بجلی کے بعد گیس بم، کمپنیوں نے گیس کی قیمتوں میں 220 فیصد اضافے کا مطالبہ کر دیا

اسلام آباد ( مریم حسین) بجلی کے نرخوں میں متوقع ساڑھے پانچ روپے فی یونٹ اضافے کے بعد اب یہ انکشاف ہو اہے کہ گیس کی قمیتوں میں بھی 220 فیصد کا اضافے کی پیٹیشن پاکستان کی دو گیس کمپنیوں نے اوگرہ کو ڈال دی ہے۔ اگر سوئی نادرن اور سوئی سادرن کے اس مطالبعے کو مان لیا جاتا ہے تو پھر ملک میں مہنگائی کا مزید بڑا طوفان آئے گا۔ گیس کمپنیوں کا کہنا ہے انہیں اس وقت اربوں روپے گھاٹے کا سامنا ہے جو وہ اب گیس کی قیمتیں بڑھا کر پوری کرنا چاہتے ہیں۔ بجلی کی قیمتیں پہلے ہی بہت بڑھ چکی ہیں جس کی وجہ سے ہر طرف مہنگائی نے پنجے گاڑ لیے ہیں۔ خود وزیراعظم عمران خان یہ بات تسلم کر چکے ہیں کہ ان کی حکومت کو بڑا خطرہ اپوزیشن سے نہیں بلکہ مہنگائی سے ہے۔ ابھی چند دن پہلے انکشاف ہوا تھا کہ ائی ایم ایف سے قرضے کی قسط لینے کے لیے حکومت بجلی کے ریٹس اگلے چھ ماہ میں ساڑھے پانچ روپے فی یونٹ سے سات روپے فی یونٹ بڑھانے پر راضی ہوگئی ہے اور اس حوالے سے باقاعدہ قانون بھی لایا جارہا ہے۔ اس پر کابینہ میں بھی خاصی لے دے ہوئی تھی کہ اس سے عوام مزید پی ٹی ائی حکومت سے تنگ ہوں گے اور حکومت کو عوام کے غصے کا سامنا کرنا پڑے گا اور اس کی مقبولیت پر فرق پڑے گا جس کا فائدہ اپوزیشن اٹھائے گی۔ حکومت ابھی بجلی کی قیمتوں سے پیدا ہونے ہونے والے بحران سے نمنٹنے کی کوشش میں لگی ہوئی ہے اور اس پر ہر طرف سے شدید تنقید آرہی ہے کہ اب یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ گیس کی قمیتوں میں بھی دو سو بیس فیصد تک اضافے کی پیٹیشن گیس کمپنیوں نے ریگولیٹری باڈی اوگرا کو بھیج دی ہے۔اس سے پہلے اسد عمر قومی اسمبلی میں یہ انکشاف کرچکے ہیں کہ گیس کی مد میں بھی حکومت کو دو سو ارب روپے سے زیادہ سرکلر ڈیٹ کا مسلہ ہورہا ہے۔ اور گیس سیکٹر کو دو سو ارب روپے سے زیادہ خسارہ ہورہا ہے جو اب گیس کی قیمتیں بڑھا کر پورا کیا جارہا ہے۔ تاہم عوامی ردعمل اور تنقید سے بچنے کے لیے گیس اور بجلی کی قیتمیں یکدم بڑھانے کی بجائے ہر ماہ یا دوسرے تیسرے ماہ تھوڑی تھوڑی کر کے بڑھائی جاتی ہیں ۔ یوں عوامی ردعمل کم آتا ہے اور حکومت بھی خاموشی سے اربوں روپے اکھٹے کر لیتی ہے۔ ایک ماہر کا کہنا تھا بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھنے سے مہنگائی نے ہر گھر کو متاثر کیا ہے اور قطر سے گیس امپورٹ کرنے کے باوجود پاکستانی عوام کو سستی گیس یا گیس پر چلنے والے پاور پاور پلانٹس سستی بجلی دینے میں ناکام رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site