ماضی کے مزار

یاد ِماضی عذاب گاہ یا پناہ گاہ؟

وجودیت کے امام ژاں پال سارتر نے کہا تھا کہ ماضی کو بھلایا تو جا سکتا ہے لیکن مٹایا نہیں جا سکتا۔ ماضی ہی آپ کی تعمیر و توقیر کا آئینہ خانہ ہوتا ہے۔

 فیض صاحب کیا خوبصورت بات کہہ گئے ہیں کہ غم روزگار کی دل فریبیوں نے تری یاد سے بیگانہ کر دیا۔ خدا غارت کرے اس کرونا کو  جس نے غم دوراں اور غم جاناں دونوں سے بیگانہ کر دیا ہے۔ بس جان بچاؤ، لاکھوں پاؤ کے فرط نشاط نے طبیعتوں اور زندگی کی ہاؤ ہو میں ایک ٹھہراؤ سا پیدا کر کے رکھ دیا ہے اور ماضی کے جھروکوں میں یادوں کے طلسم ہوش  ربا کے رقص کا نظارہ کرنے کے کیف و سرور آگیں لمحات میسر کر دئیے ہیں۔۔ ِ

کوئی وحشی آ پہنچا یا قیدی چھوٹ گیا؟

حال نے بے حال کر رکھا تھا، ماضی اوجھل اور مستقبل تقریباً نظر آنا بند ہو گیا تھا۔ بس جبر کا ایک سیلِ رواں تھا اور ہم سب، بے بس، اپنی خواہش کے برعکس، لیکن خود کو مختارِ کل سمجھتے ہوئے، ان جانی منزلوں کی جانب بہے چلے جا رہے تھے کہ کرونا نے زندگی کی رینگتی ہوئی گاڑی کے ہینڈ بریک کھنچ کے رکھ دیے۔

فلیش بیک

آج جب ہر شخص حال سے شکوہ کناں، مستقبل سے مایوس لیکن ماضی کے ہر رنگ میں جلترنگ، حسین اور دل نشین دیکھتا ہو، قدامت میں حسن، کلاسیکیت اور جدت میں خوف و پیچیدگی کے سائے جھلملاتے ہوئے نظر آئیں، تو مستقبل کو ترقی پذیر دیکھنا اورماضی کو کوسنا چہ معنی دارد؟

آج تم بے حساب یاد آئے

آپ میری بات چھوڑیں۔ میں ٹھہرا سدا کا جذباتی، ماضی پرست اور ناسٹلجیا کا مریض۔ آپ خود ذرا آنکھیں بند کر کے ماضی کے جھرکوں سے جھانکیں۔ آپ کو ماضی کتنا دل فریب، فرحت بخش، دل کش اور رومانٹک سا نظر آتا ہے۔ ماضی کی شخصیات، ماضی کا موسم، ماضی کی شامیں، ماضی کی تاروں بھری راتیں، حسن و عشق کی باتیں، وہ ریگ زار، ماضی کے مزار، ماضی کی اٹھکیلیاں، پیاری سکھیاں اور سہیلیاں۔۔۔ کس کس سوغات کا ذکر کیا جائے؟ یادوں کا ایک فانوس سا جگ مگ جگ مگ جل اٹھتا ہے۔

شامِ اودھ اور صبحِ بنارس

اے میرے ہم دم! حال کے دید بان سے ماضی کی جولان گاہ کا رقص تو دیکھ۔ غالبؔ نے شامِ اودھ کا فسوں خیز تذکرہ کیا ہے۔ نامعلوم شامِ اودھ کیسی ہو گی لیکن ہر کسی کی اپنی اپنی شام ہوتی ہے اور ویسی ہی خوبصورت ہوتی ہے جیسی آپ کی ہے۔ب شاعر نے یہ شعر کہہ کر معاملہ ذرا سہل کر دیا ہے۔

                                 جیسا موڈ ہو ویسا منظر ہوتا ہے

                                موسم تو انسان کے اندر ہوتا ہے

فیض صاحب اپنے مزاج اور نفیس ندرتِ خیال کے مالک ہیں۔ وہ یوں کہتے ہیں!

