بچوں پر جبر

شہر میں نور (فرضی نام) کو آئے چھ ماہ بیت چکے تھے اور ان چھ ماہ میں اسے گھر والوں کی یاد شدت سے ستا رہی تھی۔ اسکی ماں اپنے شوہر کو فالج ہونے کے بعد مناسب کام تلاش کر کے شہر چھوڑ آئی تاکہ کچھ رقم سے گزر بسر ہو سکے، اب والدین سمیت باقی بہن بھائیوں کا بوجھ بھی اسی کے ناتواں کندھوں پر آ چکا تھا۔

آج کا دن معمول سے ہٹ کر تھا، صبح چار بجے کے قریب ہڑبڑاتی ہوئی یک دم تب اٹھی جب کام کرنے والی ملازمہ نے جھنجھوڑ کر اٹھایا، جسم میں موجود تھکاوٹ کی وجہ سے اٹھنے میں دقت محسوس ہو رہی تھی اور بدن بخار کی وجہ سے تپ رہا تھا۔ اسکی آنکھیں نیند سے سرخ ہو رہیں تھی لیکن مسلسل جھنجھوڑنے پر اسے ناچار اٹھنا پڑا۔ آج بیگم صاحبہ کے گھر میں پارٹی کا اہتمام کیا گیا جس میں شہر کی نامی گرامی ہستیوں نے آنا تھا اور یہی وجہ تھی رات کو حکم صادر کیا گیا کہ ہر کام وقت پر ہونا چاہیے۔

سب نوکر چاک و چابند ہو کر بیگم صاحبہ کی ہدایات سن رہے تھے کیونکہ وہ مزاج کی انتہائی کڑوی کسیلی تھیں اور ذرا سی غلطی و لاپروائی پر  تنخواہ سے کچھ رقم کاٹ لیتی تھیں۔ نور ابھی کم عمر بچی تھی جس نے بچپن کو کھل کر ابھی جیا بھی نہیں تھا کہ حالات و مجبوریوں نے اسے ذمہ داریوں کی ڈور پکڑا دی، جن ہاتھوں کو مٹی کے گھر بنا کر کھیلنا تھا وہ شہر کی بڑی سی چار دیواروں میں قید کر دی گئی۔

دوپہر کا وقت آ چکا تھا اور مہمانوں کی آمد و رفت بھی جاری تھی۔ بیگم صاحبہ چونکہ اپنی تنظیم، جو مزدور بچوں کے اوپر ہونے والے جبر  اور انکے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کے لیے قائم کی گئی، کی افتتاحی تقریب کی خوشی میں دعوت دے رہی تھیں۔ اس تقریب میں انہیں اندرون و بیرون ملک سے بچوں پر کام کرنے کے لیے فنڈز بھی ملنے تھے۔

تقریب کا اختتام کافی اچھے طریقے سے ہوا تھا جس سے بیگم صاحبہ کافی خوش بھی تھی۔ جب وہ اپنی تقریب کے خاص مہمانوں کو گیٹ تک چھوڑنے جا رہیں تھی تو نور پردہ کی آڑ سے یہ ساری کارروائی دیکھ رہی تھی، کام کی تھکن سے ننھی جان بے حال ہو گئی تھی، میز پر مختلف اقسام کے پکوان دیکھ کر بھوک نے دستک دی کیونکہ طبیعت خراب ہونے کے باعث وہ ٹھیک سے کچھ کھا بھی نہیں پائی تھی۔

اسے بھوک نے اس قدر نڈھال کر دیا کہ موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مہمانوں کے بچے کھانے کی طرف لپکی۔ وہ کھانے میں اتنی مگن تھی کہ اسے پتہ ہی نہیں چلا کب مالکن آئی اور اسکی دھماکے دار آواز پر پلیٹ اسکے ہاتھ سے گر پڑی۔ بیگم صاحبہ کو دیکھ کر وہ ایک دم سہم سی گئی، مالکن پاس آئی اور غصہ سے اسکے گال پر دو طمانچے رسید کیے کیونکہ انہیں یہ حرکت بہت نا گوار گزری کہ جس تھالی میں وہ کھاتی ہیں اسی میں کسی گندگی میں لپٹی غریب بچی نے ہاتھ ڈالا۔

