ڈالر اوپر جانے سے پی ایس او کو 20 ارب روپے کا بڑا جھٹکا لگنے کا انکشاف

ڈالر کی روپے کے مقابلے میں بہت زیادہ قدر بڑھنے کے مالی نقصانات دھیرے دھیرے سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔

قومی اسمبلی میں جمعہ کے روز پیش کی گئی سرکاری دستاویزات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان اسٹیٹ آئل کو ڈالر کی قمیتیں بڑھنے سے 20 ارب روپے کا نقصان ہوا جسے عوام کی جیب سے فوری طور پر پورا کر دیا گیا۔

جہاں ایک طرف ڈالر اوپر جانے سے پی ایس او سے 20 ارب روپے کا نقصان ہوا وہیں اس کی ڈیفالٹ ادائیگی کے نام پر 11 ارب روپے کی الگ ادائیگی بھی کی گئی ہے۔

یوں پی ایس او نے رواں سال حکومت پاکستان سے صرف ڈالر ریٹ اوپر جانے اور ڈیفالٹ ادائیگیوں کے نام پر 31 ارب روپے عوام کے ٹیکسوں سے لے لیے ہیں۔

یہ 31 ارب روپے جاری مالی سال کے بجٹ میں منظور نہیں ہوئے تھے لہذا سپلمنڑی گرانٹس کے نام پر یہ بھاری رقم جاری کی گئی۔

اس رقم کی منظوری قومی اسمبلی نئے مالی سال کے بجٹ کے ساتھ دے گی۔

بجٹ دستاویزات مطابق اس سال جب ڈالر کے ریٹ میں اچانک بہت اضافہ کیا گیا تو جہاں دیگر شعبہ زندگی کو جھٹکے لگے وہیں پاکستان اسیٹ آئل کو بھی بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

روپے کی قدر میں کمی کے بعد ڈالر اور روپے میں فرق کا خسارہ پورا کرنے کے لیے پٹرولیم ڈویژن نے وزیراعظم اور وزیرخزانہ کو سمری بھیجی تھی کہ فوری طور پر اسٹیٹ آئل کو 20 ارب روپے ادا کریں تاکہ تیل کی سپلائی جاری رہے۔

یوں ڈالر اوپر جانے سے جہاں ملکی قرضوں کی سود کی لاگت بیٹھے بٹھائے بڑھ گئی وہیں اسٹیٹ آئل جیسے ادارے بھی ڈالر گردی کا شکار ہوئے اور ایک سال میں ڈالر اور روپے کی قدر کا فرق پورا کرنے کے لیے 20 ارب روپے عوام کی جیب سے نکال کر دیے گئے۔

ٹیگ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site