نیشنل بینک کا آڈیٹر جنرل سے آڈٹ کروانے سے انکار، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی شدید برہم

اسلام آباد (عمران مگھرانہ سے) نیشنل بینک کا آڈیٹر جنرل سے آڈٹ کروانے سے انکار، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی شدید برہم۔ نیشنل بینک کی طرف سے آڈٹ کرانے سے انکارپرپبلک اکاونٹس کمیٹی نے شدیدبرہمی کا اظہار کیا۔چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی رانا تنویر حسین نے کہا کہ نیشنل بینک آڈٹ نہ کرواکر توہین پارلیمنٹ اور آئین کی خلاف ورزی کررہا ہے۔چیئرمین نیشنل بنک بورڈ زبیر سومرونے جواب دیتے ہوئے کہا کہ نیشنل بینک کا معاملہ سندھ ہائی کورٹ میں ہے۔کورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیاہے۔ تفصیلات کے مطابق پبلک اکاونٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین رانا تنویرحسین کی زیرصدارت منعقد ہوا،اجلاس میں نیشنل بینک آف پاکستان کی طرف سے آڈیٹر جنرل سے آڈٹ نہ کروانے کا معاملہ زیر غور آیا،اجلاس شروع ہوتے ہی رانا تنویرحسین نے کہاکہ نیشنل بینک سٹیٹ کے اندر سٹیٹ بن گئی ہے پارلیمنٹ نے آڈیٹر جنرل آف پاکستان سے آڈٹ کاحکم دیاتو یہ پارلیمنٹ کے خلاف عدالت میں چلے گئے ہیں آڈٹ کرانے میں آپ کو تکلیف کیا ہورہی ہے؟زبیر سومروچیئرمین نیشنل بینک بورڈنے کہاکہ بورڈ میں آڈیٹر جنرل آف پاکستان سے آڈٹ کرنے کا ایشو بہت ہائی لائٹ ہوا ہے۔ قانون میں یہ واضح نہیں ہے۔آڈیٹر جنرل آف پاکستان سے آڈٹ کے خلاف2012سے سندھ ہائی کورٹ میں گئے ہیں عدالت میں فیصلہ محفوظ ہے فیصلہ آنے کے بعد ہی کچھ کرسکتے ہیں۔ رانا تنویرحسین نے کہاکہ سرکاری اداروں کا آڈٹ ضروری ہے آڈٹ کرانے میں بورڈ کو مسئلہ کیا ہے آپ کو سندھ ہائی کورٹ میں نہیں جانا چاہیے تھا۔آڈیٹر جنرل پاکستان نے کہا کہ آئین کے تحت نیشنل بینک کا آڈٹ ضروری ہے۔چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے کہا کہ وزیر اعظم ہاؤس کا آڈٹ ہو سکتا ہے تو پھر نیشنل بینک کا کیوں نہیں؟کمیٹی ارکان نے کہا کہ آڈٹ کرائیں مگر بورڈ اس قدر مضبوط ہے کہ آئین سے بھی اوپر ہے کیا وہاں اس قدر گڑبڑ ہے کہ آپ آڈٹ نہیں کرانا چاہتے ہیں بینک کو آڈٹ کرانے میں مسئلہ کیا ہے؟چیئرمین پی اے سی نے کہا کہ صدر نیشنل بینک نے بورڈ کو لکھا ہے کہ آڈٹ کروانا چاہئے۔وزارت قانون اور خزانہ آڈٹ کی سفارش کر چکے ہیں۔نیشنل بینک انتظامیہ آئین اور پارلیمنٹ کی توہین کر رہی ہے۔یہ ایک طرح سے پارلیمنٹ کے خلاف چلے گئے ہیں۔آپ پارلیمنٹ کو کچھ نہیں سمجھتے، ہمیں کچھ کرنا پڑے گا۔نیشنل بینک بورڈ چیئرمین زبیر سومرو نے کہا کہ ہم آئین یا پارلیمنٹ کی بالا دستی چیلنج نہیں کر رہے ہیں۔یہ کیس 9سال پہلے وزارت خزانہ اور قانون و انصاف کی مدد سے فائل کیا گیا تھا۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ کیا ہم استحقاق مجروح کرنے کے حوالے سے کاروائی کریں۔کیاہم بورڈ کو تحلیل کرنے کا حکم دیں پارلیمنٹ کو کچھ نہیں سمجھا جارہاہے۔ چیئرمین نیشنل بینک نے کہاکہ قانون میں مسئلہ ہے معاملہ عدالت میں ہے ہم عدالتی فیصلے کے بغیر کچھ نہیں کرسکتے ہیں۔وزارت خزانہ کے حکام نے کہاکہ وزارت قانون انصاف نے رائے دی ہے کہ نیشنل بینک کو آڈٹ آڈٖیٹرجنرل آف پاکستان سے کرانا چاہیے۔ کمیٹی نے وزارت خزانہ کو حکم دیا کہ پندرہ دن کے اندر نیشنل بینک کو آڈٹ کے حوالے سے سندھ ہائیکورٹ میں کیا گیا کیس واپس لینے کاخط لکھیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
نیشنل بینک کا آڈیٹر جنرل سے آڈٹ کروانے سے انکار، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی شدید برہم is highly popular post having 1 Twitter shares
Share with your friends
Powered by ESSB

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site