نئی حکومت کے منتخب ہونے تک آرمی چیف جنرل باجوہ کو توسیع دی جائے:عمران خان

لاہور(نقارخانہ نیوز ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ 85 سیٹوں والا مفرور کیسے آرمی چیف سلیکٹ کر سکتا ہے؟ اگر مخالفین الیکشن جیت جاتے ہیں تو پھر سپہ سالار کا انتخاب کر لیں، مجھے کوئی مسئلہ نہیں، نئی حکومت کے منتخب ہونے تک جنرل قمر باجوہ کوعہدے پر توسیع دی جائے۔ان خیالات کا اظہار سابق وزیراعظم ان خیالات کا اظہار عمران خان نے نجی ٹی وی کو انٹرودیودیتے ہوئے کیا۔۔ عمران خان نے وزیراعظم شہباز شریف سے متعدد سوالات پوچھ لیےسماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر سلسلہ وار ٹویٹس میں عمران خان نے شہباز شریف سے متعدد سوال پوچھے۔ جن میں انہوں نے لکھا کہ شہباز شریف سےمیرا سوال: کیا تحریک انصاف کے خوف کی وجہ سےمیڈیاپر ہماری زباں بندی، اہلِ صحافت پر تشدد اور ان کے خلاف جھوٹے مقدموں کے اندراج، ٹی وی اور یوٹیوب پر مجھے اور تحریک انصاف کو بلیک آؤٹ کرنے اور میری فلڈریلیف ٹیلی تھون کی نشریات روکنے جیسی مذموم کوشش کے آپ ذمہ دار ہیں؟انہوں نے کہا کہ ہمیں معلوم ہےکہ آپ کے مجرم حواری اورانکے سرپرست تحریک انصاف کی مقبولیت سے خوفزدہ ہیں۔ اگر آپ ہمارےآئینی حقوق غصب کرنےاور اظہاروصحافت کی آزادی کےحوالے سےعالمی وعدوں سے انحراف کے ذمہ دار نہیں تو قوم کو یہ بتانا آپ کی ذمہ داری ہے کہ اس سب کا ذمہ دار کون ہے؟پی ٹی آئی چیئر مین نے مزید لکھا کہ مجرموں پر مشتمل امپورٹڈ حکومت ان کے سرپرستوں نے گزشتہ شب سیلاب متاثرین کیلئےعطیات جمع کرنے کے حوالے سے منعقدہ میری ٹیلی تھون کی نشریات رکوا کر نئی سطح تک گراوٹ کا مظاہرہ کیا ہے۔ پہلے انہوں نے چینلز پر ٹیلی تھون نہ دکھانے کے حوالے سے دباؤ ڈالا۔ اس کے باوجود جب چند چینلز نے نشریات جاری رکھیں تو انہوں نے کیبل آپریٹرز کو دھمکایا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قوم میں ہماری بڑھتی ہوئی مقبولیت سے یہ کس قدرخوفزدہ ہیں۔ انہیں یہ بھی عِلم ہے لوٹ مار کی طویل تاریخ کے باعث پیسوں کے معاملے میں کوئی ان پر اعتماد کو تیار نہیں۔ چنانچہ مجھے اور میری جماعت کو نشانہ بنانےکیلئے انہوں نے سیلاب متاثرین کیلئے عطیات جمع کرنےکی راہ میں روڑے اٹکانے کی کوشش کی۔سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ بے حسّی ناقابلِ تصوّر ہے، اس سب کے باوجود ہم محض 2 گھنٹوں میں 5.2 ارب روپے جمع کرنےمیں کامیاب رہے۔ میں دیارِغیرخصوصاًامریکہ میں مقیم پاکستانیوں سمیت عطیہ کرنے والے ہر ایک فرد کا مشکور ہوں۔اسلام آباد میں ہونے والے پارٹی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ملک شدید بدترین معاشی بحران کے نرغے میں ہے، ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔عمران خان نے کہا کہ تحریک انصاف فوری طور پر متبادل معاشی منصوبہ تیار کرے، لازم ہے مضبوط معیشت کیلئے اپنی تجاویز قوم کے سامنے رکھیں۔اجلاس میں سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے قیادت کو کرنسی کی صورت حال سے آگاہ کیا۔عمران خان نے قائدین کو معاشی بحالی کی حکمتِ عملی تیار کرنے کی ہدایت کردی۔اجلاس میں عمران خان کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ آئندہ چند ماہ میں ملکی معیشت کو سنگین صورت حال کا سامنا ہوگا۔ بنی گالا میں ہونے والے اجلاس میں ملکی سیاسی صورت حال، معیشت اور دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔پی ٹی آئی رہنما اسد عمر نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو تقریباً 30 ارب ڈالر کے قرضے واپس کرنا ہیں، آئی ایم ایف سے ملنے والا قرض محض 2 ارب ڈالر ہے۔بریفنگ میں کہا گیا کہ سیاسی عدم استحکام کے باعث پاکستان کی بانڈ مارکیٹ مکمل تباہ ہو چکی، تحریک انصاف کی حکومت ختم کی گئی تو بانڈ 4 فیصد کے ڈسکاؤنٹ ریٹ پر تھا۔اسد عمر نے اپنی بریفنگ میں کہا کہ بانڈ اب 50 فیصد ڈسکاؤنٹ ریٹ پر مل رہا ہے، یہ کیفیت ظاہر کرتی ہے پاکستان دیوالیہ پن کی دہلیز پر کس قدر آگے جا چکا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site