بیگم صاحبہ یہ سب دیکھ کر آپے سے ہی باہر ہو گئی تھی انہیں غریب لوگوں سے شدید نفرت تھی۔ ابھی جہاں کچھ دیر پہلے غریب مزدور بچوں پر اچھے خیالات کا اظہار کر رہی تھی اب اپنی اوقات میں واپس آ گئیں۔ نور کو اس عمل کی توقع ہرگز نا تھی ابھی وہ تھپڑ کھا کر پوری طرح سنبھلی بھی نہ تھی کہ بیگم صاحبہ نے نفرت کی آگ میں ننھی سی نور کا بازو مروڑا اور آگے کی طرف زور سے دھکا دیا وہ نا سنبھلنے والے قدموں سے بل کھاتی ہوئی شیشے کے میز کے تیز کنارے سے ٹکرائی جہاں اسکا سر لگا، دھکا اس قدر زور دار تھا کہ نور کے سر سے خون کا چشمہ سا پھوٹنے لگا، درد سے چند سکینڈ تڑپتی رہی اور تڑپتے تڑپتے زندگی کی سانسیں ہار گئی۔

بیگم صاحبہ کے لیے یہ سب توقع کے برعکس تھا، انکی سمجھ میں ہی نا آیا کہ اس مسئلہ کو کیسے حل کریں کیونکہ یہاں عزت کا معاملہ تھا۔ اس سارے معاملے کو نور کی ماں کے سامنے حادثاتی موت کا نام دیا گیا، کیا ہوا کسی کو کچھ پتہ نا تھا، اس طرح یہ دردناک کہانی ہمیشہ کی طرح دبا دی گئی۔

ایسے لاتعداد واقعات پاکستان میں موجود اونچے طبقات کی ذہنیت کی عکاسی کرتے ہے، نا جانے  کتنے معصوم بچے ہیں جو مالکان کے ظلم کا نشانہ بن کر موت کے گھاٹ اتار دیئے جاتے ہیں اور جو منظر عام پر آتے بھی ہیں تو  اثر و سوخ کی وجہ سے کیس وہیں دبا دیئے جاتے ہیں۔ غریب اور غریب کے بچوں پر ظلم کی یہ داستان آج کی نہیں بلکہ صدیوں پرانی ہے۔ معاشرہ جب مختلف طبقات پر مبنی ہو تو وہاں پر ایسی ناانصافیوں کا ہونا عام بات ہو جاتی ہے۔

پاکستان میں غریبوں کو زندگی کی سہولیات میسر نہ ہونے کے برابر ہیں، اس لیے زندگی کی گاڑی چلانے کے لیے والدین اپنی کم عمر اولاد سے روزی روٹی کمانے کا سہارا لیتے ہیں تاکہ گزر بسر میں زیادہ لوگوں کی کمائی کا حصہ آ سکے۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں لاکھوں بچے مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔ غربت کے ہاتھوں تنگ بچے اینٹیں بنانے والی بھٹیوں، مختلف کارخانوں، مکینک و کریانے کی دکانوں، ہوٹل سمیت بڑے گھروں میں کام کرتے نظر آتے ہیں

انسان کی اصل پہچان اس کے اخلاق سے ہوتی ہے، یہ اخلاق ہی تو ہے جسے انسان نے جانوروں سے عظیم رتبہ عطا کیا۔ بدلتے وقت کے ساتھ انسان انسانیت سے دور ہوتا چلا گیا ہے اور اپنے اندر نفرت، حقارت، عدم برداشت اور ظلم کو پناہ دے چکا ہے۔ با اثر لوگ ایک رائی کے دانے برابر غلطی پر گھر میں کام کرنے والے بچوں کی جان لے لیتے ہیں۔