                               رنگ  خوشبو، زلف  لہرانے کا نام

                               موسمِ گل ہے ترے بام پر آنے کا نام

شام کا اِک پہر

 اودھ آج بھی قائم ہے لیکن وہ سہانی شامِ اودھ کہاں سے لاؤں؟ بنارس آج بھی موجود ہے لیکن وہ مستانی صبح بنارس کہاں سے لاؤں؟ وہ باتیں، وہ یادیں، وہ راتیں اور ملاقاتیں، وہ محفلیں، وہ جذبات میں ہلچل، وہ نیئرنگِ خیال، سب کچھ، دکھ وملال میں بدل چکا ہے۔ وہ ہستیاں، وہ مستیاں، سب طاقِ نسیاں ہو گئیں۔ ھائے۔۔۔غالب ؔ ہی نے کہا تھا

                                اِک تیر میرے سینے میں مارا کہ ھائے ھائے

حال کے سوداگر اور ماضی کے لیڈر

آج کے لیڈر بلاول بھٹو، نواز شریف، عمران خان، مولانا فضل الرحمن اور اسفند یار ولی ہیں؟ یہ کیا لیڈر ہوئے؟ لیڈر تو ذوالفقار علی بھٹو تھا، لیڈر تو ولی خان اور باچا خان تھے، لیڈر تو مفتی محمود اور جی۔ ایم۔ سید تھے۔ اپنے مقصد کے ساتھ بے ریا کمٹمنٹ، خلوص، سچائی، لگن اور اصول پسندی ماضی کے لیڈروں میں پائی جاتی تھی یا حال کے ستم گروں میں پائی جاتی ہے؟

         منصف ہو تو حشر اٹھا کیوں نہیں دیتے

میرے دوست سلیم گورمانی کہتے ہیں، محترمہ بے نظیر بھٹو اپنے باپ سے بڑی لیڈر تھیں۔ ذوالفقار علی بھٹو تو فوجی بغاوت کے نتیجے میں پرائم منسٹر ہاؤس سے اچانک میں گرفتار کر لیے گئے تھے لیکن محترمہ بے نظیر بھٹو  ایک آمر کی دھمکی کے باوجود موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر وطن واپس آئیں۔ بھٹو صاحب کو فیض صاحب جیسے بڑے شعرا کی کھیپ ملی جنھوں نے بھٹو صاحب کو قوم کے سامنے پورٹریٹ کیا اور ادبی دوام بخشا۔

اسی لیے بھٹو صاحب اپنے انقلابی اقدامات کے علاوہ اعلیٰ شعروادب کی وجہ سے اب بھی زندہ ہیں۔ کیٹس نے کہا تھا کہ ہر چیز فانی ہے اور جو میں لکھتا ہوں وہ لافانی ہے۔ بڑے ادب اور شاعر ہی کسی تحریک کو نکھارتے اور سنوارتے ہیں۔ سرائیکی کے نفیس و نستعلیق شاعر میرے دوست شاکر حسین کاشف کہتے ہیں، بھٹو صاحب کے بارے میں ہر شاعر نے کچھ نا کچھ ضرور لکھا ہے، بھلے مخالفت میں ہی کیوں نا لکھا ہو؟

                                    کر رہا تھا غمِ جہاں کا حساب

                                     آج تم بے حساب یاد آئے

اِک ذرا ٹھہر کہ ادب کا مقام ہے

منیر نیازی اور احمد فراز، آپ کے خیال میں بڑے شعرا نہ سہی کیوں کہ یہ ذرا ماضی قریب کے شعرا ہو گزرے ہیں؟ ماضی بعید میں فیض صاحب ایسا قدآور شاعر شاعری کی مسند پر بلا شرکت ِغیرے جلوہ افروز ہے، جن کے کلام کے سامنے ہر کس و ناکس کی شاعری کا چراغ ٹمٹماتا ہوا نظر آتا ہے۔ حال آں کہ فیض صاحب کے دور میں اسے پروپیگنڈا شاعر اور ایک خاص نظریے کا مبلغ گردانا گیا ، باقاعدہ شاعر تسلیم نہیں کیا گیا۔ اب عالم یہ ہے کہ جماعت اسلامی اور مسلم لیگ (ن،ق،ج،ض،ف وغیرہ) کے لیڈر بھی فیض صاحب اور حبیب جالب کے اشعار اپنی تقریروں میں پڑھتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ وہی فیض اور جالب جن کو یہ برسرِعام، کافر، غدار، غیر ملکی ایجنٹ اور قابلِ گردن زدنی قرار دیتے تھے۔

       بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے

اقبال خود اقبال سے آگاہ نہیں ہے

یار لوگوں نے تو علامہ اقبال کو نہیں بخشا، مغربی افکار کا پروڈیوسر قرار دیا ہے۔ حالانکہ علامہ اقبال کی انگریزی کتاب Reconstruction of religious thought in Islam  اور فارسی کتاب جاوید نامہ پڑھے بغیر اقبال کے مقام کا اندازہ لگایا ہی نہیں جا سکتا۔ لوگ تو علامہ اقبال کو سپر اسٹور سمجھتے ہیں، جہاں سے ہر موقف کی تائید کے لیے اشعار کا وافر ذخیرہ موجود ہے۔ جب اور جہاں چاہا اپنی مرضی کا شعر کلامِ اقبال سے لے لیا۔ جمہوریت، اسلام، سوشل ازم، فرد، قوم، مغربی تہذیب، عورت، آزادی، کارل مارکس، نطشے الغرض جو چاہیے، مال اسٹاک موقع پر موجود ہے۔ ہر موقع پر فائدہ اٹھائیں اور مستفید ہوں۔

اب عناصر میں اعتدال کہاں

پھولوں میں وہ خوشبونا دھنک میں وہ رنگ، نا دوستوں کا سنگ، بادو باراں نا ابر بہاراں، مرغی کی ٹانگ، سیب کے چَک، یار کے رخسار اور آم کے رَس میں وہ چَس کہاں جو ماضی میں ہوا کرتی تھی۔ ماضی کی موسیقی کانوں میں رَس گھولتی ہے اور گلوکاروں کے گلے میں بھگوان بولتا ہے، کیا اب بھی ایسا ہی ہے؟ حتیٰ کہ پانی میں بھی شراب کی سی تاثیر ہوا کرتی تھی۔ فریج اور ڈسپنسر کا پانی کر بھی وہ سکون اور سرور نہیں ملتا جو کچی مٹی کے گھڑے کا پانی پی کر ملا کرتا تھا۔ آج کے پانی میں پانی بہت ہے۔ پانی، پانی کی طرح پھیکا لگتا ہے۔ ماضی کا تو درد بھی میٹھا میٹھا ہوا کرتا تھا۔ آج کا درد کرب ناک، اذیت ناک یعنی درد میں ایک الگ سے ٹیس سی محسوس ہوتی ہے۔ چائے اور سگریٹ بھی شاید، اسی ذائقے کی تلاش میں، بار بار پی جاتی ہے جو ماضی میں کہیں کھو چکا ہے۔

    ورنہ سگریٹ میں خالی دھوئیں کے سوا رکھا کیا ہے؟

                                          سائنس کا کلیجہ

ایک دن باتوں باتوں میں یار جانی کہنے لگے کہ جہاں تک سائنس کے ماضی کی بات ہے، آپ کی سائنس کے پاس دو چار ہی تو بندے ہیں، جن کے گرد پوری سائنس گھومتی ہوئی نظر آتی ہے۔  کہنے لگے!

