ریاست کے خلاف بغاوت پر اکسانے پہ فوری کارروائی کا فیصلہ

وفاقی حکومت کی جانب سے ریاست کے خلاف بغاوت اور بغاوت پر اکسانے کے خلاف فوری کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت پر کیا گیا ہے جب حکومت اور پاکستان ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی ایم) کے مابین سیاسی تناؤ عروج پر ہے۔

وزارت داخلہ کے ایک اعلیٰ افسر کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے ایسے معاملات میں ضروری اقدامات اٹھانے کا اختیار وفاقی کابینہ کے بجائے وزارت داخلہ کو سونپ دیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس سے پہلے مذکورہ قسم کے واقعات پر کارروائی وفاقی کابینہ کی منظوری کے بغیر نہیں کی جا سکتی تھی جس کی وجہ سے مقدمات درج کرنے میں تاخیر ہو جاتی تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ کی منظوری کے بغیر اقدامات اٹھانا غیر قانونی ہو جاتا تھا۔ تاہم اب ایسے معاملات میں کارروائی کا اختیار وفاقی کابینہ نے ایک سرکلر کے ذریعے سے سیکرٹری داخلہ کو دینے کی منظوری دے دی ہے۔

اب ایسے حکومت مخالف عناصر جو کہ بغاوت یا بغاوت پر اکسانے کا سبب بن سکتے ہیں ان کے خلاف اقدامات اٹھانے کی طاقت سیکرٹری داخلہ کے پاس چلی گئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کے سیکشن 196 کو پیش نظر رکھتے ہوئے وفاقی حکومت کا اختیار سیکرٹری داخلہ کو دے دیا گیا ہے۔ اس قدم کے پیچھے شکایات اور اس طرح کے مقدمات پر فوری کارروائی کرنا مقصود ہے۔

 اس سے پہلے ایک عدالتی فیصلے کے تحت وفاقی حکومت کو کابینہ قرار دینے کے بعد انتظامی معاملات بھی کابینہ کے سامنے پیش کیے جاتے تھے۔ تاہم اب اس نئے فیصلے کے بعد صوبائی ریاستیں بھی ریاست مخالف بغاوت کے خلاف مقدمات درج کرا سکیں گی۔

خیال رہے کہ گزشتہ اکتوبر میں لاہور کے تھانہ شاہدرہ میں سابق وزیراعظم نواز شریف اور ن لیگ کے دیگر رہنماوں کے خلاف ‘غداری’ اور ‘بغاوت پر اکسانے’ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ البتہ بعد ازاں دیگر رہنماوں کے نام مقدمے سے نکال دیے گئے تھے۔

About Post Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site