وزیراعظم کا خفیہ واٹس ایپ گروپ، مقصد کیا ہے، کون سی شخصیات شامل ہیں؟

وزیراعظم عمران خان نے ایک خفیہ واٹس ایپ گروپ بنایا ہوا ہے جس کے ذریعے وہ حکومتی معاملات کی نگرانی کرتے ہیں۔

یہ بات ڈان اخبار کی ایک رپورٹ میں بتائی گئی، رپورٹ کے مطابق پارٹی کے قابل بھروسہ افراد کو غیررسمی طور پر حکومت کا بیانیہ پھیلانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ ان میں سے زیادہ تر افراد کا حکومت یا پرٹی کا ترجمان ہونے کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا گیا۔

اس گروپ میں وزیراعظم کے ساتھ روزانہ بریفنگ سیشن ہوتے ہیں، وزیراعظم مختلف ترجمانوں کو ان کی کارکردگی پر رائے دیتے ہیں اور کھل کر تنقید یا تعریف کرتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اسی گروپ میں وزیراعظم کو بتایا گیا کہ پی ڈی ایم کا لاہور میں میں جلاسہ ایک فلاپ شو تھا۔

وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے ڈان کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے وہ رہنما اور کابینہ کے اراکین جو ٹی وی شوز میں باقاعدگی سے مہمان ہوتے ہیں وہ حکومت کے ترجمانوں کے اس غیر رسمی گروپ کا حصہ ہیں اور وزیر اعظم انہیں وزیر اعظم آفس یا اپنی رہائش گاہ بنی گالہ میں میٹنگ کے لیے طلب کرتے ہیں جہاں یہ ملاقات 90 منٹ تک جاری رہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کچھ ایسے لوگ جو اسلام آباد سے باہر رہتے ہیں وہ ویڈیو لنک کے ذریعے اس میٹنگ میں شرکت کرتے ہیں۔

ان ترجمانوں کو میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر بھیجا جاتا ہے تاکہ وہ حکومتی بیانیہ آگے بڑھا سکیں، عہدیداروں کا کہنا ہے کہ رائے اور تشخیص کے لیے ان کی کارکردگی کی کڑی نگرانی کی جاتی ہے۔

اس گروپ کا طریق کار یہ ہے کہ اگر کسی تکنیکی مسئلے کی تشہیر یا دفاع کی ضرورت ہے تو متعلقہ وزیر یا مشیر کو اجلاس میں مدعو کیا جاتا ہے تاکہ وہ ان ترجمانوں کو بریفنگ دیں اور اس میں سرخی والے معاملے پر خصوصی توجہ دی جائے۔

اگر اپوزیشن رہنماؤں کے احتساب یا بدعنوانی کے معاملات پر بات کرنی ہو تو شہزاد اکبر کو اور اگر معیشت کے متعلق تفصیلات کی ضرورت ہو تو وزیرخزانہ عبدالحفیظ شیخ کو بلایا جاتا ہے۔

ایک وفاقی وزیر کے مطابق یہ ملاقاتیں ان ترجمانوں کو ایک موقع فراہم کرتی ہیں کہ وہ اپنی پالیسی کو اوپر سے درست کر سکیں اور پالیسی کو زیادہ بہتر طریقے سے سمجھتے ہوئے سوالات پوچھنے اور تجاویز دینے کا موقع حاصل کر سکیں۔

ذرائع کے مطابق گروپ میں شامل افراد میں وزیر اطلاعات شبلی فراز، وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری، وزیر منصوبہ بندی و ترقیات اسد عمر، وزیر تعلیم شفقت محمود، وزیر صنعت برائے صنعت حماد اظہر، وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے امور نوجوان عثمان ڈار، سینیٹر فیصل جاوید، وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید، ندیم افضل گوندل، وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات رؤف حسن، معاون خصوصی شہباز گل، ولید اقبال، کنول شوزاب، ملائیکا بخاری اور صداقت عباسی شامل ہیں۔

وزیر اعظم کے دفتر کے ایک عہدیدار نے کہا کہ معمول کی مشق کے برعکس جب وزیر اعظم سے ملاقات کے منٹس تیار ہوجاتے ہیں اور ایک باضابطہ پریس ریلیز جاری کی جاتی ہے تو ترجمانوں کی ملاقاتیں غیر رسمی رہ جاتی ہیں اور اس کے بعد کوئی پریس ریلیز جاری نہیں کی جاتی،

انہوں نے مزید کہا یہاں تک کہ وزیر اعظم ہاؤس کے عہدیداروں کو بھی ان اجلاسوں میں شرکت کی اجازت نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site