کب تک بھیک مانگتے رہیں گے؟

تحریر : سمیرا سلیم

  اقوام عالم کیلئے سال 2022 معاشی مشکلات اور سیکیورٹی چیلنجز لئے اختتام پذیر ہوا ۔ اس سال توانائی، اجناس  کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور مہنگائی نے جہاں ترقی یافتہ ممالک کو متاثر کیا وہیں  پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک پر اس کے سنگین اثرات مرتب ہوئے  ۔ معاشی صورتحال میں مزید خرابی کی ابتداء  گذشتہ سال روس کے یوکرین پر حملے سے ہوئی۔ 24 فروری کو روس کی جانب سے مشرقی یورپ کے ملک یوکرین پر میزائل حملوں نے  مغربی ممالک کی مضبوط معیشتوں کو ہلا کر رکھ دیا ۔   یوکرین جیسا خوبصورت اور خوشحال ملک دیکھتے ہی دیکھتے اجڑ گیا ۔ میزائلوں اور راکٹوں نے Kyiv, Odesa جیسے خوبصورت شہروں کا نقشہ بگاڑ  دیا ۔یو این ایچ سی آر کے اعدادوشمار کے مطابق تقریباً 1 کروڑ 69 لاکھ لوگ یوکرین چھوڑ چکے جبکہ  79 لاکھ افراد یورپ کے مختلف ممالک میں بے گھر اور مشکلات سے بھری زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ روس کا یوکرین پر حملہ پاکستان کے لئے بھی معاشی، سفارتی اور سیاسی محاذ پر کئی مشکلات لے کر آیا۔ اسے پاکستان کی بدقسمتی کہیں کہ روس  نے اسی دن یوکرین پر حملہ کیا جس وقت پاکستان کے وزیراعظم روس میں موجود تھے اور روسی صدر  سے پاکستان کی توانائی کی ضروریات سمیت دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے میں  مصروف عمل تھے۔مغربی دنیا بشمول امریکہ وزیر اعظم عمران خان سے توقع کر رہا تھا کہ وہ اپنا دورہ ختم کرکے واپس آجائیں اور روس کے اس عمل کی کھل کر مذمت کریں۔ اگرچہ امریکی و مغربی دباؤ کے باوجود عمران خان نے دورہ ملتوی کیا نہ ہی روس کی مذمت کی۔ پی ٹی آئی کا دعوی ہے کہ مشہور زمانہ امریکی سائفر کی ایک بنیاد  عمران خان کی یہ پالیسی  بھی تھی جو اس نے روس/یوکرین جنگ کے حوالے سے اپنائی۔   روس اور یوکرین جنگ کے نتیجے میں  امریکہ و یورپ  نے روس پر پابندیاں عائد کر دی اور بدلے میں ولادی میر پیوٹن نے بھی یورپ کو گیس کی فراہمی معطل کر دی جس سے انرجی کرائسس پیدا ہوا ۔ خام تیل ، غذائی اجناس اور گیس  کی قیمتوں میں  عالمی سطح پر ہوشربا اضافے نے ترقی پذیر ممالک اور صارفین کے لیے خاص طور پر مالی مشکلات بڑھا دیں ۔ پاکستان جیسا ملک جو پہلے ہی معاشی گرداب میں پھنسا ہوا تھا، ان حالات نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ گذشتہ سال اپریل میں سیاسی افق پر نئی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔  مارچ میں اپوزیشن اتحاد  پی ڈی ایم نے وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کر دی نتیجتاً کپتان کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا اور منی لانڈرنگ کے کیسسز  کا سامنا کرنے والے شہباز شریف وزیراعظم بن گئے۔   عوام کو اتنی پراسرار تبدیلی کی توقع نہ تھی ۔ وہ تو سزا ملنے کی توقع کئے ہوئے  تھے۔ شہباز شریف کا وزیراعظم بننا 2022 میں پاکستانی عوام کے لئے بڑا سرپرائز تھا۔ اس سال کا سب سے بڑا کارنامہ تو یہی رہاکہ کرپٹ سیاست دانوں کو ایک بار پھر ڈرائی کلین کر دیا گیا اور رہی سہی کسر نیب آرڈیننس میں ترمیم کر کے پوری کر دی گئی۔