سعودی عرب کے شہر ریاض میں جی 20 سمٹ شروع

سعودی عرب کو درپیش 3 مسائل

دنیا کے طاقتور ممالک کی تنظیم جی 20 کا اجلاس سعودی عرب کے شہر ریاض میں شروع ہوچکا ہے۔ کورونا وباء کی وجہ سے یہ اجلاس ورچوئل طریقہ سے منعقد کیا جارہا ہے اس لیے اس میں وہ گرمجوشی ہرگز نظر نہیں آ رہی جس میں پنج ستارہ ہوٹلز میں عالمی لیڈروں کی آمد اور ریڈ کارپٹ پر قائدین کے مصافحے کی تصاویر بنانے جیسے مناظر شامل ہوتے ہیں۔

 دنیا بھر کا میڈیا، ملٹی نیشنل کمپنیوں کے سربراہان، ہزاروں افراد کی آمد سے دنیا کے سامنے دھاک بٹھانے کی سعودی حکومت کی جو خواہش تھی وہ پوری ہوتی نظر نہیں آرہی ۔ اب کیمروں کی لائٹس کی چکا چوند ، رات کے ڈنرز ، سائیڈ لائن میٹنگز ، ٹی وی چینلز کے انٹرویوز وغیرہ کچھ نہیں ہوگا ۔ سب کچھ ایک سکرین پر نظر آئے گا جس میں ہر ملک کورونا وباء کے بعد معیشت کے چیلنجز پر اپنا موقف پڑھ کر سنا دے گا ۔

جی 20 ممالک تنظیم کا قیام 1999ء میں ’ایشین فنانشل کرائسز ‘کے بعد عمل میں آیا۔ 2008 میں پہلی مرتبہ جی 20 لیڈرز سمٹ منعقد ہوئی جس کا مقصد ممبر ممالک کو عالمی مالی بحران کے جواب میں مدد دینا شامل تھا۔ جی 20 میں جرمنی ، امریکہ ، ارجینٹینا، آسٹریلیا، برازیل ، چین ، انڈونیشیا، فرانس ، ساﺅتھ افریقہ ، ساﺅتھ کوریا ،انڈیا ، برطانیہ ،اٹلی ، جاپان ، کینیڈا ، میکسیکو ، روس، سعودی عرب ، ترکی اور یورپی یونین کے علاوہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک شامل ہیں۔

ان ممالک کا عالمی تجارت میں حصہ 80 فیصد بنتا ہے جبکہ دنیا کی دو تہائی آباد ی ان ممالک پر مشتمل ہے۔ آسان لفظوں میں یہ دنیا کے باقی ممالک کے ’چوہدری ‘ ہیں جنہیں اپنی پالیسیاں بنانے اور ان پر نافذ کرنے کا پورا حق ہے ۔ یہ سمٹ اس وقت منعقد ہورہی ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدارتی معرکہ ہارچکے ہیں تاہم وہ آسانی کے ساتھ جو بائیڈن کو وائیٹ ہاﺅس تک رسائی دیتے نظر نہیں آتے ۔

 امریکہ ، برطانیہ اور یورپی یونین کے ممالک کورونا وباءکی دوسری لہر کا سامنا کررہے ہیں ۔ اس سمٹ میں کورونا وباء کے بعد ممبر ممالک کو درپیش معاشی چیلنجز پر قابو پانے کے حوالے سے حکمت عملی موضوع بحث ہوگی۔ تاہم اصل بات یہ ہے کہ عرب ممالک کے اہم ملک سعودی عرب کے 35 سالہ شہزاد محمد بن سلمان جو ملک میں تمام تر اختیارات کے منبع اور عالمی دنیا میں ایک اہم لیڈر کے طور پر ابھر رہے ہیں، جی 20 سمٹ سے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں جبکہ اس وقت ان کے سب سے قریبی اتحادی دوست ڈونلڈ ٹرمپ دنیا کے طاقتور ترین منصب سے محروم ہو چکے ہیں ۔

شہزادہ محمد بن سلمان سعودی عرب میں انسانی حقوق کی بڑھتی خلاف ورزیوں ، صحافی جمال خشوگی کے قتل اور یمن وار کی وجہ سے ہدف تنقید بنے ہوئے ہیں ۔ ان کی بھرپور کوشش ہے کہ سعودی عرب کے لیے ان کے وژن 2030 کے لیے یہ سمٹ کوئی ’فیول ‘ کا کام دے ۔ ٹرمپ جو ہاﺅس آف سعود کا بڑا اتحادی تھا ، ٹرمپ اور ان کے داماد جیرڈ کشنر کے پہلے سرکاری دورے کے لیے 2017ء میں سعودی عرب آمد کے موقع پر جو پروٹوکول شاہی خاندان نے انہیں دیا اس سے دنیا کے سامنے محمد بن سلمان نے اپنا قد کاٹھ خوب بڑھایا تاہم جو بائیڈن کا معاملہ اس سے مختلف نظر آتا ہے۔ 20 سال تک ریاض میں سفارتی مشنز کے لیے کام کرنیوالے ڈیوڈ رنڈل کا خیال ہے کہ اس سمٹ کی سب سے اہم بات سعودی شہزادہ کے لیے دنیا کے سامنے اس تاثر کو قائم رکھنا ہے جو ٹرمپ کے وقت میں سعودی عرب ، امریکہ کا تھا ۔

