جسٹس عیسیٰ وزیراعظم سمیت پی ٹی آئی رہنماؤں کی لندن میں جائیدادیں سامنے لے آئے

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وزیراعظم عمران خان اور زلفی بخاری سمیت پاکستان تحریک انصاف کے کئی راہنماؤں کی لندن میں موجود جائیدادوں کی تفصیل سپریم کورٹ میں پیش کر دی ہے۔  

تفصیلات کے مطابق صدارتی ریفرنس کے خلاف دائر درخواست میں جسٹس عیسیٰ نے اضافی جواب جمع کرایا ہے جسکے مطابق وزیراعظم کے مشیر برائے احتساب کی برطانیہ میں پانچ جائیدادیں ہیں جبکہ وزیر اعظم کی اپنی 6 جائیدادیں ہیں۔

تحریری جواب کے مطابق زلفی بخاری کی بھی برطانیہ میں سات جائیدادیں ہیں جبکہ عثمان ڈار کے نام پر تین اثاثے ہیں۔

جسٹس عیسیٰ کی جانب سے جمع کرائے گئے تحریری جواب کے مطابق سابق وزیراطلاعات فردوس عاشق اعوان اور جہانگیر ترین کے نام ایک ایک جائیداد ہے جبکہ سابق ڈکٹیٹر پرویز مشرف کی بھی برطانیہ میں دو جائیدادیں ہیں۔

سپریم کورٹ کا 10 رکنی فل کورٹ بنچ صدارتی ریفرنس کے خلاف جسٹس عیسیٰ کی درخواست پر سماعت کر رہا ہے جہاں حکومتی وکیل بیرسٹر فروغ نسیم کے دلائل جاری ہیں۔

جسٹس عیسیٰ نے وضاحت کی ہے کہ وہ یہ الزام نہیں لگا رہے کہ یہ اثاثے انکم ٹیکس قوانین، یا فارن ایکسچینج سمیت منی لانڈرنگ کے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بنائے گئے ہیں۔

انہوں نے موقف اختیار کیا کہ ایف بی آر کو ان رہنماؤں کا ریکارڈ چیک کرنا چاہیے اور یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ انہوں نے کتنی آمدن ظاہر کی اور کتنا ٹیکس دیا اور یہ بھی دیکھا جائے کہ کیا انکی آمدنی ان ذرائع سے ہوئی ہے جو انکم ٹیکس سے مستثنیٰ ہیں۔

تحریری جواب میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ اداروں کو تحقیقات کرنی چاہیے کہ کیا یہ پیسہ غیر قانونی طریقے سے تو باہر نہیں گیا۔

اپنے تحریری جواب میں جسٹس عیسیٰ نے موقف اختیار کیا کہ تمام تحقیقات میں ان افراد کو وضاحت کا موقع ملنا چاہیے اور بغیر وضاحت اور ثبوت کے یہ الزام نہیں لگنا چاہیے کہ ان افراد کی اہلیہ کے ناموں پر یہ اثاثے ہیں۔

انہوں نے مزید سوال اٹھایا کہ اگر وزیر اعظم کے مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر تنخواہ نہیں لے رہے تو وہ اپنے اخراجات کیسے برداشت کر رہے ہیں۔

اے آر یو کے حوالے سے جسٹس عیسیٰ نے کہا کہ شہزاداکبر کی تقرری کے حکمنانے میں ان کی خدمات کی نوعیت کا کہیں ذکر نہیں جبکہ اے آر یو کسی کو جوابدہ نہیں کیونکہ اسکا سربراہ شہزاد اکبر خود ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کے مہذب ممالک میں ایسی کوئی نظیر نہیں ملتی، درحقیقت اے آر یو کے لیے کوئی قانون سازی نہیں کی گئی اور منتخب نمائندوں کو اس معاملے میں بائی پاس کیا گیا جس سے آئین کی دھجیاں اڑا دی گئیں۔

ٹیگ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close

Adblock Detected

We are working hard for keeping this site online and only showing these promotions to get some earning. Please turn off adBlocker to continue visiting this site
جسٹس عیسیٰ وزیراعظم سمیت پی ٹی آئی رہنماؤں کی لندن میں جائیدادیں سامنے لے آئے is highly popular post having 6 Twitter shares
Share with your friends
Powered by ESSB