لاک ڈاؤن کی وجہ سے بیروزگاری، نریند مودی نے معافی مانگ لی

ہندوستان میں صرف چار گھنٹے کے نوٹس پر پورا ملک بند کرنے اور اس فیصلہ کے نتیجے میں بڑی تعداد میں بیروزگاری پھیلنے پر وزیر اعظم نریندر مودی نے معافی مانگ لی۔

بھارت میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشہ کے پیش نظر بغیر منصوبہ بندی کے لاک ڈاؤن کے فیصلہ پر سرکار تنقید کے نشانہ پر ہے.

مودی حکومت کے اس فیصلے سے ہندوستان کے ایک ارب تیس کروڑ شہریوں میں سے بہت سے افراد بے روزگار ہوگئے ہیں, ہزاروں تارکین وطن مزدور سیکڑوں کلومیٹر پیدل اپنے آبائی گائوں جانے کے لئے مجبور ہو گئے ہیں۔

اپنے ہفتہ وار ریڈیو خطاب میں وزیر اعظم نریندر مودی نے لاک ڈاؤن کے فیصلے پر معذرت کی, انہوں نے کہا کہ وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔

بھارت میں 21 روز کے لاک ڈاؤن کا اعلان، کوئی گھر سے نہیں‌ نکل سکے گا

بھارت میں کورونا پھیلانے والے مذہبی رہنما کی ہلاکت کے بعد 40 ہزار افراد قرنطینہ میں داخل

بھارت میں کورونا کے شکار ہندو کی آخری رسومات مسلمانوں کے ہاتھوں، ویڈیو وائرل

ان کا کہنا تھا کہ جب میں اپنے غریب بھائیوں اور بہنوں کی طرف دیکھتا ہوں تو مجھے یقینی طور پر محسوس ہوتا ہے کہ وہ ضرور سوچ رہے ہوں گے ، یہ کیسا وزیر اعظم ہے جس نے ہمیں اس مشکل میں ڈالا ہے؟ میں خاص طور پر ان سے معافی چاہتا ہوں۔

بھارتی وزیر اعظم نے کہا کہ شاید بہت سے لوگ اپنے گھروں میں بند رہنے پر مجھ پر ناراض ہوں گے۔میں آپ کی پریشانیوں کو سمجھتا ہوں لیکن کورونا وائرس کے خلاف جنگ لڑنے کا کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا … یہ زندگی اور موت کی جنگ ہے اور ہمیں اسے جیتنا ہے۔

منگل کو اعلان کیے گئے “مکمل لاک ڈاؤن” اقدامات کے تحت لوگوں کو تین ہفتوں کے لئے اپنے گھر چھوڑنے پر پابندی عائد ہے۔

 تمام غیر ضروری کاروبار بند کردیئے گئے ہیں اور تقریباً تمام عوامی اجتماعات پر پابندی عائد ہے۔

اس فیصلے کے بعد دہلی جیسے بڑے شہروں سے لوگوں نے نکلنا شروع کر دیا ہے جہاں نقل و حمل بند ہونے کے بعد ہزاروں تارکین وطن طویل سفر پر اپنے آبائی گاؤں جا رہے ہیں۔

ایک پولیس اہلکار نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ ایک کارکن کی ہفتے کے روز 168 میل (270 کلومیٹر) سفر کرنے کی کوشش کے دوران اس کی موت واقع ہو گئی۔

بھارت نے منگل کے روز ملک کے غریبوں کے لئے 22 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ کا اعلان کیا  جس میں مفت کھانا اور نقد رقم کی منتقلی بھی شامل ہے  لیکن ایسے خدشات ہیں کہ شاید یہ ضرورت مند افراد تک نہ پہنچ سکے۔

ایران میں کورونا کی تباہ کاری جاری، تین ہزار نئے مریض سامنے آ گئے

دنیا کے چار ممالک جنہوں نے پابندیاں لگائے بغیر کورونا کےخلاف کامیابی حاصل کی

اتوار کو شائع ہونے والے ایک کالم میں ابھیجیت بنرجی اور ایسٹر ڈوفلو نے، جو 2019 میں معاشیات کے نوبل انعام یافتہ ہیں، کہا کہ غریبوں کے لیے اس سے بھی زیادہ امداد کی ضرورت ہے۔

ہندوستان میں کورونا وائرس کے باعث 25 اموات اور تقریبا ایک ہزار کیس رپورٹ ہوئے ہیں تاہم ماہرین کو خدشہ ہے کہ انفیکشن کی اصل تعداد کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔

 ہندوستان کی ٹیسٹ کی شرح دنیا میں سب سے کم ہے  حالانکہ صلاحیت بڑھانے کی کوششیں جاری ہیں۔

یہ خدشات بھی موجود ہیں کہ ملک میں یہ وبا پھیل گئی تو دنیا کی سب سے گنجان آباد آبادی کے لیے نتائج تباہ کن ہو سکتے ہیں کیونکہ لاک ڈاؤن میں جانے سے پہلے ہی ملکی معیشت شدید مندی کا شکار تھی۔

About Post Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site