 جب نیوٹن نے حرکے کے تین قوانین اورکشش ثقل کے نظریات پیش کیے تو پوری دنیا کے سائنس دان، اسکالرز، دانش ور، علماء، محققین اور عوام سب حیرت اور مسرت سے ناچنے لگے کہ سائنس میں معلوم کرنے کے لیے اب باقی رہ کیا گیا ہے؟ سب کچھ تو نیوٹن نے بیان کر دیا ہے۔

ایک بار تو گھوم کے رہ گئی ایڑی سیدھے پاؤں کی

پھر جوشِ جذبات میں آ کر یار جانی کہنے لگے کہلیکن آئن سٹائن نے بظاہر ایک چھوٹی سی مساوات E=mc2  دے کرسائنس، نیوٹن اور عوام کے بوتھے پھیر کے رکھ دیے۔ تب جا کرمعلوم دیا کہ سائنس ہو یا ادب، شخصیات ہوں یا نظریات کوئی بھی بات اٹل ہے نا فائنل!

زاہد بلوچ سے میرا ٹاکرا اور ٹکراؤ

زاہد بلوچ میرے ہم قدم بلکہ ہم دم، میرے دوست اور ہماری ٹیم کے با صلاحیت آدمی ہیں۔ آپ آب صفت آدمی ہیں جو ہر برتن میں ڈھل جاتا ہے لیکن اپنی صفت برقرار رکھتا ہے۔ آپ دوہری قومیت رکھتے یعنی سرائیکی بھی ہیں اور بلوچ بھی! آپ میں سرائیکیوں والی نیاز مندی بھی ہے اور بلوچوں والا طنطنہ بھی۔ ان سے میرا ٹاکرا کہاں ہوا اور وہ ٹکراؤ میں کیونکر بدل گیا؟ یہ ایک پراسرار کہانی ہے۔۔۔ اور ابھی اسرار کشائی ہوا چاہتی ہے لیکن یہ آخری بند ہے، اس کے بعد دعا۔۔۔!

فیض آباد: اسلام آباد کا آغاز یا اختتام؟

میں اسلام آباد سے راولپنڈی کی طرف جا رہا تھا۔ جب اسلام آباد اور راولپنڈی کی حدِ فاصل (یعنی فیض آباد) پر پہنچا توزاہد بلوچ راولپنڈی سے اسلام آباد کی طرف آ رہا تھا کہ یہاں پر ہماری ملاقات ہو گئی اور یہیں سے ہمارا جھگڑا شروع ہوا۔ اب ذرا توجہ درکار ہے کیونکہ آگے چل کر آپ نے فیصلہ دینا ہے کہ حق کیا ہے اور باطل کون؟ تو میں عرض کر رہا تھا! سلام دعا، حال احوال اور باتوں باتوں میں زاہد بلوچ کہنے لگے دیکھ یار یہاں سے اسلام آباد شروع ہو رہا ہے، یہاں سے ملک کی شکل ہی بدل جاتی ہے۔ یہاں سے واضح محسوس ہوتا ہے کہ یہاں تک ہے عوام کی حدود ومحدوداوقات، اب خواص کا علاقہ شروع ہوا چاہتا ہے۔ میں نے دست بستہ عرض کیا! بلوچ صاحب، یہاں (فیض آباد) سے اسلام آباد شروع نہیں ہو رہا بلکہ یہاں (فیض آباد) پر اسلام آباد ختم ہو رہا ہے، راولپنڈی شروع ہو رہا ہے۔ بات تو تکار اور چیخ وپکار تک پہنچ گئی لیکن فیصلہ نا ہو سکا کہ یہاں سے اسلام آباد شروع ہو رہا ہے یا یہاں پرشہرِ اقتدار ختم ہو رہا ہے؟ اس بنیادی اختلاف سے ہمارا جھگڑا شدت اختیار کرتا چلا گیا۔ بات گالم گلوچ، جھوٹ سچ، حق باطل تک پہنچ گئی اور یہ قضیہ کسی طرح بھی ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ ۔نا معلوم اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے؟

