سلطنت عمان کا پچاسواں قومی دن اور کامرانیوں کا سفر

عمان کے قومی دن کی آمد آمد ہے، اس یادگار موقع پر ہمارے بہادر کمانڈر اور شہسوار ہمیں اپنے جنگی گھوڑے پر دکھائی نہیں دے رہے،  ہمارے محبوب قائد سلطان قابوس ہمیں افسردہ وغمگین چھوڑ کر حضرت موسی علیہ السلام کا یہ قول  کہتے ہوئے اپنے رب کے ہاں پہنچ چکے كہ (اے میرے رب میں نے تیرے پاس آنے میں اس لئے جلدی کی تاکہ تو مجھ سے راضی ہوجائے)۔ وہ اس سفر پر روانہ ہوچکے جس پرہم سب نے ایک نہ ایک دن ضرور جانا ہے، لیکن جاتے جاتے وہ اپنی تمام ذمہ داریاں بطورِ احسن سرانجام دے کر اور اپنے عوام کے بہت سے خوابوں کی تعبیر پوری کر گئے ہیں۔

70  کی دہائی میں جب انہوں نے زمامِ اقتدار سنبھالا تو اس وقت سے لے کر اپنی زندگی کے آخری لمحات تک عوام سے کیا گیا کوئی ایسا وعدہ نہیں تھا جو انہوں نے وفا نہ کیا ہو، عوام الناس نے بھی اپنے رب کے بعد آپ  ہی کو  اپنا مونس، غمخوار وسربراہ سمجھا، لوگ  آپ کے گرد محبت والفت کے دیپ لیے اکھٹے ہوگئے۔

 آپ نے ہر میدان اور ہر شعبے میں اصلاح  وترقی کی بنیاد رکھی، آپ نے اپنی دور اندیشی کے سبب ملک کے اندرونی معاملات، سیاسی ومعاشرتی احوال کو اپنے اصلاحی پروگراموں میں ہمیشہ ترجیح دی اور اپنے ملک کو اندھیروں سے نکال کرروشنیوں کے سفر پر گامزن کیا،  آپ نے اپنے ملک کی پاک طینت مٹی میں اصلاحات کے بیج بوئے اور ان سے گھنے کثیر شاخوں والے ایسے  درخت پیدا ہوئے جن کے پھول خوشبودار اور پھل اور میوے رس دار، میٹھے تھے۔ 

ترقی  وخوشحالی کا یہ سفر زندگی کے تمام شعبوں میں رواں دواں رہا جس   سے شہریوں کی معاشی، معاشرتی اور فکری حالت بامِ عروج پر پہنچی، کامیابیوں اور کامرانیوں کا فاتحانہ سفر خارجہ امور میں بھی جاری وساری رہا، ایک متوازن پالیسی جس نے عالمی دنیا کو درپیش فاصلوں کو ہمیشہ کم کیا، اتحاد  ویگانگت کا درس دیا۔

انہوں نے دوستوں  کا ان کی آزمائشوں میں مکمل ساتھ دیا ، انہیں مشکلات سے نجات دلائی  اور اس بارے میں مکمل رازداری سے کام لیا  تاکہ دوستوں کے جذبات کو ٹھیس نہ پہنچے یا  اپنے دلوں میں عجب نہ آجائے۔  جارحانہ عزائم کا جواب ہمیشہ اچھے الفاظ، عمدہ کردار اور حسن سلوک و حسن اخلاق سے دیا ،  یہاں تک کہ اب دنیا اس ارض وطن کو امن کی فاختہ  اور سلامتی کے قلعے جیسے القاب سے  پکارنے لگی ہے، ریاستیں اپنے مشکل مسائل ، سنگینیوں اور درپیش عظیم مصائب کے حل کے لئے اسی سلطنت کی جانب رجوع کرنے لگے ہیں۔