انہیں معلوم ہے کہ غریب والدین حق کے لیے آواز بھی نہیں اٹھا سکیں گے، اگر بدقسمتی سے ایسا کر لیا جائے تو بچے کی موت کی قیمت پیسے دے کر ادا کر دی جاتی ہے، پاکستان میں بچوں کے حقوق پر کام تو ہوتا ہے لیکن نتائج کچھ بھی نہیں ہیں۔

ایک بار اشفاق احمد نے کہا۔۔قدسیہ ! نور بابا کی بات میرے دل میں کھب گئی ہے۔ فرماتے ہیں کوئی چیز خریدو تو پہلے حلال کرلو  پھر استعمال کرو۔ میں نے پوچھا۔ وہ کیسے؟ بابا جی نے بولا کہ اپنے لیے چار قمیضیں خریدو تو ساتھ کم از کم ایک قمیض اللہ کے نام پر دینے کے لیے ضرور خریدو۔ مہینے کا سودا خریدو تو ساتھ بیس سیر یا من آٹا اللہ کے نام پر دینے کے لیے ضرور خریدو۔۔اسکول میں اپنے بچے کی فیس ادا کرو تو ساتھ ہی کسی حاجت مند بچے کی فیس بھی ادا کرو۔۔اس طرح وہ خرچ جو تم اپنی ذات پر حلال ہو جائے گا۔

اگلے روز اشفاق احمد گھر لوٹے تو کیا دیکھتے ھیں کہ ایک اجنبی لڑکا گھر میں بیٹھا ھے۔ بانو قدسیہ سے پوچھا۔۔ یہ کون ھے۔ وہ بولیں ہمارے تین بیٹے مدرسے میں پڑھتے ہیں ان کے اخراجات حلال کرنے کے لیے میں نے ایک حاجت مند بچہ گھر میں رکھ لیا ھے۔ ھم اسے تعلیم دلوائیں گے اور اس کی پرورش کریں گے۔ آج بھی اشفاق کے گھر میں ایک نہیں تین لڑکے پرورش پا رہے ہیں اور باقاعدہ اسکول میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

یہ عملی مثال کے بتانے کا مقصد اخلاقی اقدار کو اجاگر کرنا ہے۔ ان تمام لوگوں کے لیے جو بچوں سے کام کرا رہے ہیں لیکن ایک مثبت قدم ان قریب بچوں کی زندگی سنوار سکتا ہے۔ حکومت کے علاوہ عوام الناس کو ضرورت ہے کہ وہ اپنے اندر اعلیٰ صفات پیدا کرے، ان بچوں پر ظلم کرنے کی بجائے ان پر شفقت بھی کا ہاتھ رکھا جا سکتا ہے تبھی معاشرہ بہتری کی طرف گامزن ہوگا۔

پاکستان میں بچوں کی مزدوری پر قانون کے بل پاس تو ہوئے ہیں لیکن ان پر کوئی خاص پیش رفت ہوتی نظر نہیں آ رہی۔ معاشرہ میں بڑھتے ظلم، تشدد اور ناانصافی کے خاتمہ کے لیے ضروری ہے کہ حکومت کوئی موثر قدم اٹھائے اور اس جبر سے بچانے کے لیے مزید قانون سازی کو فروغ دے تاکہ یہ معصوم کلیاں طبقاتی اور ظالمانہ اقتصادی نظام کے چنگل سے بچ سکیں۔

خدارا اپنے اندر موجود انسانیت و اخلاقیات کی میراث کو ختم نہ کریں معاشرہ کی بہتری صرف حکومت یا تنظیموں پر مشتمل نہیں ہے اس میں ہم سب بڑھ چڑھ کر کام کر سکتے ہیں۔ ہم سب مل کر انکے لیے کچھ نا کچھ کر سکتے ہیں اور ظالموں کے خلاف آواز کو بلند کرنا ہوگا کیونکہ طوفان جتنا تیز ہوگا بچوں پر ظلم کرنے والے اتنی جلدی اسکی لپیٹ میں آئیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site