وسیم اکرم اور وقار یونس کے درمیان محبتوں بھری دوستی دشمنی میں کیسے بدل گئی؟

پاکستان کے دو لیجنڈ فاسٹ بالرز وسیم اکرم اور وقار یونس آپس میں بہترین دوست تھے لیکن پھر کسی پراسرار وجہ سے ان کے تعلقات بگڑ گئے اور محبتیں رقابتوں میں بدل گئیں۔

گارڈین کے صحافی جان گریس جو ان دونوں کو خوشگوار تعلقات کے عرصہ میں جانتے تھے اور جو ان پر کتاب لکھ رہے تھے، حیرت زدہ ہیں کہ مسئلہ کہاں سے شروع ہوا۔

انہوں نے لکھا کہ کچھ کھلاڑی ایک دوسرے کو فطری طور پر ناپسند کرتے ہیں اور ان کے درمیان کوئی معمولی سی بات تصادم کا بہانہ بن جاتی ہے۔

جب تین کیچ ڈراپ کرنے پر فلنٹوف کو وسیم اکرم سے ڈانٹ پڑ گئی

2009 میں سینئر کھلاڑیوں نے کپتان کے خلاف سازش کی تھی، رانا نوید کا انکشاف

اختلافات کا جلد یا بدیر اثر مداحوں پر پڑتا ہے اور اخبارات میں سرخیاں لگنے لگتی ہیں، یہ ایسا ہی ہے جیسے کارٹون کردار حقیقت میں باہر آ گئے ہوں اور جنگ کی بجائے ایک تھیٹر کا نظارہ پیش کرنے لگیں۔

وہ لکھتے ہیں کہ کھیل کی سب سے شدید اور پریشان کن رقابتیں وہ ہیں جو باہمی دوستی اور احترام سے شروع ہوتی ہیں۔ 1990 کی دہائی کے آخر اور 2000 کی دہائی کے اوائل میں وسیم اکرم اور وقار یونس کے مابین دشمنی نے پاکستانی کرکٹ کو دھندلا دیا اور قومی ٹیم کو اپنی پوری صلاحیت استعمال کرنے سے روک دیا۔

پاکستان کرکٹ کی سب سے مہلک سٹرائیک فورس کے طور پر سمجھے جانے والے ان کھلاڑیوں کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ یہ سگے لیکن بچھڑے بھائیوں کی طرح تھے۔

صحافی و مصنف جان گریس کے مطابق دونوں میں عاجزی تھی اور اس بات پر کوئی تنازعہ نہیں تھا کہ ان پر لکھی جانے والی کتاب میں سب سے پہلے کس کا نام پیش ہوگا یا کس کو سب سے زیادہ معاوضہ ملے گا۔

انکے مطابق کتاب لکھنا ایک پرلطف اور دلچسپ پراجیکٹ تھا جس میں وہ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کر رہے تھے۔

 جب وقار کو کمر درد کیوجہ سے 1992 کے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں کھیلے جانے والے ورلڈ کپ سے محروم ہونا پڑا تو  وسیم نے ایسا کوئی کام نہیں کیا جس سے یہ معلوم ہو کہ انہیں پاکستانی ٹیم کے بہترین اوقات میں وقار کے باہر ہونے سے خوشی ہوئی۔

وسیم ذاتی طور پر ناراض دکھائی دیے کہ وقار کھیل نہیں سکتے اور پریشان تھے کہ شاید پاکستان کی جیت کے امکانات کم ہو گئے ہیں۔

جب وقار انگلینڈ کے خلاف 1992 میں ٹیسٹ سیریز کے لیے ٹیم میں واپس آئے تو نسل پرست برطانوی پریس انہیں ‘بال ٹمپرنگ’ سیریز لکھتا۔ وسیم اس سے زیادہ خوش نہیں تھے۔

ایک اننگز میں وسیم نے پانچ وکٹیں حاصل کیں اور اگلی اننگز میں وقار نے۔ یہ تقریبا ایسا ہی تھا جیسے وہ وکٹیں لینے کی باریاں لگا رہے ہوں یہاں تک کہ لارڈز میں پاکستان کی کانٹے دار مقابلے کے بعد جیت کے لیے وہ ایک ساتھ کریز پر موجود تھے۔

سابق ٹیسٹ اوپنر مدثر نذر کے مطابق  وسیم اور وقار کے مابین تعلقات میں خرابی کی شروعات 1990 کے عشرے کے وسط میں ہوئی۔1997 میں ٹیسٹ میں قدم رکھنے والے پاکستانی تیز ترین بالر شعیب اختر کے بقول اختلافات 1999 میں اپنے عروج پر تھے۔