ہماری سلطنت خاموشی سے مشورے دیتی اور مناسب وقت پر مداخلت کرتی ہے، انتہائی پیچیدہ اموراور مشکل ترین مسائل کو حل کرتی ہے یہاں تک کہ یہ دنیا بھر میں امن اور باہمی ہم آہنگی کے میدان میں شہرت  حاصل کر چکی ہے۔

ہم دیکھتے ہیں کہ آج ہر طرف اقتدار کے لیے چھینا جھپٹی اور رسہ کشی ہے، بہر صورت کرسی تک پہنچنے کی کوشش ہے چاہے اس کے لیے کچھ بھی کرنا پڑے اور یہ رسہ کشی نہ صرف ہمارے عرب ممالک بلکہ دنیا بھر میں دکھائی دیتی ہے، ان سب میں سر فہرست دنیا کی قیادت کرنے والا خود امریکہ ہے،  جبکہ سلطنت عمان نے اس بارے میں ایک انوکھا تجربہ پیش کیا ہے جسے  دنیا  بھر نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور سراہا ہے۔

ملک کے سلطان جناب ہیثم بن طارق کو انتقال اقتدار آسانی ، خاموشی ، بغیر کسی شور  شرابے اور کھینچاتانی کے   نہایت پرامن ومحفوظ ماحول  میں منتقل ہوا، تمام دنیا نے انتقال اقتدار کے اس عمل کو سراہا،  جو نہایت تسلی بخش حالت میں یقین واعتماد کی فضا اور عمانی عوام کی زبردست حمایت کے ساتھ رو پذیر ہوا۔

سلطان ہیثم بن طارق

عوام نے نئے سلطان کے تاریخی کردار، بلند مرتبت اور  وطن کے لیے قابل قدر خدمات کو دیکھتے ہوئے آپ کے دستِ اقدس پر وفاداری کی بیعت کی، آپ ہمارے مرحوم سلطان قابوس کی ریڑھ کی ہڈی  اور قابل اعتماد شخصیت تھے، گزشتہ برسوں کی حکومتی کارکردگی میں آپ کا بہت بڑا حصہ اور مؤثر کردار تھا۔ لوگوں نے مرحوم سلطان قابوس کی  وفات کے بعد بھی ان کی یاد مناتے ہوئے ان سے پیار جاری رکھا اور آج  ان کے انتخاب  سے محبت کرتے ہیں –

ترقی اور کامرانیوں کا پہیہ آج بھی رواں دواں ہے اور سلطان هيثم تعمیری، تہذیبی، ثقافتی وترقیاتی منصوبوں کی تکمیل  کے لیے دن رات کوشاں ہیں۔

پاکستان عمان کے تعلقات صدیوں پرانے اور تاریخی ہیں، ہزاروں برس پرانی تہذیب موہنجوداڑو اور عمانی تہذیب میں بہت کچھ مشترک ہے جو تعلقات کی تاریخی گہرائی کو ثابت کرتی ہے۔

عمان میں مقیم پونے تین لاکھ پاکستانی بھی اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں، عمان کی ترقی و خوشحالی میں پاکستانی بھائیوں کا روشن کردار ہے، ہر شعبے میں تعلقات مزید بہتر ہو رہے ہیں، دفاعی لحاظ سے دنوں ممالک مضبوط رشتے میں جڑے ہوئے ہیں، گوادر کی نسبت سے ہزاروں بلوچ عمانی شہریت کے حامل ہیں، اوورسیز پاکستانی ہر سال خطیر زرمبادلہ بھی بھیجتے ہیں، عمان کی گولڈن جوبلی کے موقع پر پاکستان کے عوام سلطنت عمان کے حاکم اور ان کے عوام کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہیں۔ پاک عمان دوستی زندہ باد

تم جیو ہزاروں سال               ہر سال کے دن ہو ں ہزار

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
سلطنت عمان کا پچاسواں قومی دن اور کامرانیوں کا سفر is highly popular post having 1 Twitter shares
Share with your friends
Powered by ESSB

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site