بابراعظم نے خاتون کے سنگین الزامات کا جواب دے دیا

پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابراعظم  کے وکلاء نے خاتون کے سنگین الزامات پر عدالت میں وکالت نامہ جمع کرا دیا ہے۔

بابر اعظم کی قانونی ٹیم نے وکالت نامہ سیشن کورٹ میں جمع کرایا ہے۔

قومی کرکٹ کپتان کے وکیل نے کورٹ کو بتایا کہ وہ پولیس اسٹیشن میں پیش ہوئے لیکن نہ خاتون پیش ہوئیں اور نا ہی کوئی وکیل آیا۔

بابر اعظم کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست پر لاہور سیشن کورٹ میں سماعت ہوئی جہاں بیرسٹر حارث عظمت کی سربراہی میں لیگل ٹیم نے وکالت نامہ جمع کرا دیا۔

ایڈوکیٹ توقیر چودھری الزام عائد کرنے والی خاتون کی جانب سے عدالت میں پیش ہوئے۔

پولیس نے عدالت میں موقف اپنایا کہ درخواست گزار سے کہا جائے کہ وہ حاضر ہو کر اپنا موقف پیش کرے تاکہ حقائق پر مبنی رپورٹ پیش کی جا سکے ۔

بعدازاں عدالت نے سماعت 14 دسمبر تک ملتوی کرتے ہوۓ پولیس کو مکمل رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کر دی ۔

یاد رہے کہ خاتون نے گزشتہ ہفتے پریس کانفرنس کے دوران پہلی مرتبہ بابر اعظم پہ سنگین الزامات عائد کیے تھے۔

خاتون کے مطابق بابر نے 2010 میں انہیں پروپوز کیا جسے انہوں نے قبول کر لیا لیکن ہمارے خاندان راضی نا ہوئے جس کے بعد ہم نے کورٹ میرج کا فیصلہ کیا ۔

خاتون کا کہنا تھا کہ ان کے اصرار کے باوجود بابر اعظم نے نکاح نہیں کیا اور وہ مختلف نوکریاں کر کے کرکٹر کے اخراجات پورے کرتی رہیں۔

حامزہ نامی خاتون نے دعویٰ کیا کہ جب بابر اعظم کا نام ٹیسٹ ٹیم میں آیا تو ان کا رویہ تبدیل ہونا شروع ہو گیا تھا، اس دوران وہ حاملہ بھی ہوئیں جس پر بابر اعظم غصے میں ہو گئے اور اسقاط حمل پر مجبور کیا۔

خاتون کے مطابق انہوں نے پہلے بھی قومی ٹیم کے کپتان کے خلاف پولیس رپورٹ کی تھی، افسر نے ہمارے ہمارے مشروط صلح نامے پر دستخط کرائے تھے جس کے مطابق بابر اعظم مجھ سے شادی کر لیں گے۔

دورہ نیوزی لینڈ سے قبل انہوں نے مجھے فون پر جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی تھیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site