بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کا اس سے پہلے آڈٹ نہیں کرایا گیا، خواجہ آصف کا اعتراف

ن لیگی رہنما خواجہ آصف نے  آئی پی پیز کی رپورٹ کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسے بنانے والوں نے اچھی خاصی عرق ریزی کی ہے اور اعدادو شمار دیکھنے کے بعد ہی رپورٹ لکھی ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ تین مرحلوں میں  آئی پی پیز لگی ہیں جن میں کچھ 1994 میں، 2002 اور 2015 میں، 2015 والی  آئی پی پیز میں سولر، ونڈ، ہائیڈل، کول اور گیس والی آئی پی پیز بھی شامل ہیں۔

خواجہ آصف  نے کہا کہ پہلے والی آئی پی پیز میں سرمایہ کار پہلے برسوں میں اپنی سرمایہ کاری واپس لے چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ وقتاً فوقتاً اٹھتا رہا۔

عوام پر بجلی کے مہنگے بلوں کا بوجھ کون ڈال رہا ہے؟ چیئرمین واپڈا نے بتا دیا

حکومت سابقہ دور کے ایل این جی معاہدے منسوخ کرنے سے پیچھے ہٹ گئی

کاشف عباسی نے اپنے پروگرام ” آف دی ریکارڈ“ میں خواجہ  آصف سے سوال کیا کہ پرائیویٹ کمپنیوں کا کبھی  آڈٹ کیا  گیا ہے جس کا خواجہ  آصف نے مختصراً جواب دیتے ہوئے کہا کہ کبھی نہیں کیا۔

خواجہ آصف سے سوال کیا گیا کہ اس رپورٹ کے مطابق فیول کی مد میں اربوں روپے کمائے گئے ہیں جس کا خواجہ آ صف نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ شاید کھربوں کمائے گئے ہوں۔

خواجہ آصف نے کہا کہ ہم نے نیپرا سے کہا کہ آپ ہمارا آڈٹ کرتے ہیں، جام شورو کا آڈٹ کرتے ہیں، مظفر گڑھ، فیصل آباد  اور شاہدرہ کا آڈٹ کرتے ہیں تو ان کا بھی کبھی آڈٹ کریں۔

سوال کیا گیا کہ میاں منشا کی ایک کمپنی نے اربوں روپے کمائے، راتوں رات جہاز آ گئے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ رپورٹ بنانے والوں نے اچھی خاصی عرق ریزی کی ہے، یہ ایشوز ہماری حکومت میں بار بار اٹھتے رہے ہیں، یہ ہمیں مقامی اور انٹر نیشنل عدالتوں میں لے کر گئے ہوئے ہیں اور فیصلے ہمارے خلاف آئے تھے اور ہمیں نقصان ہوا ہے، اس کی بنیادی وجہ وہ معاہدے ہیں جو کیے گئے تھے۔

جب خواجہ آصف سے سوال کیا گیا کہ کس نے معاہدے کیے تو خواجہ آصف نے کہا کہ میں نے معاہدوں کے سال بتا دیے ہیں جس پر کاشف عباسی نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ 1994 میں آصف زرداری پانی و بجلی کے وزیر تھے۔

خواجہ آ صف نے کہا کہ 2002 مشرف کا دور تھا جبکہ 2014-15 میں جو معاہدے ہوئے اس وقت وہ خود وزیر پانی وبجلی تھے۔

پاکستان کی تاریخ کا ایک بڑا مالیاتی اسکینڈل سامنے آ گیا، ہوشربا انکشافات

اربوں روپے کی چینی بے نامی اکاؤنٹس کے ذریعے فروخت کیے جانے کا انکشاف

خواجہ آصف سے سوال کیا گیا کہ کیپسٹی چارجزکی مد میں ڈالرز میں پیسے ادا کرنے پڑتے ہیں چاہے آپ بجلی استعمال کریں یا نہ کریں۔ سردیوں میں کیپسٹی 33 ہزار میگا واٹ تک پہنچ چکی ہے اور ابھی مزید بجلی شامل ہو گی جبکہ سردیوں میں چھ سے سات ہزار میگا واٹ کی ضرورت تھی۔ بجلی چھ سے سات ہزار میگا واٹ استعمال کر رہے تھے جبکہ ادائیگی 33 ہزارمیگا واٹ کی کر رہے ہیں۔

خواجہ آ صف نے جواب دیتے ہوئے موجودہ حکومت کو ذمہ دار ٹھہرا دیا کہ بجلی کا مکمل استعمال اس لیے نہیں ہو سکا کہ گزشتہ برس معیشت بیٹھ گئی تھی، بجلی کی طلب اتنی نہیں رہی جتنی 2016-17 میں تھی۔

سوال کیا گیا کہ ن لیگ کے دور حکومت میں سردیوں میں کتنی بجلی استعمال ہوتی تھی جس کا جواب دیتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ان کے دور میں سردیوں میں ہائیڈل کی پیداوار بند ہو جاتی تھی اور صرف تیل والے پلانٹس کی بجلی استعمال ہوتی تھی، سردیوں میں آٹھ ہزار میگا واٹ کے قریب بجلی استعمال ہوتی تھی۔

خواجہ آصف نے شوگر سبسڈی کی انکوائری پر کہا کہ عمران خان اور عثمان بزدار نے سہولت کار کا کردار ادا کیا ہے۔

