کراچی سرکلر ریلوے کیس: وزیراعلیٰ سندھ کو توہین عدالت کا نوٹس جاری

 سپریم کورٹ نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو کراچی سرکلر ریلوے معاملے پر توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے 2 ہفتوں میں ان سے جواب طلب کر لیا۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ریلوے خسارہ از خود نوٹس کیس کی سماعت کی۔

چیف جسٹس نے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کے ڈی جی سے استفسار کیا کہ منصوبے پر کام شروع کیوں نہیں کیا گیا، کس نے ڈیزائن کی منظوری دینی تھی جو نہیں دی گئی؟

ایف ڈبلیو او کے ڈی جی کی طرف سے عدالت کو بتایا گیا کہ سندھ حکومت کی طرف سے منظوری درکار تھی جو نہیں دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے سندھ حکومت کو ڈیزائن بنا کر دیا تھا لیکن ان کی طرف سے اس کی منظوری نہیں دی گئی۔

ایف ڈبلیو او کے وکیل نے کہا سندھ حکومت انڈر پاسز کا ٹھیکہ نہیں دے رہی ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سرکلر ریلوے کا کام 2 ماہ میں مکمل ہو جانا چاہئے تھا لیکن ایف ڈبلیو او نے ابھی تک کام شروع ہی نہیں کیا ہے۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے سیکرٹری ریلوے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے ہمارے لیے کچھ نہیں کیا، جو بھی کیا عوام کیلئے کیا ہے، آپ نے کسی پر احسان نہیں کیا ہے۔

ریمارکس دیتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ دو نوٹس آپ کو پہلے ہو چکے ہیں، کیا تیسرا بھی کر دیں؟

عدالت نے وزیراعلیٰ سندھ کو توہین عدالت کا نوٹس جبکہ سیکرٹری کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔

یاد رہے عدالت عظمیٰ کی طرف سے یہ نوٹس سرکلر ریلوے کیلئے تعمیراتی کام کے ڈیزائن پر سندھ حکومت کی منظوری نہ دینے پر جاری کیا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site