اگر یوں کہا جائے کہ 2022 پاکستانی عوام کے لئے سرپرائزز سے بھرپور سال تھا تو غلط نہ ہوگا۔ ۔ پیارے ملک میں عوام تو ہمیشہ ہی مشکلات سے دو چار رہی ہے مگر گزشتہ برس کچھ زیادہ ہی طوفانی اور ہنگامہ خیز رہا۔ گزشتہ برس یہاں پر چند بڑے واقعات رونما ہوئے۔ پاکستان میں ویسے تو عمران خان کے دور حکومت میں سیاحت کو فروغ دینے کی کوشش کی گئی کیونکہ سیاحت سے پاکستان بہت اچھا زرمبادلہ کمانے کی استعداد رکھتا ہے۔ جیساکہ 2019 میں پاکستان نے سیاحت سے 15 بلین ڈالر کمائے جو کہ ملکی جی ڈی پی کا 5.7 فیصد بنتا ہے۔لیکن کرونا وائرس کی وجہ سے عائد پابندیوں کے باعث 2020 میں سیاحت کے شعبے میں سرد مہری رہی اور سیاحتی شعبے میں 2019 کے مقابلے میں نمایاں 25 فیصد کمی کے ساتھ سیاحتی شعبے کا حجم 11.6 ارب ڈالر رہ گیا۔ اسی لئے جب کرونا کا زور ٹوٹا اور پابندیوں کا خاتمہ ہوا تو لوگوں نے دوبارہ سیاحتی مقامات کا رخ کیا۔ لیکن بدقسمتی سے 2022 کی ابتدا میں7 جنوری کو سیاحتی مقام مری میں انتہائی دل سوز سانحہ پیش آیا جس میں23 سیاح اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں کا انفرا اسٹرکچر اس قابل نہیں کہ زیادہ لوگوں کی آمد و رفت کو کنٹرول کر سکے۔ ایسی صورتحال میں 1لاکھ 60 ہزار سے زائد گاڑیوں کا مری اور گلیات کا رخ کرنا کسی بڑے حادثے کی پیشگوئی کر رہا تھا اور پھر کچھ ایسا ہی ہوا۔طوفانی برف باری سے گاڑیاں پھنس گئیں اور لوگ امداد کی آس میں گاڑیوں کے اندر ہی دم گھٹنے سے ہلاک ہوگئے۔پھر مئی 2022 سے اکتوبر 2022 تک سیلاب نے چاروں صوبوں میں تباہی مچا دی اور لوگ ابھی تک اپنے گھروں کو نہ لوٹ سکے۔ موسم کی اس بے رحمی اور قدرتی آفت سے 18 سو کے لگ بھگ لوگ جان بحق ہوئے جبکہ 3 کروڑ اور 30 لاکھ لوگ اس سے متاثر ہوئے۔ ابھی بری خبروں کا سلسلہ تھما نہ تھا کہ اکتوبر کی 23 تاریخ رات  3 بجے ایک ایسی خبر ملی جس نے سب پر سکتہ طاری کر دیا۔پاکستان کا نامور تحقیقاتی صحافی ارشد شریف  سچائی کی آواز بلند کرنے کی پاداش میں دیار غیر میں قتل کر دیا گیا۔ پورا پاکستان سوگوار تھا ماسوائے ان ظالموں کے جنہوں نے اس کی جان لی۔  ہر جان ہی بہت قیمتی ہے تاہم کچھ لوگ ملک کا اثاثہ ہوا کرتے ہیں ۔ ارشد شریف بھی ایسے لوگوں میں شامل تھا۔ ظالموں نے اپنی جھوٹی انا کی خاطر  حق کی آواز کو ہمیشہ کیلئے خاموش کرا دیا ۔ شاید  وہ یہ بھول گئے کہ خون ناحق کا   خمیازہ قومیں دہائیوں تک بگھتی ہیں ۔ اس حادثے نے مجھے Bergen University ناروے میں اپنے بنگلہ دیشی کلاس فیلوز  کی یاد دلا دی جو 1971 کے ملٹری آپریشن کے دوران خود پر ہونے والے مظالم کی داستان سنا رہے تھے اور میرے پاس کہنے کو کچھ نہی تھا۔۔مشرقی پاکستان کے باسیوں کے ساتھ سیاسی نا انصافی اور  غیر منصفانہ سلوک کی  قیمت وطن عزیز کی تقسیم کی صورت میں چکانا پڑی۔ مگر تاریخ سے ہم نے کب کچھ سیکھا ہے۔ پاکستان میں کئی بحران آئے لیکن ہمارے حکمرانوں کا کچھ نہ بگاڑ سکے۔قربانی کے لیے صرف عوام کو ہی چنا گیا۔ 23 کروڑ کے لگ بھگ ریوڑ کو کیسے ہانکنا ہے یہ سیاستدان خوب جانتے ہیں۔ اس وقت بھی ملک معاشی طور پر سنگین صورتحال سے گزر رہا ہے۔ مسائل کا انبار لگ چکا ہے اور امیدوں کے سب چراغ بجھتے چلے جا رہے ہیں۔ پاکستان ڈیفالٹ کے دہانے پر ہے اور حکومت ڈیفالٹ سے بچانے کے لیے دوست ممالک کے سامنے ایک بار پھر ہاتھ پھیلائے بیٹھی ہے۔ ہمارے دوست ممالک بھی سوچتے ہونگے کہ یہ کس قسم کے حکمران ہیں جو ہم سے تو ڈالر مانگنے آجاتے ہیں اور خود کی ساری دولت ڈالرز میں باہر کے ممالک میں رکھی ہوئی ہے۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ پاکستان کو ڈیفالٹ کا خطرہ لاحق ہوا ہو۔ ہماری تاریخ ان خطرات سے بھری پڑی ہے۔ ماضی پر نظر ڈالیں تو مئی 1998 میں بھی ڈیفالٹ کا خطرہ شدت اختیار کر گیا تھا جب پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر انتہائی کم ترین سطح0.6 بلین ڈالرز رہ گئے تھے۔ ان 75 سالوں میں پاکستان 22 بار آئی ایم ایف کے پاس جا چکا ہے تاہم  اس بار آئی ایم ایف پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچانے کو تیار نہیں۔ ایک طرف حکومت کے پاس اخراجات اور ادائیگیوں کے لیے پیسے نہیں لیکن دوسری طرف مالی وسائل میں کمی کے باوجود دو دن قبل 472 ارب روپے مالیت کے 11 منصوبوں کی منظوری دی گئی۔ ان  منظور کردہ منصوبوں میں زیادہ تر منصوبے سیاسی فوائد کے حصول لئے شروع کئے جائیں گے تاکہ حکومت آئندہ انتخابات میں ووٹرز کو اپنی جانب راغب کر سکے۔ دوست ممالک اور آئی ایم ایفحکومت پر  اعتبار کرنے کو تیار نہیں  چنانچہ ملک کو ڈیفالٹ سے بچانے کے لیے ٹاسک ہمارے نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو سونپ دیا گیا ہے۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا۔ ماضی میں بھی آرمی چیفس ہی یہ ذمہ داری نبھاتے رہے۔۔پھر گلہ کرتے ہیں کہ فیصلے کوئی اور کرتا ہے  جن سیاستدانوں کو منی لانڈرنگ، کرپشن کے کیسز کا سامنا ہو ان پر اعتماد کون کرے گا ؟۔ ملک میں امن وامان کی صورتحال بھی بگڑتی جارہی ہے۔ دہشت گردی نے دوبارہ  سر اٹھانا شروع کر دیا ہے جس سے ملک کی اندرونی سیکیورٹی کےمسائل میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ ہماری 75 سالہ تاریخ گواہ ہے کہ  ہر معاشی بحران میں پاکستان کبھی امریکہ تو کبھی دوست ممالک کے سامنے ہاتھ پھیلاتا آیا ہے ۔  مانگنا کتنا آسان ہو گیا ہے ہمارے حکمرانوں کے لئے یا پھر ان کو عادت پڑ چکی ہے۔ آخر کب تک ہم دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلاتے رہیں گے اور ہماری اسٹیبلشمنٹ سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کی بجائے حکمرانوں کو سیاسی و  معاشی بیل آؤٹ پیکج لے کر دیتی رہے گی؟ 2018 سے اب تک 5 وزراء خزانہ ملک کی معیشت کو پٹڑی پر چڑھانے کے دعوے لئے آئے اور معیشت کا بیڑہ غرق کرنے میں اپنا حصہ ڈال کر چلتے بنے۔ بڑے بڑے دعوے کرنے والے اسحاق ڈار نے ملک کو مزید خرابی کی جانب دھکیل دیا ہے۔ اسحاق ڈار اور مفتاح اسماعیل کو اپنی ذاتی لڑائی سے ہی فرصت نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہچکولے کھاتی معیشت سال 2023 میں سنبھل پائے گی؟ کیا نئے سال میں کچھ نیا ہونے جا رہا ہے یا پھر ملک پرانے طرز پر ہی چلتا رہے گا۔ اب عوام کو بھی سوچنا ہو گا کہ آخر کب تک بھیک مانگ کر زندگی گزرے گی ؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
کب تک بھیک مانگتے رہیں گے؟ is highly popular post having 1 Twitter shares
Share with your friends
Powered by ESSB

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site