چند گھنٹوں میں کورونا ویکسین ڈیزائن کرنے والا ترک نژاد سائنسدان

ترک نژاد اوغور شاہین کی ڈیزائن کردہ کورونا وائرس ویکسین کو برطانیہ، کینیڈا، سعودی عرب کے بعد امریکہ بھی استعمال کی اجازت دے دی گئی ہے۔

طبی ماہرین کا خیال ہے کہ آج تک کسی بھی ویکسین کو اتنی تیزی سے تیار اور استعمال کیلئے پیش نہیں کیا گیا، اس سے قبل جو تیز ترین ویکسین کا ریکارڈ تھا، وہ 4 سال سے زائد عرصے کا تھا۔

حیران کن بات یہ ہے کہ بائیو این ٹیک کے شریک بانی اوغور شاہین نے اس ویکسین کو جنوری میں محض چند گھنٹوں میں ڈیزائن کر لیا تھا۔

بائیو این ٹیک کے ترجمان نے اس بات کی تصدیق کی کہ اوغور شاہین نے ایک دن کے اندر ویکسین کا ڈیزائن بنا لیا تھا، یہ بات وال اسٹریٹ جرنل نے ایک پوڈ کاسٹ رپورٹ میں بھی بتائی ہے۔

اتنی تیزی سے اس کا ڈیزائن بننے کی اہم وجہ اس میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی ہے جو میسنجر آر این اے یا ایم آر اے ہے۔

یاد رہے اس سے قبل اس ٹیکنالوجی پر مبنی کوئی ویکسین تیار نہیں ہوئی، مگر اب ایسا ہو چکا ہے اور بہت جلد ایک اور امریکی کمپنی موڈرینا کی اس سے ملتی جلتی ٹیکنالوجی پر مبنی ویکسین کی منظوری بھی دیئے جانے کا امکان ہے۔

واضح رہے میسنجرآر این اے ایسا جینیاتی میٹریل ہوتا ہے جو خلیات کو بتاتا ہے کہ پروٹین کو کیسے تیار کرنا ہے۔

یاد رہے فائزر کی ویکسین میں کورونا وائرس کے ایم آر این اے کا چھوٹا حصہ انسانی جسم میں داخل کیا جاتا ہے، یہ آر این اے وائرس کے اسپائیک پروٹین کا کوڈ ہوتا ہے، جو جسم کے اندر وائرس کو حملے میں مدد دیتا ہے، جس سے اینٹی باڈی متحرک ہر کر وائرس کو ناکارہ بناتی ہیں۔

مذکورہ ٹیکنالوجی کے لیے کمپنیوں کو بس ویکسین ڈیزائن کرنے کے لیے محض کورونا وائرس کے جینیاتی سیکونس کی ضرورت تھی اور اسی وجہ سے ان کا کام برق رفتاری سے آگے بڑھا۔

اوغور شاہین نے بتایا کہ انہوں نے طبی جریدے دی لانسیٹ ایک مقالہ پڑھا جس میں چین کے ایک خاندان کے بارے بتایا گیا تھا، جو ووہان میں کورونا کا شکار ہو گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس میں تشویش ناک بات یہ تھی کہ خاندان کے ایک رکن میں وائرس تھا، جس کی تشخیص بھی ہوئی مگر علامات ظاہر نہیں ہوئیں، یعنی ایسے افراد بھی وائرس کو آگے پھیلا سکتے ہیں اور پورے چین تک اسے پہنچا سکتے ہیں۔

اس موقع پر انہوں نے اپنی کمپنی کی توجہ کورونا وائرس کی ویکسین پر مرکوز کرنے کا فیصلہ کیا، اور اگلے ہفتے اپنی کمپنی کو آگاہ کیا کہ اب زیادہ تر آپریشن ویکسین کی تیاری اور آزمائش کیلئے ہوں گے۔

اس کے بعد اوغورشاہین نے وائرس کے جینیاتی سیکونس کو استعمال کر کے 10 مختلف ویکسینز کو ویک اینڈ کے دوران کمپیوٹر میں ڈیزائن کیا، جن میں سے ایک کو بعد میں بڑے ٹرائلز کیلئے منتخب کیا اور اب مختلف ممالک میں اس کے استعمال کی منظوری بھی دی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس ویکسین کو محض چند گھنٹوں کے اندر ڈیزائن کیا گیا تھا، تاہم بائیو این ٹیک ایک چھوٹی کمپنی تھی اور اس کے پاس بڑے پیمانے پر ہونے والے ٹرائل کیلئے لاکھوں ڈوز تیار کرنے کی صلاحیت نہیں تھی۔

اوغور شاہین نے فائر کے ویکسین ریسرچ کی سربراہ کیتھرین جینسین سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا بتایا کہ یہ وبا ایک آفت ہے جو مزید بدتر ہو گی، آپ کے ساتھ کام کر کے ہمیں خوشی ہوگی۔

یوں مارچ کے وسط میں دونوں کمپنیوں نے ویکسین تیار کرنے کی صلاحیت میں اضافے کیلئے شراکت داری کا اعلان کیا۔

فائزر نے ویکسین کی تیاری میں لاجسٹکس، ڈوز کی تیاری اور تیسرے مرحلے کے ٹرائل کے انتظام کو سنبھالا جبکہ بائیو این ٹیک نے ویکسین کے ڈیزائن کو دیکھا۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق 9 نومبر کو دونوں کمپنیوں نے اعلان کیا تھا کہ ان کی ویکسین 90 فیصد تک موثر ہے، جب فائزر کے سی ای او نے یہ بات کمپنی کے اعلیٰ عہدیداران کو بتائی تو اپنی کرسیوں سے اچھل پڑے تھے۔

جبکہ تیسرے ٹرائل کے مطابق یہ ویکسین بیماری سے تحفظ کے لیے 95 فیصد تک مؤثر ہے جبکہ لوگوں میں مضر سائیڈ ایفیکٹس بھی نظر نہیں آئے۔

اس ویکسین کے ساتھ نقصان یہ ہے کہ مریضوں کو اس کے دو انجکشن کی ضرورت ہو گی جو 3 ہفتوں کے وقفے میں لگائے جائیں گے۔

مذکورہ ویکسین کو منفی 70 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت میں منتقل کرنا ہوگا، جس کے لئے ڈرائی آئس اور خصوصی فریزر کی ضرورت ہو گی۔

ابھی یہ بھی معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ یہ ویکسین کتنے عرصے تک لوگوں کو کورونا سے تحفظ فراہم کرے گی۔

About Post Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site