پاکستان میں چین کی نسبت کورونا وائرس زیادہ تیزی سے پھیل رہا ہے، چینی ڈاکٹر

کراچی: پاکستان کا دورہ کرنے والی چینی طبی عملے کی ٹیم کی سربراہ ڈاکٹر ما منگھوئی نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں کورونا مریضوں کی تشخیص کی شرح چین کی نسبت دس گنا زیادہ ہے۔

ایکسپریس ٹریبیون سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اب تک ٹیسٹ کرانے والے ہر دس افراد میں سے ایک کا ریزلٹ مثبت آیا ہے جبکہ شنجیانگ میں یہ شرح سو میں سے ایک تھی۔

ڈاکٹر ما چینی ڈاکٹرز کی ایک ٹیم کے ساتھ پاکستان میں موجود ہیں، انہوں نے پاکستان کے دو گروپس کے تجزیہ سے کام شروع کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ہم نے ان پاکستانیوں کو چیک کیا ہے جو ایران سے لوٹے تھے اور دوسرا گروہ، جسے ہم نے دیکھا ہے، وہ ان افراد پر مشتمل ہے جس نے پنجاب میں تبلیغی اجتماع میں شرکت کی تھی۔

پاکستان کورونا کا مقابلہ کیسے کرے؟ چینی نوجوانوں کے اردو میں ویڈیو پیغامات

رواں ماہ کورونا کے 25 ہزار ٹیسٹ یومیہ کرنے کے قابل ہو جائیں گے، اسد عمر

کورونا وائرس کے خلاف جنگ میں پاکستان کو کیا مسائل درپیش ہیں؟

ان کے مطابق اس تجزیے کے نتیجے میں پہلے گروہ میں سے کم ازکم 50 فیصد جبکہ دوسرے میں 15 فیصد کورونا کے مریض نکلے۔

ڈاکٹر ما کہنا ہے کہ سب سے خطرناک بات امکان یہ ہے کہ پاکستان میں کورونا وبا کا پھیلاؤ سامنے آنے والے کیسز کی نسبت کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے پاکستانی حکام اس وائرس کے خلاف تاریکی میں لڑ رہے ہیں۔

ان کے مطابق اگرچہ پاکستان نے سفر اور کاروباری سرگرمیوں پر پابندیاں جیسے مثبت اقدامات لیے ہیں لیکن ٹیسٹ کے لیے درکار کٹس کی کمی اور اور شہریوں کا ٹیسٹ کرانے میں ہچکچاہٹ ایسے عوامل ہیں جن کے باعث حقیقی اعدادوشمار ابھی تک پوشیدہ ہیں۔

انہوں نے پاکستانی حکومت پر زور دیا کہ وہ زیادہ سے زیادہ ٹیسٹ کریں کیونکہ جب تک حقیقی صورتحال سامنے نہیں آئے گی، کورونا وائرس پر قابو نہیں پایا جا سکے گا۔

ڈاکٹر ما نے کہا کہ پاکستانی حکومت کو فوری طور پر ایک ایسی ٹیم تشکیل دینی چاہیے جس میں ریڈیالوجسٹ، مائیکروبیالوجسٹ، نرسز، سانس کے شعبے کے ماہرین اور انتہائی نگہداشت کے ماہرین شامل ہوں۔

ان کے مطابق اس ٹیم کو تازہ ترین اعدادوشمار سے آگاہ رکھا جائے کیونکہ ہر گھنٹے بعد وبا کے شدت تبدیل ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو بنیادی مراکز صحت کو بھی ٹیسٹ کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔

چینی ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ ابھی تک بھی بہت سے پاکستانی گھروں سے باہر بغیر ماسک کے پھر رہے ہیں حالانکہ چہرہ ڈھانپنا اس وقت وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اشد ضروری ہے۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ پاکستانی معاشرے کا سماجی اور ثقافتی مزاج چین سے مختلف ہے اس لیے پاکستانی قیادت کو کورونا سے مقابلے کے لیے دیکھ بھال کر اقدامات کرنے ہوں گے۔

انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ پاکستانی عوام کورونا کو شکست دینے میں کامیاب ہو جائیں گے، ہمیں اس کے مقابلے میں متحد ہونا پڑے گا اور آپس میں تعاون کرنا پڑے گا۔

(یہ خبر ایکسپریس ٹریبون میں شائع ہوئی)

About Post Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site