دفاعی بجٹ کے لیے مختص رقم سے 33 ارب روپے اضافی لینے کا انکشاف

قومی اسمبلی میں جمعہ کے روز پیش کی گئی بجٹ دستاویزات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس سال  پاکستان آرمی نے مالی سال 2019/20 کے سالانہ مختص دفاعی بجٹ سے 33 ارب روپے زیادہ بجٹ لیا ہے۔

یہ سپلمنڑی بجٹ اب قومی اسمبلی نئے بجٹ 2020/21 ساتھ منظور کرے گی۔

اسمبلی میں پیش کی گئی دستاویزات کے مطابق اس سال آرمی نے حکومت سے 33 ارب زیادہ لیے جس میں آپریٹنگ اخراجات کے لیے 17 ارب روپے دیے گئے۔

اس سپلمنڑی بجٹ کی ایک وجہ یہ بھی بتائی گئی ہے کہ رواں مالی سال فوج نے دفاعی بجٹ میں خاطرخواہ اضافہ نہیں مانگا تھا کیونکہ ملکی معاشی حالات اچھے نہیں تھے۔

موجودہ آرمی قیادت کا کہنا تھا کہ سرحدوں پر حالات خراب ہونے کے باوجود وہ ملکی خزانے سے زیادہ بجٹ نہیں لیں گے۔ تاہم اب پتہ چلا ہے کہ مالی ڈسلپن کے باوجود رواں مالی سال میں حالات ایسے ہو گئے کہ انہیں حکومت سے دفاعی بجٹ کی مد میں 33 ارب روپے اضافی لینے پڑے جن کی منظوری پارلیمنٹ نہیں دی تھی۔

وزارت دفاع کی سمری پر وزیراعظم کے دستخط کے بعد اس بھاری رقم کی منظوری ای سی سی کے اجلاسوں میں دی گئی جس کی صدارت حفیظ شیخ کرتے ہیں۔

دستاویزات کے مطابق سیکورٹی ڈویژن ساؤتھ کو 11 ارب روپے ان کے منظورشدہ بجٹ سے زیادہ سپلمنڑی گرانٹ کی شکل میں دیے گئے ہیں۔ پاکستان میڈیکل اسٹور کو 7 ارب روپے کا نیا اضافی بجٹ دیا گیا۔

اسی طرح پاکستان آرمی کو کرورنا وائرس سے متعلقہ آلات لینے کے لیے فوری طور پر 2 ارب روپے دیے گئے۔ سول ورکس کے لیے 2.7 ارب روپے، ائرفورس اور پاک نیوی کو بھی مختلف مد میں چھ ارب دیے گئے۔

وزارت داخلہ کے سیسنا جہاز کی مرمت کے لیے 31 لاکھ جب کہ پاکستان ایران سرحد پر باڑ لگانے کے لیے 3 ارب روپے دفاعی بجٹ کے نام پر دیے گئے ہیں۔

ٹیگ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site