گالی اور گولی کے بجائے پہلا صلح جو پٹھان

 پٹھانوں کے بارے میں سنا تھا کہ شعر کی داد بھی واہ کے بجائے گولی کی ٹھائیں سے دیتے ہیں اور خیبر کے علاقے میں جوں ہی فلم کا گانا شروع ہوتا ہے، گولیوں کی تڑتڑتڑ۔۔۔ ہوائی فائرنگ شروع ہوجاتی ہے اور اسی لیے احتیاطاً سینما ہال کی کنکریٹ کی چھت نہیں ہوتی تاکہ فائر کو اوپر جانے اور بارش کو اندر آنے میں آسانی رہے۔ لیکن ہماری زندگی میں آنے والے پہلے صلح جو پٹھان اور دوسرے مہربان، ٹیم کی جان، قسمت خان نے ہمیشہ کی طرح دونوں فریقوں کو راضی اور خوش کر کے صلح کرانے کی کوشش کی، مگر کیسے؟ یہ ذرا دلچسپ صورتِ حال ہے! تو سنیں کہ قسمت خان نے کیا گل کھلائے؟

قسمت خان نے کہا کہ آئن سٹائن کہتا ہے، آپ دونوں ٹھیک کہتے ہیں۔ میں نے کہا پھر وہی بات؟ آپ آج تک کسی کو منہ پہ غلط اور کسی کو ٹھیک کہنے کی جرات پیدا نا کر پائے؟ حق ایک ہوتا ہے اور باطل کئی ایک! دو اور دو چار ہی ہوتے ہیں۔ ہر امیر غریب، عالم جاہل، زمین آسمان پر، ہر جگہ دو اور دو چار ہی ہوتے ہیں۔ اس میں تو کوئی دوسری رائے ہی نہیں؟ خان صاحب ہر جگہ ڈپلومیسی نہیں چل سکتی؟ یہ سائنس ہے سائنس، کوئی خالہ جی کا واڑہ نہیں۔ یہ کیا؟ اِدھر ڈوبے اُدھر نکلے اُدھر ڈوبے اِدھر نکلے۔

قسمت خان ذراجو کھسیانے ہوئے ہوں۔ نعرہ مستانا بلند کرتے ہوئے کہنے لگے! بس بس مبارک ہو! آپ نے سوال کر کے سارا مسئلہ ہی حل کر دیا۔ تو اب ذرا سنو اور سکون سے سنو اور سمجھنے کی کوشش کرو، بڑے آئے دانش ور؟ میری طرف رخِ مبارک موڑ کر یوں گویا ہوئے کہ سائنس میں ہر چیز حتمی اور یقینی ہوتی ہے۔ یہ بات نیوٹن کہتا ہے لیکن آئن سٹائن کیا کہتا ہے؟

قسمت خان کہنے لگے کہ آئین سٹائن بڑی عجیب اور حیرت ناک باتیں کرتا ہے۔ اس نے سائنس کا حتم ویقین ختم کر دیا۔ سوائے روشنی کی رفتار کے ہر چیز کو اضافی قرار دے دیا۔ سوائے روشنی کی رفتار کے، جو ہر جگہ اور ہر وقت ایک لاکھ 86 ہزار کلومیٹرفی سیکنڈ ہی ریتی ہے۔ آئزن برگ نے اصولِ لاتیقن کا نظریہ دے کر کئی صدیوں پر محیط محنت و مشقت سے حاصل کردہ یقین کی دولت کے تابوت میں تشکیک کا کیل ٹھونک کرسائنس میں ہمیشہ کے لیے امکانات کے در کھول دیے۔ بات ہو رہی تھی سائنس کے ماضی کی اور پھربیاں تھا یار جاؔنی کا کہ زاہد بلوچ نے ایک اور قضیے میں الجھا دیا۔

سائنس میں بھی وہابی ہوتے ہیں

 یار جانی سائنس کے ماضی، نیوٹن اور آئن سٹائن پر بات کرتے کرتے اچانک قہقہے لگاتے ہوئے کہنے لگے کہ سائنس میں بھی فرقے ہوتے ہیں اورفزکس میں ایک ہی فرقہ ناجی اور نوری ہے۔ کہا کہ یہ جو روشنی کی رفتار ہے نا، یہ ہی ایک چیز مطلق ہے۔ باقی کائنات کی تمام چیزیں اضافی ہیں۔ لہٰذہ آئن سٹائن اورروشنی کی رفتار کو ماننے والے تمام لوگ برحق ، ناجی اور نوری ہوئے اور باقی سب باطل، فاسق اور فاجر۔۔۔ ہا ہا ہا۔۔۔ ہاتھ لا استاد کیسی کہی؟

