ذہنی مریضوں کی سزائے موت، عدالت نے ماہر نفسیات سے معاونت طلب کر لی

جسٹس منظور احمد ملک کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے ذہنی مریضوں کی سزائے موت کے خلاف دائر اپیلوں پر کیس کی سماعت کی۔

اس موقع پرعدالت نے ماہر نفسیات سے ملزمان کی ذہنی حالت کے تعین کے لیے معاونت طلب کر لی۔

عدالت نے کہا کہ ماہر نفسیات عدالت کو بتائیں کہ ذہنی امراض کے شکار ملزمان کو سزائے موت کیوں نہیں دی جا سکتی، اس معاملے میں عدالت نے وکلا سے تحریری معروضات طلب کر لیے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اگر میڈیکل بورڈ یہ کہہ دے کہ ان کو سزائے موت نہیں ہو سکتی تو ملزمان کو جیل نہیں بھیجا جا سکتا۔

انہوں نے ماہرین نفیسات کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا ایسے افراد کے علاج معالجے کے لیے کوئی سینٹر ہے، جہاں ان کا علاج ہو سکے؟

جسٹس منظور احمد ملک نے کہا کہ ایسے ملزمان کے علاج کے بارے میں قانون کیا کہتا ہے عدالت کی معاونت کریں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ان ملزمان کی سزائے موت ختم کر دی جائے تو یہ اپنی باقی سزا کہاں گزاریں گے؟

جسٹس منصور علی شاہ سوال اٹھایا کہ اگر علاج کے بعد ملزمان کی حالت بہتر ہوتی ہے تو کیا ان کو سزائے موت دی جا سکے گی؟

اس جواب میں ملزمان کے وکیل نے کہا کہ جب تک ایسے مریضوں کا علاج چلتا رہتا ہے یہ ٹھیک رہتے ہیں، علاج بند ہونے پر حالت خراب ہو جاتی ہے۔

اس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ اگر عدالت میں یہ ثابت ہو جائے کہ جرم کے وقت ملزمان تندرست تھے تو کیا سزا ختم ہو جاتی ہے؟

جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ ملزمان اگر علاج بھی کراتے ہیں تب بھی وہ عمر قید کی سزا ہی کاٹ رہے ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مریضوں اور بیماری سے متعلق تمام نکات عدالت کے سامنے کلیئر ہونے چاہئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ ملزمان کی سزائے موت ختم کر کے کہیں اور بھیج دیا جائے۔

جسٹس منظور احمد ملک نے کہا کہ جرم سے پہلے اور جرم کے بعد بیماری کا ہونا دو الگ الگ صورتیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ملزمان کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کی جائے تو ان کو رہا کیا جانا چاہیے۔

جسٹس منظور احمد نے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا ماتحت عدالت کے سامنے بھی بیماری کا معاملہ اٹھایا گیا تھا؟

اس پر وکیل نے کہا کہ جی اس وقت ملزمان کی ذہنی حالت سے متعلق ایک درخواست سیشن کورٹ کے سامنے پیش کی گئی تھی۔

جسٹس منظور نے کہا کہ ایک ماہر ڈاکٹر کی رائے اور عام آدمی میں فرق ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان ملزمان کی ذہنی حالت کو ٹرائل کورٹ سے سپریم کورٹ تک کسی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔

جسٹس منظور نے سوال کیا کہ اگر ایک بندہ یہ دعویٰ کرے کہ وہ 465 کے تحت ٹرائل کے لیے فٹ نہیں تو اس پر عدالت کیا کرے؟

انہوں نے کہا کہ رائل کورٹ، ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ نے ملزم کی بیماری کو دیکھتے ہوئے فیصلہ سنایا، ہائیکورٹ نے ملزمان کو یہ موقع ہی نہیں دیا کہ اس کی بیماری کا تعین کیا جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہائیکورٹ نے کہا سرکاری خرچ پر وکیل مقرر کر کے کیس کو آگے چلائیں۔

انہوں نے کہا کہ ملزمان کے وکیل کو ریکارڈ نہیں دیا جاتا کہ وہ کیس کی تیاری کر سکے، اگر ملزم کو سزائے موت ہو گئی تو بندہ پھانسی چڑھ جائے گا۔

جسٹس منظور نے کہا کہ اس معاملے کو ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ نے درست طریقے سے ہینڈل نہیں کیا۔

 جسٹس منظور نے مدعی کے وکیل سے سوال کیا کہ آپ کو کیا مسئلہ ہے اگر کیس دوبارہ ٹرائل کے لیے بھیجا جائے۔

اس پر مدعی مقدمہ وکیل کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے کہ دماغی مریض کے ملزمان عام ملزمان کی طرح جائے وقعہ سے فرار نہیں ہوتے۔

اس کے جواب میں جسٹس منظور ملک نے کہا کہ سیکشن 465 میں لکھا ہے کہ اگر ایسی کوئی درخواست آئے تو اس بات کے تعین کے لیے الگ ٹرائل کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ سزائے موت کے مقدمات کا فیصلہ کرتے ہوئے ججز کو بہت محتاط رہنا پڑتا ہے۔

انہوں نے پنجاب حکومت کے وکیل سے سوال کیا کہ ریاست نے ملزمان کو سزائے موت دلوائی اور پھر اس سزا کے درست کا غلط ہونے کے تعین کے لیے درخواست دائر کردی۔

ان کا کہنا تھا کہ کیا رولز آپ کو اس بات کی اجازت دیتے ہیں، اگر نہیں تو اس کیس میں ایسا کیوں کیا گیا؟

بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت 4 جنوری تک ملتوی کر دی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site