ایزولینا کی جانب سے فیصلے کی مخالف کی گئی تھی۔

یورپی ممالک میں کورونا کی صورتحال

بیلجیئم کے شہر برسلز میں جم خانے اور پولز بند کر دیے گئے ہیں، رات 8 بجے دکانیں بند کرنے کے احکامات پر بھی عمل کیا جا رہا ہے۔

19 نومبر تک لگائے گئے اس لاک ڈاؤن کے دوران عوامی مقامات پر ماسک پہننا لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔

بیلجیئم کے شہر لیگ میں ڈاکٹروں کو کورونا کے باوجود بھی کام کرنے کے احکامات دیے گئے ہیں۔ 

بیلجیئم ایسوسی ایشن آف میڈیکل یونین کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اسپتالوں کے نظام کر بچانے کے لیے اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔

فرانس میں حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ اگر احتیاطی تدابیر کو مدنظر نا رکھا گیا تو ایک دن میں کورونا کیسز کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر سکتی ہے۔

یورپی ملک چیک ریپبلک میں بھی رات کے اوقات میں کرفیو لگا دیا گیا ہے۔

چیک میڈیا کے مطابق میڈیکل کے شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کے علاوہ کسی بھی فرد کو رات 9 بجے سے صبح 5 بجے تک گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مارکیٹس اتوار کے روز بند رہیں گی جب کہ دیگر دنوں میں رات آٹھ بجے دکانیں بند کر دی جائیں گی۔

ٹیگ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site