بھارت میں لاک ڈاؤن، پاکستان میں ٹیکسٹائل صنعت کی قسمت جاگ اٹھی

فیصل آباد کو پاکستان میں ٹیکسٹائل صنعت کا مرکز سمجھا جاتا ہے، فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے ممتاز ٹیکسٹائل برآمد کنندہ خرم مختار امریکہ، یورپ اور دیگر ممالک کی منڈیوں میں ٹیکسٹائل کی مصنوعات برآمد کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند مہینوں سے ٹیکسٹائل کے کاروبار میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے، اور انہیں بیرون ممالک سے زیادہ ایکسپورٹ آرڈرز موصول ہوئے ہیں۔

خرم مختار کہتے ہیں کہ انہیں ملنے والے زیادہ ایکسپورٹ آرڈرز میں جہاں ان کی مصنوعات کی مسابقی قیمت کا کردار رہا تو وہیں پر کورونا کو وبا کی وجہ سے انڈیا میں لاک ڈاؤن سے بھی انہیں فائدہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا بھارت میں لاک ڈاؤن کے باعث جب ان کی ایکسپورٹ سپلائی چین میں تعطل پیدا ہوا تو ان کے بیرون ملک خریداروں نے پاکستان کی طرف رجوع کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی کمپنی کو بھی گزشتہ چند مہینوں میں زہادہ آرڈرز موصول ہوئے ہیں، خرم مختار کے مطابق ان میں زیادہ تر ہوم ٹیکسٹائل، ڈینم اور اپیرل کی مصنوعات کے آرڈرز تھے، جن میں وہ خریدار بھی تھے جو پہلے بھارت سے یہ مصنوعات خرید رہے تھے۔

ایک اندازے کے مطابق پاکستان کو ملنے والے زیادہ ایکسپورٹ آرڈرز کے باعث موجودہ مالی سال کے پہلے چار ماہ میں ملک کی ٹیکسٹائل کی برآمدات 5۔4 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہیں۔

ٹیکسٹائل شعبے کی مصنوعات کی برآمد میں گزشتہ مالی سال کے پہلے چار ماہ کے مقابلے میں چار فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

حکومت اور ٹیکسٹائل صنعت سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ یہ شعبہ اس وقت اپنی پوری پیداواری استعداد پر کام کر رہا ہے جو ملک کی برآمدات کے شعبے میں اضافے کے ساتھ روزگار کی فراہمی کیلئے بھی مثبت پیش رفت ہے۔

واضح رہے پاکستان کی ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ ملک کے بیرونی تجارت کے شعبے کیلئے خوش آئند ہے جو ملک کے موجودہ مالی سال میں 26 ارب ڈالر کی مجموعی برآمدات کے ہدف کو حاصل کرنے میں مددگار ثابت ہو گا۔

خیال رہے پاکستان کی ٹیکسٹائل کے شعبے کی برآمدات اکتوبر کے مہینے میں سات فیصد اضافے سے بڑھیں جبکہ اس کے مقابلے میں پڑوسی ملک بھارت کی اس مہینے میں ٹیکسٹائل کی مصنوعات میں پانچ فیصد سے زائد کی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

یاد رہے پاکستان کی ٹیکسٹائل کی برآمدات میں اضافے سے مجموعی برآمدات میں ہونے والے اضافے نے ملک کے تجارتی خسارے کو بھی کم کیا ہے۔

پاکستان ٹیکسٹائل شعبے کی ترقی اور اس کی پیداواری صلاحیت میں اضافے کو اس شعبے سے وابستہ افراد حکومت کی طرف سے کورونا کے ایام میں نرم پابندیوں کو قرار دیتے ہیں۔

ٹیکسٹائل شعبے کا ملکی معیشت میں کردار

ٹیکسٹائل شعبے کا ملک کی مجموعی پیداوار میں آٹھ فیصد سے زائد حصہ ہے جبکہ ملک کے مجموعی برآمدی شعبے میں اس کی مصنوعات کا حصہ تقریبا ساٹھ فیصد ہے۔

ٹیکسٹائل پاکستان کا مینو فیکچرنگ کا سب سے بڑا شعبہ ے جو صنعتی شعبے میں کام کرنے والی تقریباً 40 فیصد لیبر فورس کو روزگار فراہم کرتا ہے۔

بورڈ آف انوسٹمنٹ کی ویب سائٹ پر موجود اعداد و شمار کے مطابق پاکستان ایشیا میں ٹیکسٹائل ایکسپورٹ کا آٹھواں بڑا ملک ہے۔

پاکستان میں اس وقت چار سو سے زائد ٹیکسٹائل فیکڑیاں کام کر رہی ہیں، جبکہ اس شعبے کیلئے سب سے اہم خام مال یعنی کاٹن کی ملک میں فراہی بہ آسانی دستیاب ہے۔

ٹیکسٹائل میں اضافے کی وجوہات

پاکستان میں ٹیکسٹائل کے شعبے کے دو بڑے مراکز فیصل آباد اور کراچی ہیں اور ٹیکسٹائل کے شعبے کے افراد کے مطابق اس وقت دونوں مراکز بھر پور طریقے سے کام کر رہے ہیں۔

ایک مل کے مالک آصف انعام نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ شعبہ اس وقت اپنی پوری پیداواری استعداد پر کام کر رہا ہے جس کی ایک بڑی وجہ ملنے والے آرڈرز ہیں جبکہ دوسری طرف سے حکومت کی جانب سے دی جانے والی مراعات بھی اس کی پیدوار کو بڑھانے میں مدد فراہم کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ حکومت کے اختتام پرپاکستان کی ٹیکسٹائل مصنوعات کا دنیا بھر میں اس کی برآمدات میں حصہ ایک اعشاریہ آٹھ فیصد ہو گیا تھا جبکہ اب یہ حصہ دو اعشاریہ چار فیصد تک بڑھ گیا ہے۔