سوال کیا گیا کہ کس کے سہولت کار ہیں، شہباز شریف کے یا میاں منیر کے جو مریم نواز کے سمدھی ہیں؟ خواجہ آصف نے کہا کہ نواز شریف کی کوئی شوگر مل نہیں چل رہی ہے، شہباز شریف کی ایک شوگر مل چل رہی ہے، آپ رپورٹ دیکھ لیں کہ کس کو کتنا فائدہ ہوا ہے، مارکیٹ میں کس کا کتنا شیئر ہے۔

کاشف عباسی نے کہا کہ سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والوں میں جہانگیر ترین، خسرو بختیار، ہمایوں اختر خان اور ان کی فیملی شامل ہے جس پر خواجہ  آصف جی جی کہتے رہے مگر میاں منیر کے حوالے سے خاموش ہی رہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت کے دوران جو ٹرانزیکشنز ہوئی ہیں میں ان کا بھی جواب دوں گا، کمیشن ہم سے  بھی ضرور جواب لے۔

خواجہ آصف سے جب سوال کیا گیا کہ یہ رپورٹ حکومت نے خود بنائی ہے تو انہوں نے کہا کہ جب حکومت کا ہاتھ دروازے میں آ گیا تو مجبوراً ان کو رپورٹ بنانا پڑی۔

انہوں نے اہم سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ای سی سی کے جس اجلاس میں اجازت دی گئی اس کا فرانزک  آڈٹ کیوں نہیں کیا جا رہا ہے؟ وفاقی کابینہ اور صوبائی کابینہ نے کیوں اجازت دی، اس کا بھی فرانزک  آڈٹ ہونا چاہئے، بیورو کریسی کے اعتراضات کے باوجود ای سی سی کے اجلاس میں ایکسپورٹ کی اجازت دی گئی۔

ن لیگی رہنما نے کہا کہ شیخ رشید کے مطابق 68.7 فیصد چینی افغانستان کو ایکسپورٹ کی گئی ہے۔

خواجہ آصف سے سوال کیا گیا کہ ن لیگ کے  آخری دور حکومت میں 2013-14 میں ساڑھے 7 لاکھ ٹن گندم ایکسپورٹ کی گئی جبکہ اسی سال پونے 5 لاکھ ٹن گندم امپورٹ کی گئی۔ جب کمی تھی تو پھر گندم ایکسپورٹ کیوں کی گئی؟

خواجہ  آصف نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر یہ بات درست ہے تو اس کی بھی تحقیقات ہونی چاہئے۔

خواجہ  آصف نے کہا کہ جب ہماری حکومت آئی تو اس وقت چینی کی قیمت 53 روپے تھی اور جب ہماری حکومت کی مدت مکمل ہوئی تو اس وقت چینی کی قیمت 52 روپے فی کلو تھی۔ جب سوال کیا گیا کہ 2016 میں چینی کی قیمت 64 روپے فی کلو تھی تو خواجہ آصف خاموش رہے۔

خواجہ آصف نےاہم سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ کپاس کا علاقہ کم ہو گیا ہے اور کپاس کے علاقہ میں روز بروز گنے کی کاشت میں اضافہ ہوتا گیا، گنے کی فصل بہت زیادہ پانی استعمال کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں چینی کی قیمتیں کم ہوتی تھیں اور پاکستان میں زیادہ ہوتی تھیں اس لیے شوگر ملز مالکان کو سبسڈی دی جاتی تھی۔ اس کا حل یہ تھا کہ گنے کی کاشت کم کر دی جائے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ امریکہ میں بہت ساری چیزیں تیار ہو سکتی ہیں مگر ان کو چین سے اس لیے امپورٹ کیا جاتا ہے کہ وہ سستی پڑتی ہیں۔ اسی طرح پاکستان میں کیوں نہیں کیا جاتا۔

ان کا کہنا تھا کہ پہلے پاکستان میں کیوبا اور برازیل سے چینی آتی تھی اور قیمتوں کا موازنہ کر کے ہی گنے کی فصل کی کاشت کا فیصلہ کیا جاتا تھا۔ پاکستان میں گنے کی فصل کاشت کرنے کے لیے پچیس سے تیس ہزار ایکڑز کے اپنے فارم بنا لیے گئے ہیں۔

خواجہ  آصف نے کہا کہ پاکستانی کپاس اور چاول کی انٹر نیشنل مارکیٹ میں بہت مانگ ہے مگر چینی میں ہم مار کھا جاتے ہیں۔

خواجہ آصف سے سوال کیا گیا کہ جب میاں برادران اپنی شوگر ملز کو جنوبی پنجاب میں شفٹ کر رہے تھے تو آپ نے آواز اٹھائی؟ خواجہ  آصف نے کہا کہ اس علاقے میں گنے کی پیداوار زیادہ ہو رہی تھی اس لیے کافی سارے ملز مالکان اس طرف اپنی ملز کو شفٹ کر رہے تھے، نواز شریف کی شوگر ملز چلی نہیں ہے، شہباز شریف نے شفٹ کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔

خواجہ آصف نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ شوگر سبسڈی پرای سی سی اور کابینہ کے فیصلے کی انکوائری کیوں نہیں کی جا رہی ہے۔

(خواجہ  آ صف نے اے  آروائی نیوز پر کاشف عباسی کے پروگرام ” آف دی ریکارڈ“ میں گفتگو کی ہے)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کا اس سے پہلے آڈٹ نہیں کرایا گیا، خواجہ آصف کا اعتراف is highly popular post having 1 Twitter shares
Share with your friends
Powered by ESSB

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site