جی 20 سمٹ ریاض کے منتظم عبدالرحمن سیگر کے مطابق اس سمٹ کے 127 آن لائن سیشن منعقد ہوں گے جس میں عالمی لیڈرز، سٹی میئرز، وزراء، بزنس مین اور اکیڈیمکس شریک ہوں گے، ایک اندازے کے مطابق مجموعی طور پر 17 ہزار افراد اس سمٹ کا حصہ ہیں ۔ کنگ فیصل ریسرچ سنٹر کی حنا المعبد کا خیال ہے کہ انہیں آن لائن سمٹ سے سخت مایوسی ہوئی ہے ۔

عوامی حلقے امید کر رہے ہیں کہ سمٹ میں شریک سعودی شہزادہ محمد بن سلمان اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوان اسلاموفوبیا کے حوالے سے کھل کر اپنا موقف پیش کریں گے۔ جمال خشوگی کے قتل کے بعد اردوان اور شہزادہ سلمان کے درمیان ’پرسنیلٹی کلیش‘ بھی وجود رکھتا ہے کیونکہ دونوں لیڈرز خود کو مسلمہ امہ کے لیڈر کے طور پر پیش کرتے ہیں ۔

سعودی عرب کی سینئر سفارتکار، امریکہ میں سعودی سفیر، شاہی خاندان کی ممبر ریما بنت بند ر آل سعود نے گزشتہ ہفتے جو بائیڈن انتظامیہ تک پیغام پہنچانے کے لیے ایک اہم تقریر کا استعمال کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ان کا ملک انتہا پسندی اور دہشت گردی کیخلاف جنگ میں امریکہ کا سب سے بڑا حلیف ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ سعودی عرب کے کچھ نقاد ’صرف اس کو ختم کرنا چاہتے ہیں ‘۔انہوں نے سعودی شہزادہ محمد بن سلمان کا وژن 2030ء کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کا ملک صنفی مساوات کے لیے پرعزم ہے ۔

یمن جنگ بھی اس وقت سعودی عرب کے لیے اہم مسئلہ بنی ہوئی ہے ۔ بعض ڈیموکریٹس کے نزدیک یہ بے کار اور غیر اخلاقی منصوبہ تھا تاہم اس حوالے سے ریما بنت بندر نے تمام تر الزام حوثی باغیوں کے سر تھوپ دیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ حوثی باغی مذاکرات کی میز سے ہٹ گئے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب میں 300سے زائد بیلسٹک میزائل داغے گئے ہیں ۔

اپنے حریف ایران سے متعلق بات کرتے ہوئے ریما کا کہنا تھا کہ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب جی 20 سمٹ کی سربراہی کررہا ہے جبکہ ایران اب تنہا ہوگیا ہے ۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سعودی گریجویٹس دنیا سے واپس اب ریاض کا رُخ کررہے ہیں جبکہ تہران ’برین ڈرین ‘ کا شکار ہے ۔

اس سمٹ میں اہم نقطہ خواتین کے حقوق کے لیے بات کرنیوالی لوجین الہتھلول کا ہے جو خواتین کو ڈرائیونگ کا حق دینے کے لیے پیش پیش تھیں اور جنہیں بغیر کسی الزام کے مئی 2018میں گرفتار کیا گیا تھا، وہ اس وقت سعودی عرب میں قید ہیں۔

گارڈین کی ایک رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کا ایک اور اہم مسئلہ سابق ولی عہد شہزادہ محمد بن نائف ہیں جو مارچ سے اپنے گھر میں قید ہیں، اس معاملے کی وجہ سے سعودی عرب کئی اہم دوستوں سے محروم ہو بیٹھا ہے۔ ان کے ساتھ ہونے والا یہ سلوک برطانیہ کے کنزرویٹو رکن پارلیمنٹ کرسپین بلنٹ کی سربراہی میں بننے والے آزاد انکوائری پینل کا موضوع بنا ہوا ہے۔

سعودی عرب پر انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی طاقتور تنظیموں کا بھی پریشر بڑھ رہا ہے کہ وہ سعودی جیلوں میں قید خواتین کی رہائی یقینی بنائیں، برطانیہ کی ہیلنا کینیڈی جو سعودی عرب میں زیرحراست خواتین کے ساتھ سلوک کے بارے میں ایک نئی رپورٹ کی مصنف ہیں، نے کہا ہے کہ ‘کسی بھی مہذب قوم کو یہ مطالبہ کیے بغیر جی 20 میں شریک نہیں ہونا چاہیے کہ ان خواتین کو رہا کیا جائے’ ، ان خواتین کو غیر معمولی حالات میں نظر بند کیا گیا ہے کیونکہ وہ سعودی پاوراسٹرکچرکیخلاف ہیں ۔ کہا جارہا ہے کہ اس موقع پر برطانیہ کے لیے مشکل ہوگا کہ وہ انسانی حقوق معاملے پر خاموش رہے ۔

دوسری جانب جرمن اور فرانسیسی رہنماﺅں پر بھی اسی طرح کا دباﺅ ڈالا جا رہا ہے، سعودی عرب کے لیے خطرہ ہے کہ اس مرتبہ جن امور پر تبادلہ خیال کیلئے یہ اجلاس منعقد ہورہا ہے اس پر توجہ کے بجائے شرکاء کا زیادہ فوکس میزبانی کرنیوالے ملک سعودی عرب پر ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site