شوکت ترین کا کابینہ اجلاس میں سیاستدانوں، بیوروکریٹس کو اہم عہدے دینے سے انکار

اسلام آباد ( مریم حسین)

نئے وزیرخزانہ شوکت ترین نے کابینہ اجلاس میں سیاستدانوں اور بیوروکریٹس پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے انہیں سرکاری اداروں کے بورڈ میں تعنیات کرنے سے انکار کردیا۔
اس خبر کا انکشاف جی ٹی وی کے پروگرام “مدمقابل” میں اینکر اور رپورٹر رئوف کلاسرا نے کیا۔ کابینہ کے چار اپریل اجلاس جس کی صدارت وزیراعظم عمران خان نے کی ، تفصیلات بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نئے مشیر خزانہ نے
سیاستدان اور بیوروکریٹس کی ساکھ پر سنگین اعتراضات اٹھاتے ہوئے کہا انہیں بورڈز میں اہم عہدے نہیں دیے جاسکتے۔
زرائع کا کہنا تھا کابینہ اجلاس میں شوکت ترین اور وزیروں کی دھواں دھار بحث ہوئی اور ترین کا کہنا تھا
سیاستدان اور بیوروکریٹس سرکاری ادروں کے بورڈ ممبر بننے کے لیے موزوں نہیں ہیں۔
زرائع کا کہنا تھا شوکت ترین کی کابینہ اجلاس میں دبنگ انٹری دی اور انہوں نے
کابینہ اجلاس میں وزیروں اور سیکرٹریز کے خلاف بڑی پوزیشن لے لی۔ ان کا کہنا تھا
سیاستدانوں اور بیوروکریٹس کو سرکاری اداروں کے بورڈز کا ممبر نہیں بنانا چاہئے۔ تاہم
چند وزیروں نے ایم این ایز اور ایم پی ایز کو بورڈممبران بنانے پر زور دیا لیکن
شوکت ترین کی سیاستدانوں اور بیوروکریٹس خلاف سخت مزاحمت سامنے آئی۔ تاہم وزیروں کا موقف تھا کہ سرکاری بورڈز میں عوام کے نمائندوں کو شامل نہیں کیا جاتا۔ اس میں اداروں کے سربراہان پرائیوئٹ سیکٹرسے یار دوستوں کو لا کر نوازتے اور مل جل کراپنے اپنے کام نکلواتے ہیں اور سیاستدانوں کو دور رکھا جاتا ہے۔ ان وزیروں کا کابینہ میں یہ بھی موقف تھا
صوبوں کو ہر سرکاری ادارے کے بورڈ میں نمائندگی ملنی چاہئے۔
تاہم اس پر شوکت ترین کا کہنا تھا کہ سرکاری ہم بورڈز کو آزاد اور پروفیشنل بنانے کے کیے ریفارمز کریں گے۔
زرائع کے مطابق کابینہ میں بورڈ ممبران پر بحث نینشل بنک کے بورڈ ممبران بنانے پر ہوئی ۔
وزارت خزانہ نئے بورڈ ممبران کے ناموں کی سمری لائی تھی۔ نیشنل بنک کے نئے بورڈز کی منظوری
زبیر سومرو چیرمین، اور عارف عثمانی ممبر ہوں گے۔
دیگر ممبران میں عارف جمعہ، سہیل راجپوت فنانس ڈویزن، توفیق اصغر، مسز صدف عابد، انعام بخش بلوچ، فرید ملک شامل تھے ۔
وزیراعظم نے تین نئے ممبران کی منظوری دی؛ زرائع
نئے بورڈ ممبران میں احسن علی چغتائی، محمد فرحان ملک اور خورشید کوتوال شامل ہیں۔
سہیل اصغر راجپوت کی جگہ ایڈیشنل فنانس سیکرٹری ممبر ہوں گے۔

کمنٹ

  1. وزیر خزانہ کا سرکاری بورڈز میں سیاستدانوں اور افسران کو شامل نہ کرنے کا سٹانس سو فیصد درست ہے. اور اس کو سراہا جانا چاہئے.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
شوکت ترین کا کابینہ اجلاس میں سیاستدانوں، بیوروکریٹس کو اہم عہدے دینے سے انکار is highly popular post having 4 Twitter shares
Share with your friends
Powered by ESSB

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site