دل ڈھونڈتا ہے وہی زمانہ

آج جنید جمشید مرحوم کا گانا یاد آ گیا کہ ‘دل ڈھونڈتا ہے وہی زمانہ جس کا سنا ہم نے دیکھا نہیں’، خیر وہ زمانہ ہماری نسل نے تو دیکھا ہوا ہے لیکن ہمارے بعد آنے والی نسلوں نے نہیں دیکھا۔

وہ زمانہ جب گھر کا بزرگ اور سربراہ گھر میں داخل ہوتا تھا یا گھر کے کسی حصے میں آتا تھا تو سب افراد اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوتے تھے اور عورتیں اپنے سر کو چادر یا دوپٹّے سے ڈھانپ دیتی تھیں۔ ایسا سب اس بزرگ یا گھر کے سربراہ کے احترام میں کیا جاتا تھا۔ صدارتی کرسی انکے احترام میں چھوڑ دی جاتی تھی، ماحول بتا دیتا تھا کہ ابا جان بیٹھے ہوئے ہیں اور اب گفتگو انکی موجودگی کی وجہ سے ادب و احترام کے دائرے میں رہ کر ہو گی۔

تہذیب، روایات اور بڑوں کی عزت اور لحاظ اس زمانے کا خاصہ ہوا کرتا تھا، مجال ہے کہ ابو جان کے سامنے ہلکی سی بھی اونچی آواز میں بات کی جا سکتی ہو، کوئی بات منوانی ہوتی تو امی جان کا سہارا لینا پڑتا تھا۔ ہر گھر میں اکثر ایک ہی گاڑی ہوتی تھی اور وہ مکمل طور پہ ابا جان کے کنٹرول میں ہی رہتی تھی، کسی دن اگر اپنے استعمال کیلئے مل جاتی تھی تو وہ دن عید کی طرح لگتا تھا اور خوشی اپنے عروج کو پہنچی ہوئی ہوتی تھی کہ آج تو دوستوں پہ رعب پڑے گا۔

تایا، چچا یا ماموں کے رشتے کو تو چھوڑئیے، اگر کوئی کزن خود سے صرف دو سال بھی عمر میں بڑا ہوتا تھا تو اسکو بھائی جان کہہ کر مخاطب کیا جاتا تھا اور سگریٹ پینے اور سگریٹ پیتے ہوئے پکڑے جانے کا خوف ہوتا تھا۔

پھر کیا ہوا؟ ہم اور ہمارا معاشرہ کیوں بدل گئے، کیوں آج گھر کے بڑوں کی وہ عزت اور لحاظ نہیں ہے جو پہلے ہوا کرتی تھی؟ آجکل اگر کسی کو کوئی اچھی بات یا حق سچ کی بات سمجھائی جائے تو اسکو سمجھنا تو بہت دور کی بات ہے اسکے برعکس کند ذہن اور تنگ سوچ کا الزام لگ جاتا ہے۔

کہا جاتا ہے ہے کہ مرد عورت کا رکھوالا ہوتا ہے اور لوگ اس عورت کی زیادہ عزت کرتے ہیں جس کا شوہر اسکی قدر و عزت کرتا ہو، لیکن آج کے دور میں اگر مرد عورت کو یا عورت مرد کو کچھ سمجھائے تو یہ مخلصانہ کوشش اور سچائی اچھی نہیں لگتی اور فوراً سے پیشتر دم گھٹنے لگتا ہے۔

جو گھر رشتہ داروں اور پڑوسیوں کیلئے ہر وقت کھلے رہتے تھے اب انہی گھروں کے والدین اپنے بچوں کیلئے بوجھ بن جاتے ہیں۔ گھر میں مہمان زیادہ آ جاتے تھے تو بچوں کو پڑوسیوں کے گھر بھیج دیا جاتا تھا اور پڑوسی بھی اُف تک نہیں کرتے تھے کیونکہ انکو بھی یہی سہولت پڑوسی سے مل جاتی تھی۔

پہلے خاندانی، اچھے اور بہتر کردار والوں کی عزت کی جاتی تھی اور آجکل جس کے پاس جتنا زیادہ پیسہ ہے اسکی اتنی ہی زیادہ عزت کی جاتی ہے اور یہ بالکل نہیں سوچا اور پوچھا جاتا کہ یہ کمائی کہاں سے آئی ہے۔

ہم سب مغربی طرز کی آزادی تو ضرور چاہتے ہیں لیکن یہ نہیں سوچتے کہ اس طرح کی آزادی ہمارے معاشرے کیلئے موزوں نہیں ہے بلکہ اخلاقی طور پہ معیوب ہے۔

نوجوان نسل کی تو بات چھوڑئیے آجکل کے ماں باپ بھی لبرل ہونے کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ہم اپنے بچوں کی آزادی اور ذاتی زندگی میں مداخلت نہیں کرتے اور یہ بات وہ بڑے فخر یہ انداز میں بیان کرتے ہیں۔

اس طرح کی مزید بہت سی فضول مغربی روایات کو اپنانے کے شوق نے ہمارے معاشرے اور خاندانی نظام کو نیست و نابود کر کے رکھ دیا ہے۔ ہمیں ہر صورت صرف مغربی طرز کی آزادی چاہئے، باقی روایات، تہذ یب اور تمدن کی ایسی کی تیسی۔

سوال یہ ہے کہ یہ مغربی وائرس کیسے ختم ہو گا؟ یہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site