کراچی چمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے سابق صدر اور ٹیکسٹائل ملر زبیر موتی والا نے پاکستان کی ٹیکسٹائل کے شعبے کی کارکردگی کو حوصلہ افزا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی بڑی وجہ یورپ اور امریکہ کی منڈیوں میں پیدا ہونے والا انوینٹری خلا تھا جسے پاکستان کے ٹیکسٹائل کے شعبے نے پر کیا۔

انہوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یورپ و امریکہ میں لگنے والے لاک ڈاؤن نے ان کی بیرون ملک سے مصنوعات منگوانے کو بھی شدید متاثر کیا، جب ذخیرہ شدہ مال ختم ہو گیا اور انہیں فوری مال کی ضرورت پڑی توانہوں نے پاکستان کی طرف رجوع کیا۔

کیا ٹیکسٹائل کی کارکردگی مستقبل میں بھی برقرار رہے گی؟

ٹیکسٹائل شعبے میں جو بہتری اب دکھائی دے رہی ہے، کیا یہ برقرار رہے گی، اس سوال کے جواب میں زبیر موتی والا نے کہا کہ اس کا دارو مدار اس بات پر ہے کہ ہمارا ٹیکسٹائل کا شعبہ کس حد تک مسابقتی رہتا ہے اور اس کی مصنوعات کو دنیا میں کی منڈیوں میں مسابقتی برتری ملتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اب کو آرڈرز ملے ہیں وہ کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے ملے ہیں، جب کورونا کی ویکسین آ جائے گی اور زندگی معمول پر آ جائے گی اور اس وقت اس شعبے کی کارکردگی سے پتا چلے گا کہ یہ کس حد تک دوسرے ملکوں مصنوعات کا مقابلہ کر پائے گی۔

کاٹن کی کمی کے ٹیکسٹائل کے شعبے پر اثرات

زبیر موتی والا کے مطابق اس سال کاٹن کی فصل خراب ہونے کے باعث اس صنعت کو مسئلہ پیش آ سکتا ہے کیونکہ اس شعبے کا سب سے بڑا خام مال کاٹن ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سات ساڑھے سات ملین کاٹن کی گانٹھیں دستیاب ہوں گی جبکہ گزشتہ سال یہ ساڑھے بارہ ملین گانٹھیں تھیں۔

انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کا آسان حل یہ ہے کہ پاکستان ادویات کی طرح انڈیا سے کاٹن بھی درآمد کر سکتا ہے اور یہ کاٹن پاکستان کو بہت سستی پڑے گی۔

انہوں نے کہا کہ جب انسانی جانوں کو بچانے کے لیے ادویات انڈیا سے برآمد کی جا سکتی ہیں تو ملکی معیشت اور خاص کر ٹیکسٹائل کے شعبے کو اس سال مدد فراہم کرنے کے لیے وہاں سے کاٹن کیوں نہیں درآمد کی جا سکتی ہے۔

ٹیکسٹائل صنعت کا روزگار کی فراہمی میں اہم کردار

ٹیکسٹائل صنعت سے منسلک آصف انعام کے مطابق ٹیکسٹائل کے شعبے کی بحالی اور اس سے جڑے شعبے پاور لومز کی بات کی جائے تو روزگار کیلئے بے پناہ مواقع پیدا ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر صرف پاور لومز کی بات ہی جائے تو 10 سے 20 لاکھ پاور لومز جو بند پڑی ہوئیں تھی، وہ دوبارہ فعال ہو چکی ہیں اور ایک محتاط اندازے کے مطابق ایک لوم پر ایک سے دو لوگ کام کرتے ہیں، صرف پاور لومز ہی لاکھوں لوگوں کو روزگار فراہم کر رہی ہیں۔

عالیہ ملک کا کہنا تھا کہ جب2016 میں ملک میں ٹیکسٹائل کی صنعت بند ہونا اور یہاں سے بنگلہ دیش منتقل ہونا شروع ہوئی تو بین الاقوامی میڈیا کے مطابق اس نے لاکھوں افراد کو بے روزگار کیا، تاہم اب دوبارہ بحالی سے روزگار کے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔

ٹیکسٹائل میں جدت کی ضرورت

ٹیکسٹائل کے شعبے میں نمایاں ترقی کیلئے اقدامات ہونے چاہئے، اس ضمن میں ممتاز صحافی مہتاب حیدر کہتے ہیں کہ سب سے پہلے اس شعبے کو سیٹھ کلچر سے نجات دلا کراسے کارپوریٹ کلچر میں ڈھانا ہو گا۔

اسی طرح اس شعبے کی مصنوعات میں جدت اور ان میں تنوع پیدا کرنا چاہئے تاکہ ہم دنیا کی مارکیٹ میں اپنا حصہ بڑھا سکیں۔

اس حوالے سے پارلیمانی سیکریٹری برائے تجارت، صنعت و پیداوار عالیہ کہتی ہیں کہ حکومت اس پر کام کر رہی ہے، اور پاکستان جو روایتی طور پر یارن کی برآمد انحصار کرتا ہے وہاں سے اب بیڈ لینن اور دوسری ویلیو ایڈیڈ مصنوعات بھی برآمد کرسکے گا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت نہ صرف ٹیکسٹائل کے شعبے میں تنوع پیدا کر رہی ہے بلکہ مجموعی برآمدات میں بھی روایتی شعبے کے علاوہ دوسری مصنوعات کی برآمدات بڑھانے پر بھی کام رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site