چینی اور گندم اسکینڈل کے بعد وفاقی کابینہ میں اہم تبدیلیاں

وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ اور دیگر اعلیٰ سطحی عہدوں میں ردوبدل کیا ہے، چینی اور گندم اسکینڈل کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ان تبدیلیوں کو سیاسی حلقوں میں بہت اہمیت دی جا رہی ہے۔

اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر فوڈ سیکورٹی خسرو بختار کو تبدیل کر کے اقتصادی امور کا وزیر بنا دیا گیا جبکہ سید فخر امام کو ان کی جگہ وفاقی وزیر فوڈ سیکورٹی مقرر کر دیا گیا ہے۔

سینئر وکیل بابر اعوان نے ایک مرتبہ پھر اقتدار کے ایوانوں میں قدم رکھ دیا ہے، انہیں مشیر پارلمانی امور کا قلمدان سونپ دیا گیا ہے، سیکٹری فوڈ ہاشم پوپلزئی کو فوری طور پر او ایس ڈی بنا دیا گیا جبکہ عمر حمید کو نیا وفاقی سیکرٹری فوڈ سیکورٹی لگایا گیا ہے۔

اسی طرح اعظم سواتی کو وفاقی وزیر انسداد منشیات مقرر کیا گیا ہے، وزیراعظم نے ایم کیو ایم کے خالد مقبول صدیقی کا بطور وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی استعفیٰ منظور کر لیا ہے۔

24ارب شوگر سبسڈی اسکینڈل: ترین، خسرو، مونس الہی نے اربوں کمائے، انکوائری رپورٹ سامنے آ گئی

آٹا، چینی بحران پر تحقیقاتی رپورٹ نے عثمان بزدار کی کارکردگی کا پول بھی کھول دیا

چینی، آٹے کا مصنوعی بحران، وزیراعظم کا تفصیلی رپورٹ آنے کے بعد کارروائی کا اعلان

تبدیلیوں کے اسی تسلسل میں امین الحق کو وفاقی وزیر ٹیلی کام اور حماد اظہر کو وفاقی وزیر صعنت مقرر کیا گیا ہے جبکہ وزیر اعظم کے مشیر ارباب شہزاد کو فوری طور پر عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے بھی کئی اہم فیصلے کیے ہیں، صوبائی وزیرخوران سمیع اللہ چوہدری کا استعفیٰ منظور کر لیا گیا ہے۔

اسی طرح کمشنر ڈیرہ غازی خان و سابقہ سیکرٹری خوراک نسیم صادق کی عہدے سے علیحدگی کی درخواست قبول کرتے ہوئے انہیں او ایس ڈی بنا دیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ نے سابق ڈائرکٹر خوراک ظفر اقبال کو بھی او ایس ڈی بنا دیا ہے۔

واضح رہے کہ ان تینوں افراد کا نام چینی اور گندم اسکینڈل کے حوالے سے جاری کی گئی رپورٹ میں آیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site