میں چھوٹا سا ایک وائرس ہوں

آج ذکر کرتے ہیں کچھ کورونا وائرس کا ، کیا عجیب و غریب ، بے تکا اور گھٹیا قسم کا وائرس ہے ، چمگادڑوں کو چھوڑ کر انسانوں میں آبسا اور لگتا ہے ہر شخص کو یہ اپنی گرفت میں لے چکا ہے یا لے لے گا ، جب یہ بندہ کو قابو کرتا ہے تو کہتا ہے ‘بچو! بہت چالاک بنتے تھے ، پکڑے گئے نا’ !

اس کا آغاز چین سے ہوا اور اگر یہ یاجوجی ماجوجی قوم کتے بلے ، سانپ ، چھچوندر اور چمگادڑوں کو نہ کھاتے تو شاید ہم اس سے محفوظ رہتے ۔ جتنا بھی انسان ’ اشرف المخلوقات ‘ رب کے بنائے ہوئے کارخانہ قدرت میں مداخلت کرتا ہے ، اتنی ہی زور کی چپیڑ کھاتا ہے۔

اس وائرس کو البتہ یہ کریڈٹ ضرورجاتا ہے کہ اس نے کسی بھی قوم میں ، نسل میں ، ملک میں ، مذہب میں کوئی تفریق نہیں کی اور ثابت کیا کہ

ایک ہی وائرس سے متاثر ہوئے محمودو ایاز

نہ کوئی بندہ رہا ، نہ کوئی بندہ نواز

جہاں چین میں لوگ ’چین ‘ کی بانسری بجاتے تھے ، اس نے لوگوں کی نیندیں اڑا دیں ، وہیں یورپ کے کئی ممالک خصوصاً یوکے اور سپین کو اس نے ’Pain‘  میں مبتلا کر دیا ۔ جہاں اٹلی کے اسپتال مریضوں سے اُبل پڑے وہیں اس نے امریکہ ، کینیڈا اور جنوبی امریکہ میں بھی قیامت صغریٰ برپا کر دی ۔ جہاں انڈیا اور پاکستان اس کی لپیٹ میں آئے وہیں دنیا کی مقدس زیارات جیسے مکہ مکرمہ ، مدینہ شریف ، ایران اور عیسائیوں کے ویٹی کن سٹی بھی اس وائرس کے زیر عتاب آئے۔

نسل انسانی نے آج کے دور میں اس سے زیادہ خطرناک ، مہلک اور جان لیوا وبا اور بیماری کا سامنا نہیں کیا ہے ۔ اس نے بڑی بڑی سپر پاورز کے لیڈروں کو متاثر کیا بلکہ کئی ناقدین کی تو یہ رائے ہے کہ امریکہ کے حالیہ انتخابات میں جو بائیڈن اور ڈیموکریٹک پارٹی کی فتح میں ا ن کا کمال کم اور کورونا وائرس کا زیادہ تھا ۔ اس وائرس نے نہ صرف ٹرمپ کو ذاتی طور پر متاثر کیا بلکہ لوگوں نے ٹرمپ کی کورونا کیخلاف پالیسیوں کو بالکل ناقص قرار دیا اور امریکہ میں کورونا کے پھیلنے اور اُس سے ہونے والی اموات کا ذمہ دار بھی ٹرمپ کو ہی ٹھہرایا ۔ ٹرمپ جس کا ’چائنیز وائرس‘ کہہ کر مذاق اڑاتا تھا اور لوگوں کے ماسک پہننے پر ٹھٹھا اڑاتا تھا ۔ انہی لوگوں نے جوق در جوق ٹرمپ کے خلاف ووٹ دیے اور اسے وائیٹ ہاﺅس سے چلتا کیا۔

بڑے بے آبرو ہوکر تیرے کوچے سے ہم نکلے

امریکہ میں ڈھائی لاکھ کے قریب لوگ اب تک کورونا کی وجہ سے لقمہ اجل بن چکے ہیں اور جب تک ویکسین نہیں آتی اس تعداد میں مزید لاکھوں کا اضافہ ہو سکتا ہے ۔ اس وائرس نے ہر شہری کے دل میں خوف بٹھا دیا ہے ۔ اگر کسی کو ہلکی سی چھینک ، کھانسی ، نزلہ ، زکام ، سردرد یا بخار ہوجائے تو فوراً پہلا شک اسی وائرس پہ جاتا ہے ۔ اس وباء کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو اپنے گھر والوں کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے کا موقع ملا اور ان کے رشتوں میں مضبوطی پیدا ہوئی ۔ بہت سی سماجی برائیوں کا بھی خاتمہ ہوگیا اور لوگوں کے جو ناکام عشق ومعاشقے تھے وہ بھی اپنے انجام کو پہنچے ۔ دنیا بھر میں اور پاکستان میں لوگوں نے ’ارطغرل‘ ڈرامہ سیریز کو دیکھا اور بہت سے لوگوں کی اصلاح ہوئی ۔ کبھی لگتا ہے کہ کورونا وائرس بھی دیکھ کر یہ گنگنا رہا ہے ۔

میں چھوٹا سا ایک وائرس ہوں

پر کام کروں گا بڑے بڑے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site