پھر گویا ہوئے کہ فزکس میں اب بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو پرانے دقیانوسی اور قدیم مادی نظریات سے چمٹے ہوئے ہیں۔ انھیں کوئی دلیل بھی، خواہ کتنی ہی ٹھوس کیوں نا ہو، اپنے فرسودہ نظریات سے کنارہ کش نہیں کر سکتی۔

میں نے جھینپتے ہوئے یار جانی سے استفسار کیا کہ جیسے آپ پیپلزپارٹی سے چمٹے ہوئے ہیں؟ میری بات کو نظر انداز کرتے ہوئے کہنے لگے کہ بعض لوگ آج بھی کئی سو سال قبل پیش کیے گئے نظریہ مادیت  سے چمٹے ہوئے ہیں۔ ان کا نیوٹن، آئن سٹائن، آئزن برگ اور اسٹیفن ہاکنگ بھی کچھ نا بگاڑ سکے۔ جس طرح تم ماضی کے کھنڈرات، بوسیدہ نظریات، ماضی کے افسانوں اور دل رُبا انسانوں کے سحر میں جکڑے ہوئے ہو۔ اگرچہ بنیاد کے بغیر عمارت کا تصور نہیں کیا جا سکتا لیکن عمارت کے بغیر بنیاد کا بھی کوئی معنی نہیں کیا۔ آپ کے علامہ اقباؔل ہی فرما گئے ہیں!

            آئینِ نو سے ڈرنا، طرزِ کہن پہ اڑنا

        منزل یہی کٹھن ہے، قوموں کی زندگی میں

ہر رات کی ایک سحر ہوتی ہے

تم دیکھنا، ایک دن ایسا سائنسدان ضرور آئے گا جو میڈیکل سائنس میں انقلاب برپا کر دے گا۔ آئن سٹائن کی طرح میڈیکل سائنس کی E=mc2 دے گا جو تمام طبی امراض، پیچیدگیوں، رنجیدگیوں اور مسائل کا حل فراہم کردے گی۔ یہ ہی ایک مساوات پلٹ کرتمام طبی اسطو خودوس  قسم کی لاینحل اور سمجھ میں نا آنے والی بوالعجب بیماریوں کے خم ٹھونک بجا کرایک حروف تہجی کے الف کی طرح سیدھا کر دے گی۔ ایک قطرہ، ایک انجکشن، ڈراپ، گولی یا ایک کیپسول ضرور بنے گا، جو فزیالوجی، اناٹومی، فارماکولوجی اور بائیو کیمسٹری کی پرپیچ راہداریوں کو صراطِ مسقیم پر لے جائے گا۔

مزید کہا کہ یہ تمام تشخیصی آلات و مراحل، القِسم، اسٹیتھو اسکوپ، پتھالوجی، الٹرا ساؤنڈ، ایکس رے، تھرما میٹر، بی۔پی اپریٹس، سٹی اسکین، ایم۔آر۔آئی، ریڈیالوجی وغیرہ ایک ہی مساوات میں سمو جائیں گے۔ جس طرح ریڈیو، ٹی۔ وی، کمپیوٹر، ٹیپ ریکارڈر، ٹیلیفون، ٹارچ، کیمرہ، ٹائپنگ اور فیکس مشین ایک ہی اینڈرائڈ فون  میں سکونت پذیر ہیں۔ یہ بیکٹیریا، الجی، فنجائی اور فنگس کس کھیت کی مولی ہیں؟ ان سے مرنا انسان اپنی توہین سمجھے گا۔ ایک وقت آئے گا جب انسان ہر طرح کے وائرس کی ناکامی، نامرادی اور ذلت پر قہقہے لگاتے پھریں گے۔ آپ بھی ماضی کی پرستش چھوڑ کرمستقبل میں آنے والی میڈیکل سائنس کی E=mc2 کاانتظار کرو۔

                                     یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید

                                    کہ آ رہی ہے صدائے کن فیکون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site