سی پی ڈی آئی اور پاکستان انفارمیشن کمیشن کے اشتراک سے سیمینار کا انعقاد

اسلام آباد(نقارخانہ خصوصی رپورٹ) سی پی ڈی آئی اور پاکستان انفارمیشن کمیشن کے اشتراک سے ایک روزہ سیمینار کا اہتمام کیا گیا۔ سیمینار کا بنیادی مقصد وفاقی معلومات تک رسائی کا قانون 2017 پر عملدرآمد کو جانچنے اور اس میں حائل رکاوٹوں پر بحث کرناتھی

۔ اس سیمینار میں سی پی ڈی آئی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر مختار احمد علی، پاکستان انفارمیشن کمیشن کے چیف انفارمیشن کمشنر محمد اعظم، فواد ملک، زاہد عبداللہ، خیبر پختونخواہ انفارمیشن کمیشن کی چیف انفارمیشن کمشنر فرح حامد، خیبر پختونخواہ اسمبلی کی ممبر نعیمہ کشور، پنجاب اسمبلی کی ممبر کنول پرویز چوہدری، سی جی پی اے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر انور یوسفزئی اور سینیٹر تاج حیدر نے شرکت کی۔

اس کے علاوہ تقریب میں وفاقی وزارتوں کے پبلک انفارمیشن آفیسرز، صحافیوں، سول سوسائٹی کے ممبران اور وکلا حضرات نے شرکت کی۔سیمینار کے آغاز میں عامر اعجاز نے تحقیقی رپورٹ کے نکات پیش کیے۔

جن کے مطابق وفاقی سرکاری ادارے معلومات کی از خود فراہمی اور معلومات تک رسائی کی درخواستوں پر عمل درآمد کرنے میں ناکام رہے۔ رپورٹ سے پتا چلا ہے کہ وزارتیں اور محکمے پی آئی اوز کو تربیت دینے اور انہیں معلومات کے حق کے قانونی تقاضوں کے بارے میں ٹرینینگ دینے میں ناکام رہے ہیں۔ منتخب کردہ وزارتوں یا محکموں میں سے کسی نے بھی آر ٹی آئی کے نفاذ کے لیے کوئی منصوبہ تیار نہیں کیا۔

صرف چند وزارتوں نے انفارمیشن کمیشن کے ذریعہ تیار کردہ رہنما خطوط اپنی ویب سائٹس پر ڈالے ہیں۔اس رپورٹ سے یہ بھی پتا چلا کہ منتخب کردہ زیادہ تر وزارتیں سالانہ رپورٹ تیار کرتی ہیں۔ لیکن کسی بھی محکمے نے سالانہ رپورٹ میں آر ٹی آئی کی درخواستوں کے اعداد و شمار شامل نہیں کیے ہیں اور نہ ہی اپنی وزارت یا محکمہ میں آر ٹی آئی کے نفاذ کے لیے کوئی علیحدہ رپورٹ شائع کی ہے۔

مختار احمد علی نے معلوما ت تک رسائی کی اہمیت بیان کی اور کہا کہ اس قانون پر اسی صورت میں بہتر طریقہ سے عمل درآمد ہو سکتا ہے جب سرکاری ادارے اپنی معلومات ویب سائٹ کے زریعے از خود فراہم کریں۔ انہوں نے اس بات کو سراہتے ہوئے کہا کہ صوبوں اور وفاقی سطح پر معلومات تک رسائی کے قوانین نافذ کیے گئے ہیں جب کہ ان پر عملدرآمد خاص طور پر سندھ اور بلوچستان میں ایک سوالیہ نشان ہے۔انہوں نے شہریوں کو شفافیت، احتساب اور شہریوں کی شمولیت کو فروغ دینے کے لیے جاننے کے اپنے بنیادی حق کو استعمال کرنے کی ترغیب دی۔

انور یوسفزئی نے خیبر پختونخواہ معلومات تک رسائی کا قانون پر عملدرآمد میں حائل رکاوٹوں اور خامیوں کی نشاندہی کی اور فرح حامد، چیف انفارمیشن کمشنر نے ان رکاوٹوں اور مسائل دور کرنے کی یقین دہانی کروائی۔مزید براں انکا کہنا تھا کہ خیبر پختونخواہ انفارمیشن کمیشن معلومات تک رسائی کے قوانین کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے سول سوسائٹی کی تنظیموں کے تعاون سے بیداری مہم جاری رکھے گا۔خیبر پختونخواہ اسمبلی کی ایم پی اے محترمہ نعیمہ کشور نے کہا کہ ڈیجیٹل دور میں ویب سائٹس کے ذریعے معلومات کا فعال انکشاف معلومات تک رسائی کے لحاظ سے انفارمیشن کمیشن کے بوجھ کو کم کر سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ معلومات تک شہریوں کی رسائی کے استعمال کے لیے عوام میں آگاہی بہت ضروری ہے اور معلومات کے حصول کا طریقہ کار سادہ اور آسان ہونا چاہیے۔

پنجاب اسمبلی کی ایم پی اے محترمہ کنول پرویز چوہدری نے کہا کہ آر ٹی آئی شفافیت کا ایک ذریعہ ہے لیکن پنجاب میں پبلک انفارمیشن افسران کی تعیناتی نہ ہونا ایک سوالیہ نشان ہے انہوں نے پنجاب آر ٹی آئی قانون کے موئثر نفاذ کے لیے پنجاب اسمبلی میں آواز اٹھانے کی پیشکش کی۔پاکستان انفارمیشن کمیشن کے چیف انفارمیشن کمشنر نے کہا کہ ایکٹ کے نفاذ کے لیے سنگین رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ ان رکاوٹوں میں نومبر 2018 سے قیام کے بعد سے انتظامی، طریقہ کار اور قانونی چیلنجز شامل ہیں۔ ان مشکلات کے باوجود کمیشن نے 260 سے زائد پبلک انفارمیشن افسران نامزد کروائے اور 578 سے زائد اپیلوں پر فیصلے کیے۔ سینیٹر تاج حیدر کا کہنا تھا کہ ریاست کو چاہیے کہ عوام کو اپنے فیصلوں اور اقدامات سے آگاہ رکھے جس سے اداروں کی عزت و وقار میں اضافہ ہوتا ہے سوال جواب کے سیشن کے دوران شرکاء کو پاکستان میں آر ٹی آئی قوانین کے نفاذ کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیا گیا۔ آخر میں، تمام شرکاء نے پاکستان میں معلومات تک زیادہ سے زیادہ عوام کی رسائی کے ساتھ شفاف اور جوابدہ آر ٹی آئی نظام کے فروغ کے لیے اپنی مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کا عہد کیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site