ام رباب کی جدوجہد رنگ لے آئی، والد کے قتل کا مرکزی ملزم گرفتار

اپنے والد سمیت 3 افراد کے قتل میں ملوث ملزموں کی گرفتاری کے لیے سرگرم ام رباب کی جدوجہد رنگ لائی ہے اور اس سانحے میں ملوث مرکزی ملزم ذوالفقار چانڈیو کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

دادو کی تحصیل میہڑ سے تعلق رکھنے والی ام رباب ایک طویل عرصے سے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے کوشش کر رہی تھیں، انہوں نے سپریم کورٹ تک کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔

ایس ایس پی کشمور امجد شیخ نے بتایا کہ ذوالفقارچانڈیو بلوچستان میں روپوش تھا۔ جہاں سے اس کے کشمور آنے کی خفیہ اطلاع ملنے پر اسے گرفتار کر لیا گیا۔

ملزم ذوالفقار چانڈیو کی گرفتاری پر حکومت نے 10 لاکھ روپے انعام مقرر کیا ہوا تھا۔

دادو کی تحصیل میہڑ میں 17 جنوری 2018 کو چانڈیو برادری کے افراد نے فائرنگ کر کے امِ رباب کے والد، دادا اور چچا کو قتل کردیا تھا۔ تہرے قتل کیس میں نامزد مفرور ملزمان غلام مرتضیٰ چانڈیو اور ذوالفقار چانڈیو بلوچستان فرار ہوئے تھے۔

17 جنوری 2018 کو ضلع دادو کے تعلقہ میہڑ میں تین افراد کے قتل کے خلاف پاکستان پیپلزپارٹی کے رکن سندھ اسمبلی سردار خان چانڈیدو اور ان کے بھائی برہان چانڈیو سمیت 7 افراد کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرایا گیا تھا۔

مقتولین کے لواحقین کا الزام تھا کہ ایم پی اے سردار خان چانڈیو کے کہنے پر برہان چانڈیو نے پولیس پروٹوکول کی موجودگی میں مختار چانڈیو، کابل چانڈیو اور کرم اللہ چانڈیو کو فائرنگ کرکے قتل کیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site