عدالت میں بابراعظم پر خاتون کے الزامات جھوٹے قرار

پولیس نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم پر لگائے گئے خاتون کے الزامات جھوٹے قرار دے دیے ہیں۔

خاتون کے الزامات کی تفتیش کرنے والے پولیس افسسر نے سیشن کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں لکھا ہے کہ بابر اعظم پر لگائے گئے الزامات میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پولیس نے 2017 میں خاتون کا موقف سنا تھا اور اندراج مقدمہ کی درخواست داخل دفتر کر دی تھی۔

پولیس رپورٹ کے مطابق خاتون بابراعظم کے خلاف ٹھوس شواہد دینے میں ناکام رہی ہیں، عدالت نے درخواست کو قانون کی روشنی میں نمٹانےکاحکم دے دیا ۔

بابر اعظم پر الزامات اور بھارتی میڈیا

گزشتہ روز بابر اعظم کے خلاف خاتون کے جنسی الزامات پر مبنی مقدمے کی سماعت کے موقع پر ان کے وکیل نے کہا کہ خاتون کی طرف سے جنسی الزامات لگائے جانے کے بعد بابر اعظم شدید دباؤ کا شکار ہیں اور بھارتی میڈیا صبح شام اس کیس کو اچھال رہا ہے۔

مذکورہ خاتون کے وکیل نے دستاویزات جمع کرانے کیلئے عدالت سے مہلت طلب کرتے ہوئے کہا کہ خاتون کی میڈیکل رپورٹس ہسپتال سے لینی ہیں کیونکہ میڈیکل رپورٹس پر تمام کیس کا انحصار ہے۔

بابر اعظم کے وکیل بیرسٹر حارث عظمت نے عدالت سے درخواست کو مسترد کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ بابر اعظم قومی کرکٹر ہیں اور وہ نیشنل ہیرو ہیں، خاتون انہیں بلیک میل کرنے کیلئے درخواستیں دے رہی ہیں۔

بابر اعظم کے مطابق مذکورہ خاتون نے 2016 میں انہیں بلیک میل کرنا شروع کیا تو پولیس نے تحقیقات کیں، جس پر بابراعظم کو بے قصور قرار دیا اور پولیس نے مقدمہ درج نہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے درخواست داخل دفتر کر دی تھی۔

قومی کرکٹر کے وکیل حارث عظمت نے دعویٰ کیا کہ خاتون نے بابر اعظم سے معذرت کرتے ہوئے صلح کرنے کی درخواست کی تھی لیکن اب دوبارہ بلیک میل کرنا شروع کردیا ہے۔

وکیل حارث عظمت کا کہنا تھا کہ اس کیس کو انڈین میڈیا صبح شام چلا رہا ہے اور ہو سکتا ہے کہ خاتون نے کسی کے کہنے پر بابراعطم کو دوبارہ ٹارگٹ کیا ہو۔

وکیل نے کہا کہ بابراعظم نے انٹرنیشنل ریکارڈ توڑے ہیں لیکن اس کیس کی وجہ سے وہ نیوزی لینڈ میں پریشان اور پریشر میں ہیں۔

اس موقع پر وکیل نے استدعا کی کہ عدالت فوری طور پر درخواست کو مسترد کرنے کا حکم دے۔

عدالت نے بابراعظم کے وکیل کی استدعا کو مسترد کرتے ہوئے خاتون کے وکیل کی استدعا کو منظور کر لیا اور کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی۔

خیال رہے قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم کے خلاف سنگین نوعیت کے الزامات عائد کرنے والی خاتون حامزہ مختار نے اندراج مقدمہ کیلئے سیشن کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔

مذکورہ خاتون نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ ملزم بابراعظم نے انہیں شادی کے بہانے 2012 سے مستقل جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا، وہ اس دوران حاملہ بھی ہوئی اور بعد ازاں انہوں نے ملزم کی ایما پر اسقاط حمل بھی کروایا۔

حامزہ نے درخواست میں کہا کہ انہوں نے ایف آئی آر کے اندراج کی کوشش کی، تاہم پولیس نے اس سلسلے میں کوئی شکایت درج نہ کی۔

واضح رہے اس سے قبل خاتون نے پریس کانفرنس میں بھی کہا تھا کہ بابر اعظم نے انہیں 2010 میں پروپوز کیا جسے انہوں نے قبول کر لیا، ہم شادی کا فیصلہ کر چکے تھے لیکن خاندان والوں نے صاف انکار کر دیا، جس کے بعد ہم نے کورٹ میرج کا فیصلہ کیا۔

حامزہ نے کہا کہ جب بابر اعظم کا نام کرکٹ ٹیم میں آیا تو ان کا رویہ آہستہ اہستہ تبدیل ہونا شروع ہو گیا تھا، انہوں نے کہا کہ میں 2016 حاملہ ہو گئی تھی جب میں نے یہ خبر بابر کو بتائی تو سن کر اس کا رویہ بہت عجیب ہو گیا، مجھے مارا پیٹا اور ان کے کے اصرار پر میں اسقاط حمل پر مجبور ہو گئی۔

خاتون کا کہنا تھا کہ اس نے تنگ آ کر پولیس سے رابطہ کیا لیکن جب وہاں بھی شنوائی نہ ہوئی تو کورٹ سے رابطہ کرنے پر مجبور ہوئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site