ہزاروں ارب کے مبینہ گھپلے، آئی پی پیز کے خلاف مزید تحقیقات متوقع

آئی پی پیز کی جانب سے ہزاروں ارب روپے کے مبینہ گھپلوں کے الزامات پر مزید تحقیقات کا امکان ہے، وزیراعظم عمران خان کی زیرقیادت ہونیوالے کابینہ اجلاس میں اس بات کا امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ آئی پی پیز کے خلاف مزید تحقیقات ہوسکتی ہیں۔

وفاقی کابینہ کا یہ اجلاس 21 اپریل 2020ء کو منعقد ہوا ہے، آئی پی پیز کے معاملہ پرکابینہ اجلاس میں بحث کے دوران وزیراعظم کی کابینہ میں شامل مشیر عبدالرزاق داؤد اور معاون خصوصی ندیم بابر اجلاس سے اٹھ کر چلے گئے تھے۔

بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کا اس سے پہلے آڈٹ نہیں کرایا گیا، خواجہ آصف کا اعتراف

عوام پر بجلی کے مہنگے بلوں کا بوجھ کون ڈال رہا ہے؟ چیئرمین واپڈا نے بتا دیا

اس بات کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ آئی پی پیز کے خلاف نیب کے علاوہ انکوائری کمیشن بھی تحقیقات کرے گا جس کی ٹی او آرز ابھی طے ہونا باقی ہیں۔

 آئی پی پیز کے خلاف تحقیقات میں کابینہ اراکین کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ تحقیقاتی عمل کے دوران احتیاط برتی جائے تاکہ حقیقی سرمایہ کاروں کی حوصلہ شکنی نہ ہواور سی پیک سمیت دیگر قومی اہمیت کے منصوبوں کو نقصان نہ پہنچے۔

کابینہ کے چند ممبران کا خیال ہے کہ سی پیک کے تحت بنائے جانیوالے توانائی کے منصوبوں کی تحقیقات پاکستان کے چین کے ساتھ تعلقات میں مسائل کا سبب بن سکتی ہیں۔

آئی پی پیز کے خلاف انکوائری رپورٹ میں انکشاف ہوا تھا کہ کمپنیوں کی جانب سے معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہزاروں ارب روپے مالیت کا نفع کمایا گیا۔ رپورٹ میں الزام لگایا گیا تھا کہ گزشتہ 13 برس میں آئی پی پیز کو دی گئی سبسڈی اور گردشی قرضوں کی مد میں قومی خزانے کو 4 ہزار ارب سے زائد کے نقصانات ہوئے تھے۔

بزنس ریکارڈر کے مطابق رپورٹ میں مزید بتایا گیا تھا کہ 16 آئی پی پیز کمپنیوں نے 2 سے 4 برس کے عرصہ میں 60 ارب روپے کی سرمایہ کاری کرکے 400 ارب روپے تک منافع کما لیا تھا۔ آئی پی پیز کی جانب سے ان الزامات کی تردید کی گئی ہے۔

پاکستان کے صدر عارف علوی نے آئی پی پیز کے خلاف انکوائری رپورٹ کے انکشافات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر رپورٹ درست ہے تو پھر آئی پی پیز نے ملک کا گینگ ریپ کیا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ آئی پی پیز کا مؤقف نہ لیے جانے کے باعث یہ رپورٹ یک طرفہ ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site