مسابقتی کمیشن کی انکوائری رپورٹ، سیمنٹ کے شعبے میں 40 ارب کا نیا اسکینڈل

مسابقتی کمیشن آف پاکستان کی انکوائری رپورٹ میں سیمنٹ کے شعبے میں تجارتی گٹھ جوڑ کی وجہ سے بڑے پیمانے پر منافع کمانے کا انکشاف ہوا ہے۔

انکوائری رپورٹ کو آل پاکستان سیمنٹ مینو فیکچررز ایسوسی ایشن کے نارتھ زون میں سیمنٹ یونٹوں کیلئے حتمی شکل دی گئی ہے، کیونکہ سندھ ہائی کورٹ نے مسابقتی کمیشن آف پاکستان کو جنوبی زون (سندھ) میں سیمنٹ کمپنیوں کے دفاتر پر چھاپوں سے جمع کردہ مواد کے استعمال سے روک دیا تھا۔

انکوائری رپورٹ میں سیمنٹ کمپنیوں کے دفاتر اور آل پاکستان سیمنٹ مینو فیکچررز ایسوسی ایشن کے لاہور میں قائم صدر دفتر سے اکٹھے کئے گئے تمام الیکٹرانک شواہد کے فرانزک آڈٹ کے بارے میں ایف آئی اے کی رائے بھی شامل ہے۔

اس سلسلے میں واٹس ایپ گفتگو میں استعمال ہونے والے فون نمبر کی مدد سے پاکستان ٹیلی کیمونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) سے مالکان کے نام حاصل کئے گئے۔

انکوائری ٹیم نے مشورہ دیا ہے کہ اے پی سی ایم اے کے ممبران میں 2014 سے 2020 تک نصب صلاحیت کی بنیاد پر پروڈکشن کوٹہ تقسیم سے متعلق تجارتی گٹھ جوڑ کا ثبوت موجود ہے۔

انکوائری رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ سیمنٹ مینو فیکچررز نے سیل کوٹہ بھی برقرار رکھا اور آل پاکستان سمینٹ مینو فیکچررز ایسوسی ایشن نے مختلف سیمنٹ یونٹوں میں نامزد عملہ بھی تعینات کیا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ پلانٹ اپنے مخصوص کوٹے سے زیادہ سیمنٹ فروخت نہیں کرتے ہیں۔

مسابقتی کمیشن آف پاکستان کی انکوائری میں انکشاف ہوا ہے کہ اراکین نے علاقے مختص کر رکھے تھے، جن میں اپنی مرضی کی قیمتوں تک کا تعین کیا گیا تھا۔

انکوائری رپورٹ کے مطابق آل پاکستان سیمنٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے مختلف سیمنٹ پلانٹوں کے لیے زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت جاری کردی اور اس بات کا ثبوت موجود ہے کہ ایسوسی ایشن لاگت میں کمی کے اثرات کو صارفین تک منتقل کرنے کی منظوری کے بارے میں اجتماعی فیصلہ کرتی ہے۔

مسابقتی کمیشن کے ایک عہدیدار کا کہنا ہے کہ مارکیٹ کی طلب کی بنیاد پر یہ اندازہ لگایا جاتا ہے کہ صارفین کو 40 ارب روپے اضافی ادا کرنے پڑے کیونکہ مئی، جون اور اگست 2020 میں سیمنٹ کی قیمتوں میں 50 فیصد تک اضافہ کر دیا گیا تھا۔

عہدیدار نے بتایا کہ جولائی 2029 میں اضافہ اس بنیاد پر کیا گیا تھا کہ حکومت نے ایکسل لوڈ کی حد مقرر کر دی تھی جس سے مال کے کرائے کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ رواں سال اضافے کی کوئی وجہ نہیں تھی کیونکہ نہ صرف لاگت کی قیمت کم ہو رہی تھی بلکہ طلب میں بھی اضافہ ہو رہا تھا۔

عہدیدار نے کہا کہ اس سال اپریل میں سیمنٹ کی قیمتوں میں شروع ہونے والے اضافے نے مسابقتی کمیشن کو شعبہ کے امور کی تحقیقات پر مجبور کیا۔

واضح رہے ملک میں 16 کمپنیوں سے تعلق رکھنے والے لگ بھگ 24 آپریشنل پلانٹس ہیں، جنہوں نے مالی سال 20-2019 مالی سال میں 4کروڑ 78 لاکھ ٹن سیمنٹ تیار کی۔

انکوائری رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ رواں سال کے وسط میں اس وقت سیمنٹ کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا جب کوئلہ اور تیل کی عالمی قیمتیں کم ہو رہی تھیں۔

رپورٹ میں وضاحت کی گئی کہ اس عرصے کے دوران بیسٹ وے سیمنٹ کی فی شیئر آمد میں 502 فیصد، لکی سیمنٹ کی فی حصص آمدن میں 133فیصد، ڈی جی خان سیمنٹ 75 فیصد، چیراٹ سیمنٹ نے 191 فیصد، فوجی سیمنٹ نے 138 فیصد، میپل لیف سیمنٹ میں 115 فیصد اور کوہاٹ سیمنٹ کی فی شیئر آمدن میں 473 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

انکوائری رپورٹ سامنے آنے کے بعد کمیشن نے آل پاکستان سیمنٹ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن اور پنجاب اور خیبر پختونخوا میں موجود شمالی زون کی سیمنٹ کمپنیوں کو شو کاز نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
مسابقتی کمیشن کی انکوائری رپورٹ، سیمنٹ کے شعبے میں 40 ارب کا نیا اسکینڈل is highly popular post having 1 Twitter shares
Share with your friends
Powered by ESSB

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site