شعیب نے اپنی کتاب ‘کنٹروورشلی یورز’ میں کہا ہے کہ وسیم اور وقار کے مابین تنازعہ 1999 میں ہونے والے ایشین ٹیسٹ چیمپئن شپ میچ سے قبل ہوا تھا۔ انہوں نے لکھا کہ دونوں سینئر لڑ رہے تھے جس سے ہم جونئیرز تذبذب کا شکار تھے۔

سچن ٹنڈولکر کی بات پر ثقلین مشتاق نے ان سے معافی مانگ لی

عرفان پٹھان کے والد کراچی میں جاوید میانداد پر ناراض کیوں ہو گئے؟

انہوں نے لکھا کہ ہم دہلی ٹیسٹ ہار گئے اور وسیم کا وقار کے ساتھ جھگڑا ہوا معاملہ اتنا خراب ہو گیا کہ افواہ پھیلنے لگی کہ وقار کو وطن واپس بھیجا جائیگا لیکن پوری ٹیم چیمپیئن شپ کے پہلے ٹیسٹ کے لیے کولکتہ روانہ ہو گئی، ڈریسنگ روم کے اندر معاملات بدتر ہو گئے، مجھے یاد نہیں ہے کہ معاملات کبھی بھی اتنے کشیدہ نہیں تھے جتنے اس وقت تھے۔

2003 میں جنوبی افریقہ میں ہونے والے ورلڈ کپ تک معاملہ ختم نہ ہوا، جب وقار کو کپتان بنایا گیا تو نصف ٹیم نے بغاوت کی دھمکی دے دی، یہ کہا گیا  کہ  وسیم اور وقار صرف ایک ثالث کے ذریعہ ہی بات چیت کریں گے، انضمام الحق وہ واحد کھلاڑی تھے جن کی دونوں کے ساتھ بات چیت تھی۔

وسیم نے دوسروں کے بارے میں ناپسندیدگی پر کھل کر بات کی، انہوں نے 2007 میں کہا کہ ہم ایک دوسرے سے اتنا نفرت کرتے تھے کہ ہم میدان میں اور باہر بھی بات نہیں کرتے تھے۔

وقار نے وسیم کے بارے میں اپنے جذبات کے بارے میں کبھی کھل کر بات نہیں کی۔

وسیم نے یہ بھی دعوی کیا کہ اس دشمنی نے دراصل پاکستان کو فائدہ پہنچایا کیونکہ اس کے باعث دونوں تیزرفتار بالرز نے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کی۔

نوجوان جن کو دونوں سے سیکھنا چاہیے تھا وہ ایک یا دوسرے کی سائیڈ لینے میں لگ گئے۔

تو کیا غلط ہوا؟ ذہن میں بہت سارے امکانات آتے ہیں۔ ایک وجہ کا تعلق احترام سے ہے۔ ابتدائی دنوں میں وقار نے وسیم کو بطور سینئر شراکت دار تسلیم نہ کیا اور جیسے جیسے وقت آگے بڑھتا گیا معاملہ برابری تک پہنچ گیا۔

لیکن دشمنی کی سب سے زیادہ وجہ خود پاکستان کرکٹ کے اندر تفرقہ پھیلانے والا کلچر ہے۔

 کسی بھی تنظیم نے پچھلے کئی سالوں میں پاکستانی کرکٹ کو اسقدر نقصان نہیں پہنچایا جتنا خود پاکستان کرکٹ بورڈ نے پہنچایا ہے۔ پی سی بی ایک ایسا ادارہ ہے جس کے ممبران عام طور پر قومی کھیل کی کامیابی سے کہیں زیادہ اپنی طاقت کو فروغ دینے اور دھڑے بندیوں میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔

یہ تصور کرنا بہت آسان ہے کہ پی سی بی کے متعدد ممبروں نے اپنے مفاد کے لیے وسیم اور وقار کے کانوں میں زہر گھولا تاکہ تقسیم کر کے حکمرانی کی جائے۔

اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ دشمنی کو شروع کرنے کی وجہ کوئی دھماکہ خیز واقعہ نہیں تھا بلکہ آہستہ لیکن موثر زہر اس کی وجہ تھا۔

ان دنوں وسیم اور وقار کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اختلافات دفن کر کے ایک بار پھر اچھے مراسم قائم کیے ہیں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اب وہ پی سی بی کی اتنی توجہ کا مرکز نہیں رہے لہٰذا زہر کے اثر ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے۔

ٹیگ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site