بھارت میں کورونا پھیلانے والے مذہبی رہنما کی ہلاکت کے بعد 40 ہزار افراد قرنطینہ میں داخل

سکھوں کے گرو بلدیو سنگھ کی کورونا سے ہلاکت کے بعد حکومت نے 20 گاؤں کے 40 ہزار افراد کو قرنطینہ میں داخل کرا دیا ہے۔

70 سالہ بلدیو سنگھ حال ہی میں اٹلی اور جرمنی کا دورہ کر کے واپس آئے تھے اور پنجاب کے درجنوں دیہاتوں میں سکھ مذہب کی تبلیغ کرتے رہے تھے۔

وہ اور ان کے دو قریبی ساتھیوں کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا اس کے باوجود انہوں نے الگ تھلگ ہونے سے انکار کر دیا اور عوام کے ساتھ ملتے جلتے رہے۔

اس دوران ان کی حالت بگڑ گئی اور انہیں اسپتال داخل کرا دیا گیا جہاں ان موت واقع ہو گئی۔

بلدیو سنگھ سے رابطے میں آنے والوں میں 19 افراد میں کورونا کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 200 کے ٹیسٹ ہو چکے ہیں جن کا نتیجہ آنا باقی ہے۔

گورو کی موت کے بعد حکومت نے 20 گاؤں کو الگ تھلگ کر دیا گیا تھا جس کے باعث 40 ہزار لوگ قرنطینہ میں ڈال دیے گئے۔

بھارتیوں نے کرفیو ہوا میں اڑا دیا، ہزاروں لوگ بس ٹرمینل پر امڈ آئے

کورونا وائرس کے خلاف جنگ، بھارت کے امیرترین افراد میدان میں آ گئے

بھارت میں 21 روز کے لاک ڈاؤن کا اعلان، کوئی گھر سے نہیں‌ نکل سکے گا

ان کی موت سکھ کمیونٹی کے لیے بہت بڑا صدمہ سمجھا جا رہا ہے، پنجاب کے ایک مشہور پنجابی گلوکار سدھو موز نے ان کے لیے ایک گیت گایا جسے صرف دو دنوں میں یوٹیوب پر لاکھوں لوگ دیکھ چکے ہیں۔

اب تک بھار ت میں کورونا وائرس کے 987 کیسز سامنے آ چکے ہیں جبکہ 25 افراد اس سے ہلاک ہو چکے ہیں۔

ایک ارب 30 کروڑ آبادی والے اس ملک میں کورونا کا پہلا کیس 30 جنوری کو سامنے آیا تاہم حالیہ ہفتوں میں یہ وبا تیزی سے پھیلنا شروع ہو گئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site