آئینی حکومت کو گرانا ایک جرم ہے: وزیر قانون

اسلام آباد(نقارخانہ نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ آئین کے مطابق آئینی حکومت کو گرانا یا غیر آئینی حکومت کو ہٹانے کی کوشش کرنا ایک جرم ہے، عمران خان کے خلاف فوجداری مقدمہ واپس نہیں لیا جائے گا، تحریک انصاف کی جانب سے وفاق کا محاصرہ کیا گیا تو پنجاب میں گورنرراج پر غور کیا جا سکتا ہے، ٹرانسجینڈر بل کے حوالے سے بے بنیاد پروپیگنڈا کیا جارہا ہے، بل کے تحت ٹرانسجینڈرکے ساتھ غیرمساویانہ سلوک کو روکا گیا، ٹرانسجینڈر کو حقوق دینا ریاست کی ذمہ داری ہے، ٹرانسجینڈر پاکستانی اور اسی معاشرے کا حصہ ہے، یہ نیا قانون نہیں 2018 کا قانون ہے۔وزیراعظم کے مشیر برائے امور کشمیر، گلگت بلتستان قمر الزمان کائرہ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب میں وفاقی وزیر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد اس قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لئے ترامیم پارلیمان میں لائے ہیں، حکومت ان ترامیم کی حمایت کرتی ہے، ٹرانسجینڈر قانون کے سارے عمل میں اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے بھی شامل تھی، شرعی عدالت کے اس سے متعلق فیصلے کو من و عن تسلیم کریں گے، ٹرانسجینڈر کے میڈیکل بارے میں بھی شرعی عدالت کی رہنمائی کی ضرورت ہے، اس قانون کے ذریعے ٹرانسجینڈر کے حقوق کو تحفظ دیا گیا ہے، ٹرانسجینڈر قانون کے دو سال کے بعد سیکشن 3 اور چار سے متعلق کچھ باتیں سامنے آئیں، سینیٹر مشتاق نے اس پر ایک ترمیم کا پیکج متعارف کرایا، اس میں مناسب ترمیم کر کے میڈیکل بورڈ کے فیصلے کے ساتھ مشروط کر دیا جائے، یہ معاملہ ابھی پارلیمان میں زیر غور تھا کہ وفاقی شرعی عدالت میں دو درخواستیں دائر کی گئیں، موجودہ حکومت نے اپنا جواب داخل کرایا ہے کہ اگر اس قانون کی شق پر ترمیم ضروری ہو تو پارلیمان کے ذریعے کر دی جائے۔انہوں نے کہا کہ ایک تاثر دیا گیا کہ ہم جنس پرستی بڑھ گئی ہے، ہم جنس پرست شادیاں ہورہی ہیں، میڈیکل معذوری کو ختم کرنے کے لئے سرجریاں ماضی میں بھی ہوتی رہی ہیں، ایک خاکہ کشی کی گئی کہ سارا قانون غلط ہے، اس قانون میں خواجہ سرا کی تعریف درج ہے، 18 سال کی عمر میں شناختی کارڈ بنواتے وقت جنس کا لکھنا، امتیازی سلوک سے منع، جنسی ہراسیت کو جرم قرار دیا گیا، زبردستی بھیک منگوانے پر سزا رکھی گئی ہے، شریعت کے مطابق صنف کے مطابق وراثت میں حصہ دیا جائے، تعلیم کے حصول کے لئے مناسب ماحول کی فراہمی کا کہا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام سے بھی امید رکھتے ہیں کہ ٹرانسجینڈر پاکستان کا حصہ ہیں، معاشرے میں ٹرانسجینڈر کے حقوق کی خلاف ورزی اور دل آزاری نہیں ہونی چاہیے، وراثت کے معاملات میں بھی ٹرانسجینڈر کا حق ہونا چاہیے، شرعی عدالت اس بارے میں بھی کچھ تشریح کرے، وزارت انسانی حقوق خواجہ سراؤں کے حقوق، جیلوں میں الگ سیل کے قیام اور دیگر امور پر کام کر رہی ہے۔اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آئین میں وفاقی حکومت کے اختیارات کا تعین ہے، ایک افسر کو ریلیو کرنے کا معاملہ چل رہا ہے، وفاقی افسر کی تقرری اور تعیناتی وفاقی حکومت کا اختیار ہے، اگر کوئی صوبائی افسر ہوتو وفاق اسے نہیں مانگ سکتا، آئین کے مطابق آئینی حکومت کو گرانا یا غیر آئینی حکومت کو ہٹانے کی کوشش کرنا بھی ایک جرم ہے، آئین کے مطابق وزیراعظم نے معاونین خصوصی بنائے ہیں، یہ وزیراعظم کا استحقاق ہے اور آئین بھی اس کی اجازت دیتا ہے۔وزیراعظم کے مشیر برائے امور کشمیر، گلگت بلتستان قمر الزمان کائرہ نے کہا کہ سوشل میڈیا جھوٹ کی خبروں کا گڑھ بن چکاہے، غلط خبریں پھیلا کر معاشرے کو گمراہ کیا جارہا ہے، 2018 کو یہ قانون بنا ہوا ہے، جماعت اسلامی کے سینیٹر قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لئے ترمیم پارلیمان میں لائے ہیں، یہ معاملہ قائمہ کمیٹی کے سپرد ہے، اگر سینیٹر مشتاق احمد کی ترمیم منظور ہوجاتی ہے تو قانون تو باقی وہ ہی رہے گا، قانون میں جو سقم ہیں وہ دور کرنے کے لئے ترامیم لائی جارہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ جس طرح دیگر نوعیت کی معذوری ہوتی ہے اسی طرح ٹرانسجینڈر بھی ایک معذوری ہے، ان سے نفرت کر نا بہت غیر مناسب ہے، خواجہ سراؤں کی تنظیموں کا بھی یہ ہی مطالبہ تھا کہ ٹرانسجینڈر کے حوالے سے مناسب قانون سازی ہونی چاہیے، معذورں کا بھی کوٹہ سرکاری ملازمتوں میں ہوتا ہے جو کبھی کبھار غلط استعمال ہوتا ہے، ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت آزادی اظہار پر مکمل یقین رکھتی ہے لیکن آزادی کا مطلب کسی کو گالیاں دینا یا آزادی سلب کرنا نہیں ہے، حکومت سوشل میڈیا پر پابندی نہیں لگانا چاہتی لیکن سوشل میڈیا کے غلط استعمال کو روکنے کے لئے کسی نہ کسی وقت قانون کے دائرے میں لانا پڑے گا، وزیراعلیٰ پنجاب کی سی سی پی او کو گلے لگانے کی تصویر ایک افسر کو وفاق کے خلاف اکسانے کی واضح مثال ہے، جب ایک طرف سے کہا جارہاہے کہ وفاقی پر چاروں اطراف سے حملہ کریں گے تو اس صورت میں ملک کے وزیر داخلہ کے بیانات ایسے ہی بنتے ہیں، اگر ایک سیاسی جماعت کی حکومت ہو تو اس کی کابینہ اور اتحادی حکومت کی کابینہ کی تعداد میں فرق ہوتا ہے، معاونین خصوصی کے لئے کوئی الگ سے اعزازیہ یا مراعات نہیں ہوتیں، اس معاملے پر بھی بلاجواز اور بے بنیاد پروپیگنڈا کیا جارہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site